چاٹی قلفہ

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90ء کی دہائی میں ہم لڑکوں کا پسندیدہ ترین قلفہ تصویر میں دکھائی دینے والا یہ ’’چاٹی قلفہ‘‘ تھا۔ اِسے اُس وقت ایک طرح سے عیاشی کا سامان سمجھا جاتا تھا۔ اندازہ لگائیں کہ چار آنے ہمیں کھانے کو ملتے تھے اور آٹھ آنے قلفے کی قیمت تھی۔
سب سے لذیذ قلفہ کھتیڑا بازار میں غالباً سکندر کے والد (جن کا نام اِس وقت مجھے یاد نہیں) بیچا کرتے تھے۔ وہ ہمہ وقت چاٹی کو آگے پیچھے حرکت دیتے نظر آتے۔ جو بھی آٹھ آنے اُن کے ہاتھ رکھتا، وہ چاٹی کے اوپر رکھے دبیز کپڑے کو اُٹھاتے اور اندر پڑے برف سے ایک چھوٹا سا برتن، جس کے اوپر ڈھکن رکھ کر ربر بینڈ سے کس کر باندھا گیا ہوتا، نکال لیتے۔موصوف برتن سے اولاً ربر بینڈ اور ثانیاً ڈھکن ہٹالیتے۔ اس کے بعد ایک چھوٹا سا چمچ قلفے بھرے برتن میں رکھ کر گاہک کی خدمت میں پیش کرتے۔ ایک عرصے بعد جمعہ بازار سے گزر ہوا اور تصویر میں اس چاٹی قلفہ بیچنے والے پر نظر پڑی، تو لڑکپن کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ بہ قولِ امام بخش ناسخؔ
وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
ہائے ! مَیں کیا کروں کہاں جاؤں
اب مینگورہ شہر میں چاٹی قلفہ صرف جمعہ کے روز (جمعہ بازار میں) ملتا ہے۔ اس کے علاوہ رمضان کے مہینے میں سہراب خان چوک میں سپین زر پلازہ کی سیڑھیوں پر بھی چاٹی قلفے والا سبھا سجائے بیٹھا دکھتا ہے اور اس کے گرد 70ء، 80ء میں آنکھ کھولنے والے بابے اور ’’تقریباً بابے‘‘ (وہ تمام حضرات جو اَب مجھ جیسے 45 کے پیٹے میں ہیں، تقریباً بابے ہیں) لکڑی سے بنی چوکیوں (جنھیں پشتو میں کٹکی کہتے ہیں) پر بیٹھے چاٹی قلفہ نوشِ جاں فرماتے ہیں۔
یہ تصویر 2 اکتوبر 2022ء کو جمعہ بازار (مین بازار مینگورہ) میں لی گئی ہے۔
پسِ تحریر:۔ محمد اجمل صاحب نے قدرے سخت الفاظ میں ہماری تصحیح کرتے ہوئے لفظونہ ڈاٹ کام کے سوشل میڈیا کے صفحے پر کمنٹ سیکشن میں رقم کیا ہے: ’’بھئی! آپ کی تحریر غلط ہے۔ چاٹی ملائی بیچنے والا سکندر کا والد نہیں بل کہ میرا چچا اکبر خان بابو تھا۔ سکول سے چھٹی کے بعد مَیں ان کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔ بینک سکوائر میں آنے والے مہمان گرمی کے موسم میں چاٹی ملائی کی فرمائش کرتے۔‘‘
(اگر یہ تصویر اچھے ریزولوشن میں درکار ہو، تو ہمارے ایڈیٹر سے ان کے ای میل پتے amjadalisahaab@gmail.com پر رابطہ فرمائیں، شکریہ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے