تحصیل ماموند میں قیامتِ صغرا

Blogger Hilal Danish

ہجرت بھی وہی، درد بھی وہی…… خیمے بدلتے ہیں، مگر زخم وہی رہتے ہیں……!
باجوڑ پاکستان کے شمال مغربی کنارے پر واقع وہ وادی ہے، جہاں کبھی شام کے سائے تندور کی خوش بو اور بچوں کی قلقاریوں سے مہکتے تھے، آج ایک بار پھر دھوئیں اور خاموشی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
تحصیلِ ماموند کے لوگ ایک بار پھر نقلِ مکانی پر مجبور ہیں۔ کچے صحن، مٹی کی دیواریں، بزرگوں کی یادیں اور بچپن کے خواب سب پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ خیمے نئے ہیں، مگر آنکھوں کے زخم پرانے ہیں۔
٭ اجنبیت کے سائے میں زندگی:۔ 40 سالہ حاجی رحمت خان، جو اَب ایک عارضی کیمپ میں رہایش پذیر ہیں، کانپتی ہوئی آواز میں بتاتے ہیں: ’’یہ تیسری بار ہے جب مَیں نے اپنے گھر کو چھوڑا ہے۔ ہر بار سوچتا تھا کہ یہ نقلِ مکانی آخری ہوگی…… مگر ہر بار وہی انجام……!
12 سالہ عائشہ کی ماں، جس کا شوہر حالیہ گولہ باری میں زخمی ہوا، خیمے کے کونے میں بیٹھی کپڑوں کا پرانا تھیلا سہلا رہی تھی۔ کہتی ہیں: ’’یہ تھیلا میرا جہیز ہے…… باقی سب مٹی میں مل گیا۔ اَب یہی میرا گھر ہے۔‘‘
٭ ریاست اور عوام کا بوجھ:۔ تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی اور عسکری آپریشنوں میں سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں نے اُٹھایا ہے۔ کبھی گولی کا رُخ اُن کی طرف ہوا، کبھی بارود کی بو اُن کے گھروں میں بسی…… اور کبھی ہجرت کے طویل قافلوں میں وہ خالی ہاتھ چلتے رہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نقصانات کی فہرست طویل ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہر بے گھر خاندان کی اپنی ایک داستانِ غم ہے، جسے شاید ہی کوئی سننے والا ہو۔
٭ ایک نہ ختم ہونے والا سفر:۔ باجوڑ کے مہاجرین کے لیے ہجرت اَب کوئی واقعہ نہیں، ایک معمول ہے۔ خیموں کی جگہ بدلتی ہے، چہروں پر گرد جم جاتی ہے، اور امید ہر بار ذرا کم زور ہو جاتی ہے۔
مائیں بچوں کو بہلا کر کہتی ہیں: ’’یہ سب وقتی ہے، مگر دل جانتا ہے کہ یہ وقتی نہیں یہ ایک دائروی قید ہے، جس میں نسلیں قید ہیں۔
٭ اجنبی شامیں، ویران گلیاں:۔ ماموند کے وہ راستے جہاں کبھی خوشی کے شادیانے بجتے تھے، آج سنسان ہیں۔ گلیوں میں قدم رکھنے سے پہلے دل میں خوف اور آنکھوں میں ماضی کا سایہ تیر جاتا ہے۔ چند نوجوان، جنھوں نے اپنے تعلیمی خواب کھو دیے، کہتے ہیں: ’’ہم پڑھائی چھوڑ کر مزدوری پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بندوق اور بم نے ہماری کتابیں چھین لی ہیں۔‘‘
٭ ایوانِ بالا میں سینیٹر مولانا عطاء الرحمان صاحب کی توجہ دلاؤ نوٹس:۔
سینیٹر مولانا عطاء الرحماں صاحب نے توجہ دلاؤ نوٹس بھی جمع کی، جس کے الفاظ یوں ہیں: ’’محترم چیئرمین! مَیں اس معزز ایوان کی توجہ اس نہایت سنگین انسانی المیے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ماموند میں جاری حالیہ آپریشن کے نتیجے میں بے شمار عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں، جب کہ ایک بڑی تعداد اپنے گھروں میں محصور ہے اور اُنھیں بروقت طبی امداد تک رسائی حاصل نہیں۔‘‘
سینیٹر صاحب آگے کہتے ہیں: ’’یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کے آپریشنوں سے قبل عوام کو حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے؟
کیا زخمیوں کے علاج اور اُن کی فوری منتقلی کے لیے ایمرجنسی پلان موجود ہے ؟
مَیں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ:
٭ متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو اور میڈیکل کیمپ قائم کیے جائیں۔
٭ آیندہ ایسے آپریشنوں سے قبل عوامی آگاہی اور محفوظ انخلا کے انتظامات کیے جائیں۔
٭ فریقین فوری اور پائیدار جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
مجھے کہنے دیں کہ یہ صرف ایک سیکورٹی آپریشن نہیں، یہ ایک انسانی المیہ ہے، جس پر فوری اور سنجیدہ ردِعمل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے