رفتار ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک کشش کا باعث رہی ہے۔ زمانۂ قدیم میں گھوڑوں کی دوڑ، رتھوں کی بازی یا پانی میں بادبانی کشتیوں کی دوڑ ہو، انسان نے ہمیشہ آگے بڑھنے اور دوسروں سے سبقت لے جانے کی خواہش کو اپنے دل میں بسائے رکھا۔ آج کے جدید دور میں یہ طلب موٹر سائیکلوں کی تیز رفتار سواری میں جھلکتی ہے۔
موٹر سائیکل، جو کبھی صرف ایک سہولت کا ذریعہ تھی، اب شوق، فیشن، مقابلہ بازی اور بعض اوقات انا کا اظہار بن چکی ہے…… مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ رفتار کی طلب، جو بہ ظاہر بے ضرر نظر آتی ہے، کہیں جان کے خطرے کا روپ تو نہیں دھار رہی؟
روزمرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان سڑکوں پر تیز رفتاری سے موٹر سائیکل دوڑاتے نظر آتے ہیں۔ وہ سگنل توڑتے ہیں، گاڑیوں کے درمیان سے زیگ زیگ کرتے ہوئے گزرتے ہیں اور بعض تو ون وہیلنگ جیسے خطرناک کرتب دکھانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ چند لمحوں کی مسرت اور دوسروں پر برتری ثابت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، مگر ان لمحوں کی قیمت اکثر ایک پوری زندگی کی تباہی ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا سا حادثہ جسمانی معذوری، دماغی صدمہ یا بدترین صورت میں جان کے زیاں کا سبب بن سکتا ہے۔
موٹر سائیکل کے حادثات کے اعداد و شمار اس خطرے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔ روزانہ سیکڑوں لوگ سڑکوں پر اپنی جان گنواتے ہیں یا شدید زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ ان حادثات کی سب سے بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، بے پروائی، ہیلمٹ نہ پہننا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ان حادثات کا شکار اکثر نوجوان ہوتے ہیں، جو قوم کے مستقبل کی اُمید ہوتے ہیں، جو اپنے والدین کے خوابوں کا مرکز ہوتے ہیں، جو اپنے بہن بھائیوں کی خوشیوں کا سہارا ہوتے ہیں۔
حادثے کا دُکھ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بل کہ پورے خاندان پر ایک ایسا غم طاری ہوجاتا ہے جو برسوں تک ختم نہیں ہوتا۔ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، باپ کی اُمیدیں دم توڑتی ہیں، بہن بھائیوں کی ہنسی خوشی سسکیوں میں بدل جاتی ہے۔ دوستوں کی محفلیں اُداس ہو جاتی ہیں اور محلے میں ایک ویرانی سی چھا جاتی ہے۔ ایک غلطی، ایک لمحے کی بے احتیاطی نہ صرف ایک جان لے لیتی ہے، بل کہ کئی زندگیاں اندھیروں میں ڈوب جاتی ہیں۔
تیز رفتاری کا نشہ بعض اوقات خود اعتمادی کو غرور میں بدل دیتا ہے۔ نوجوان یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ ماہر ڈرائیور ہیں، اُن کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، مگر سڑک کے خطرات عمر دیکھتے ہیں نہ تجربہ۔ ایک چھوٹا سا پتھر، ایک معمولی سی پھسلن، ایک لمحے کی توجہ کی کمی یا سامنے سے آنے والی کوئی گاڑی…… اور پھر سب کچھ لمحوں میں ختم ہوجاتا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سڑک پر محفوظ ڈرائیونگ نہ صرف اپنی زندگی کی حفاظت ہے، بل کہ دوسروں کے حقِ زندگی کا بھی احترام ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے میں ٹریفک قوانین کے احترام کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں ٹریفک کی تربیت کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ میڈیا پر محفوظ ڈرائیونگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی مہمات چلائی جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے قانون کی پاس داری اور صبر و تحمل کی تعلیم دیں۔ حکومت کو بھی سخت قوانین اور اُن پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بے پروائی کے مرتکب افراد کو بروقت سزا ملے اور ایک سبق آموز مثال قائم ہو۔
ہیلمٹ پہننا کوئی آپشن نہیں، بل کہ زندگی کی ضمانت ہے۔ رفتار کی حد کا احترام کرنا محض ایک قانون کی پاس داری نہیں، بلکہ ایک ذمے دار انسان ہونے کی نشانی ہے۔ موبائل فون کے استعمال سے پرہیز، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ سے گریز اور سڑک پر دوسروں کا خیال رکھنا محفوظ سفر کی بنیاد ہیں۔
یاد رکھیں، منزل پر پانچ منٹ دیر سے پہنچ جانا ہزاروں گنا بہتر ہے اُس انجام سے، جہاں نہ آپ منزل پر پہنچیں اور نہ واپسی کی کوئی راہ ہی باقی بچے۔ زندگی ایک قیمتی تحفہ ہے، جو دوبارہ نہیں ملتا۔ چند لمحوں کی جلد بازی، چند لمحوں کا غرور، چند لمحوں کی بے پروائی ایک روشن مستقبل کو ہمیشہ کے لیے تاریکی میں بدل سکتی ہے۔
سوچیں، سمجھیں اور فیصلہ کریں۔ کیا چند لمحوں کی تیز رفتاری آپ کی قیمتی جان سے بڑھ کر ہے؟ کیا ایک ماں کی آنکھوں میں بہنے والے آنسو، ایک باپ کے جھکے ہوئے کندھے، بہن بھائیوں کی اُداس آنکھیں اور دوستوں کی ٹوٹتی مسکراہٹ اس رفتار کی طلب سے کم اہم ہیں؟
آیئے، آج عہد کریں کہ ہم رفتار کی چاہت کو عقل اور احتیاط کے ساتھ قابو میں رکھیں گے۔ کیوں کہ زندگی کی اصل خوب صورتی منزل تک بہ حفاظت پہنچنے میں ہے، نہ کہ سفر کے دوران میں ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے میں۔
بہ قولِ سرفراز شاہدؔ
اہِ الفت کی ٹریفک ہو کہ موٹر وے کی ہو
حدثے ہوتے ہیں شاہدؔ تیز رفتاری کے بعد
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










