(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
ریاستِ سوات، جو اندرونی طور پر ایک خود مختار ریاست تھی، دیر اور امب کے ہمسایہ ریاستوں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے باقاعدہ مسلح افواج رکھتی تھی۔ داخلی سلامتی اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے، 80 قلعہ نما چھوٹی بڑی چوکیاں تعمیری کی گئی تھیں، جن میں ہتھیاروں سے لیس افراد تعینات تھے۔ یہ سپاہی ایک صوبیدار کی کمان میں کام کرتے تھے۔
جب انگریز حکومت کی سوات کو باقاعدہ ریاست تسلیم کرنے کے بعد، باہر سے کسی خطرے کی توقع نہیں رہی اور اندرونی امن و سکون قائم ہوگیا، تو کچھ مشیروں نے اس وقت تجویز پیش کی کہ اتنی بڑی فوج رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ والی صاحب نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اس افرادی قوت کو سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں لگا دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے ترقیاتی کاموں کے لیے اتنی سستی مزدور حاصل نہیں کر پائیں گے۔ چناں چہ ضرورت پڑنے پر سپاہیوں سے گروپوں کی شکل میں ایک ماہ یا پندرہ دن کے لیے کام لیا جاتا تھا۔ سال میں ان سے صرف تین مہینے کام لیا جاتا تھا، جب کہ باقی وقت میں وہ کسی بھی کام یا کاروبار کرنے کے لیے آزاد تھے۔ ہمیشہ کی طرح، ان کے مقررہ معاوضے انھیں اجناس کی صورت میں دیے جاتے تھے۔
جو سپاہی قلعوں میں متعین تھے، انھیں پولیس میں تبدیل کر دیا گیا۔ یونی فارم میں صرف یہ تبدیلی کی گئی کہ ٹوپی کا رنگ ’’خاکی‘‘ سے ’’سیاہ‘‘ کر دیا گیا۔ صوبے داروں کو ریاستی فورسز میں واپس بلایا گیا اور نئے تربیت یافتہ پولیس افسران کو بہ طور انسپکٹر تعینات کیا گیا۔ ان میں سے بیش تر تعلیم یافتہ تھے، عموماً ایف اے تک۔ ان کی تربیت پی ٹی سی ہنگو اور سہالا میں ہوئی تھی۔
جہاں تک ان سڑکوں کی بات ہے، جو والی صاحب کے دور میں بنائی گئیں، خصوصاً 1949ء سے 1962ء کے دوران میں، وہ ریاستی ملیشیا کے ذریعے تعمیر کی گئیں۔ بعد میں ان ملیشیا اہل کاروں کو زیادہ تر سیلابوں سے لڑنے اور متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بہ حالی کے لیے طلب کیا جاتا۔
کچھ اہم سڑکیں جو ریاستی فورسز کے ذریعے تعمیر کی گئیں، درجِ ذیل ہیں:
٭ خوازہ خیلہ بشام روڈ (پتھریلی سڑک)
٭ یخ تنگے تا چکیسر روڈ (پتھریلی سڑک)
٭ ڈیرئی آلوچ روڈ (پتھریلی سڑک)
٭ بشام سے پٹن (پتھریلی سڑک)
٭ بحرین سے کالام (پتھریلی سڑک)
علاوہ ازیں بونیر میں دیوانہ بابا تا بودال اور کوگا تا طوطالئی روڈ، اسی دور میں ٹھیکے پر بنوائی گئیں۔ یہ دونوں سڑکیں پتھریلی تھیں۔ بعد میں ان سب پر صوبائی حکومت کی جانب سے بلیک ٹاپنگ کی گئی۔
ریاستی فورسز جہاں کام کرتے، وہاں راشن سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار معاہدے کے مطابق عارضی انتظام کرکے ان کو کھانا فراہم کرتے۔ فوج سے پلوں کے ساتھ "Guide Bund” یا پشتے بنانے اور "River Training Works” (دریائی آبی رُخ بندی) جیسے کام بھی لیے جاتے۔ یہ پل ’’گیمن پاکستان لمیٹڈ‘‘ نے کانجو اور خوازہ خیلہ (سوات) میں اور بہائی کلے، انغاپور، ایلئی، گاگرہ اور چینہ ڈیرئی (بونیر) میں تعمیر کیے تھے۔ فوج کو سوات بالا میں بریم اور وینئی پلوں تک رسائی کے راستے تعمیر کرنے کے لیے بھی تعینات کیا گیا تھا۔
جب کوئی سپاہی اپنی نوکری چھوڑتا، تو اکثر اسے اپنے قریبی رشتہ دار یا بھائی کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کا کہا جاتا۔ کچھ فوجیوں نے تو اپنی پوسٹ فروخت بھی کر دی۔ یہ ایک کھلی حقیقت تھی، لیکن یہ دھوکا جاری رہا۔
بدقسمتی سے تبدیلی، ریاست کی شان و شوکت کی علامت، یعنی 80 شان دار قلعوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنی۔ قلعے ایک ایک کرکے مختصر وقت میں منہدم کیے گئے۔ صرف دو قلعے کوٹہ موسٰی خیل اور دوسرا گلی باغ میں باقی رہے، لیکن ریاست کے انضمام کے بعد اُن کا بھی یہی حشر ہوا۔
نوٹ از مؤلف:۔ جستی تاروں کے پنجروں میں بھرے ہوئے پتھروں سے بنے پشتے یا دیواریں، جو پلوں کے اوپری اور نیچے کی جانب تعمیر کی جاتی ہیں، "River Training Works” یا ’’گائیڈ بند‘‘ کہلاتی ہیں۔ ان کا مقصد دریا کے بہاو کو قابو میں رکھنا اور اسے پل کے سپین کے نیچے سے گزرنے کے لیے رہ نمائی فراہم کرنا ہے، تاکہ پل کی بنیادوں کو نقصان سے بچایا جاسکے یا دریا کو اپنی سمت تبدیل کرنے سے روکا جاسکے۔ اور ان کا مقصد دریا کے بہاو کو پل کے راستوں (اسپینز) کی طرف رہ نمائی کرنا ہوتا ہے۔
نوٹ از مترجم:۔ پل کے سپین (Bridge Span) سے مراد پل کے دو ستونوں یا سپورٹس کے درمیان کا فاصلہ یا وہ حصہ ہے جو دریا، سڑک، یا کسی خلا کے اوپر پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ یہ پل کا وہ حصہ ہوتا ہے، جو بوجھ اُٹھاتا ہے اور گاڑیوں، پیدل چلنے والوں یا دیگر ٹریفک کو گزرنے کے لیے راستہ فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر پل میں تین ستون ہیں، تو ان کے درمیان دو سپین ہوں گے۔ سپین کی لمبائی پل کے ڈیزائن اور تعمیراتی ضروریات پر منحصر ہوتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










