شعر جو میر انیسؔ نے اپنی زوجہ کی مدد سے مکمل کیا

میر انیسؔ کی نسبت یہ روایت لکھنؤ میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ مرثیے میں شیریں کی زبانی یہ دعائیہ مصرع کَہ چکے تھے یا رب! رسولِ پاکؐ کی کھیتی ہری رہے دوسرے مصرعے کی فکر میں تھے۔ جیسا جی چاہتا تھا، ویسا برجستہ مصرع نہ ہوتا تھا۔ اسی اثنا میں میر نفیسؔ کی والدہ […]

دھوکا

عموماً ’’دھوکا‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا اِملا ’’دھوکہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ ’’نور اللغات‘‘، ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’آئینۂ اُردو لغت‘‘، ’’فرہنگِ اثر (حصۂ سوم)‘‘، ’’علمی اُردو لغت (جامع)‘‘، ’’حسن اللغات (جامع)‘‘، ’’جامع اُردو لغت‘‘، ’’جدید اُردو لغت (طلبہ کے لیے)‘‘، ’’فیروز اللغات (جدید)‘‘ اور ’’اظہر اللغات (مفصل)‘‘ کے مطابق صحیح اِملا ’’دھوکا‘‘ ہے جب کہ اس کے […]

21 اہم کتابوں کے تبصروں پر مشتمل کتاب ’’حاشیۂ خیال‘‘

نصرت نسیم کا ادب میں اچانک ورود اور پے درپے کئی کتابوں کی اشاعت نے انھیں ادبی حلقوں میں غیر معمولی شہرت سے نوازا ہے۔ نصرت آپا کی پہلی کتاب ’’کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی‘‘ مختلف موضوعات پر مشتمل متنوع مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انھوں نے مختلف ادبی رنگوں کی ایک کہکشاں […]

مشہورِ زمانہ ناول ’’اینمل فارم‘‘ (تبصرہ)

تحریر: انیس رئیس  انسان اور جانور جنم جنم کے ساتھی ہونے کے باوجودکہیں ایک دوسرے کے رقیب نظر آتے ہیں، تو کہیں ان دونوں کی ایک دوسرے سے دشمنی جان لیوا حد تک خطرناک ہوجاتی ہے۔ ایک طرف اشرف المخلوقات کا عقیدہ انسان کو دیگر تمام چرندوں، پرندوں اور خزندوں سے برتر قرار دیتا ہے، […]

دامنِ کوہ کا باسی، گود براند (ناروے کی لوک کہانی)

ترجمہ: شگفتہ شاہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ’’گود براند‘‘ نامی ایک کسان رہتا تھا۔ اس کا کھیت ایک پہاڑی کے دامن میں واقع تھا۔ اس لیے سب اسے پہاڑی کے دامن والا گود براند کَہ کر پکارتے تھے۔ گود برانداور اس کی بیوی ایک دوسرے کی سنگت میں ہنسی خوشی […]

چولھا

’’چولھا‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا اِملا عام طور پر ’’چولہا‘‘ لکھا جاتا ہے۔ ’’نور اللغات‘‘، ’’جامع اُردو لغت‘‘، ’’فرہنگِ اثر‘‘، ’’فیروز اللغات (جدید)‘‘ اور ’’جہانگیر اُردو لغت (جدید)‘‘ کے مطابق صحیح اِملا ’’چولھا‘‘ ہے۔ اس طرح ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’جدید اُردو لغت (طلبہ کے لیے)‘‘، ’’حسن اللغات‘‘ اور ’’اظہر اللغات (مفصل)‘‘ صحیح اِملا ’’چولہا‘‘ کو مانتے […]

صنعتِ سوال و جواب

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

یہ ایک ایسی صنعت ہے جس میں شعر کے اندر ہی سوال کیا جاتا ہے اور پھر شعر ہی میں جواب دیا جاتا ہے۔ مولوی نجم الدین ’’بحر الفصاحت‘‘ کے صفحہ نمبر 202 میں صنعتِ مذکور کے حوالے سے رقم طراز ہیں: ’’یہ صنعت کبھی ایک مصرع میں ادا ہوتی ہے، کبھی ایک بیت میں، […]