د لکونو روپو گاڑے ساتو خو د پارکنگ دیرش روپئی نہ
گراسی گراونڈ او کہ ترکولی….؟
بابوزئی قامی تڑون جرگہ اور سلگتے مسائل

’’بابوزئی قامی تڑون جرگہ‘‘ تحصیلِ بابوزئی کے اندر ایک مکمل غیر سیاسی جرگہ ہے، جس نے سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر اُن لوگوں کو جمع کیا ہے، جن کے خلاف کسی قسم کے اخلاقی، مالیاتی یا دیگر الزامات نہیں…… اور جن کا مقصد صرف اور صرف تحصیلِ بابوزئی میں رہنے والے لوگوں […]
مینگورہ شہر کا خاموش المیہ

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں مینگورہ شہر بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ ڈینگی، ملیریا، کورونا، آلودگی، چوہوں کی بے تحاشا افزایش، شہری سیلاب کے خدشات، بے ہنگم ٹریفک، ٹریفک جام، سینے اور سانس کے امراض اور نہ صرف مینگورہ شہر بل کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریض…… اگر […]
’’قامی تڑون جرگہ‘‘ اور ہمارے کرنے کے کام

سوات کیا پورے ملاکنڈ ڈویژن میں تحصیلِ بابوزئی کو کئی وجوہات کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ یہ ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی، عدالتی اور تاریخی ہیڈکوارٹر بھی ہے ۔ کاروباری مواقع کے لحاظ سے بھی یہ ایک بڑی تحصیل ہے۔ یوں اس تحصیل میں آبادی کی مسلسل […]
سیلاب…… تباہی بھی، امتحان بھی

وہ جمعے کا دن تھا…… یعنی چھٹی کا دن تھا۔ کاروبار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں ہفتے بیت گئے تھے۔ صبح سے رات تک کی محنت نے بدن توڑ کے رکھ دیا تھا۔ مَیں یوں سویا ہوا تھا، جیسے بے سدھ، ہر شے سے بے نیاز، حتیٰ کہ اس احساس سے بھی […]
سیلاب کی تاریکی میں مدارس کی روشنی
حالیہ تباہ کن سیلاب نے خیبر پختونخوا کی حسین وادیوں سوات اور بونیر کو ایسی کڑی آزمایش سے دوچار کر دیا ہے، جس کی مثال برسوں میں مشکل سے ملے گی۔ یہ وہ خطے ہیں جو کبھی اپنی دل کش وادیوں، بہتے جھرنوں اور سرسبز کھیتوں کے سبب جنت نظیر کہلاتے تھے، مگر اب ان […]
سیلاب،قہرِ خداوندی یا ہماری کوتاہی؟

سوات میں مون سون کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی دلوں میں ایک اَن جانا سا خوف جاگ اُٹھتا ہے۔ بارش کی پہلی بوند رحمت لگتی ہے، لیکن یہی بارش جب طوفان کی شکل اختیار کرکے گھروں کو بہا لے جائے، کھیتوں کو ڈبو دے اور معصوم بچوں کو یتیم کر دے، تو دل […]
سیلاب، پہ نظر نہ راتلونکی یوہ لویہ مسئلہ
جرگہ، مؤثر سماجی ادارہ

جب کوئی قوم کسی اعلا مقصد کے حصول کی خواہاں ہو، تو ضروری ہوتا ہے کہ ذاتی پسند و ناپسند، نظریاتی اختلافات اور فکری تفاوت کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف اجتماعی مفاد اور قومی فلاح کو مقدم رکھا جائے۔فکر کا اختلاف فطری ہے، لیکن اگر توجہ مشترکہ اہداف پر مرکوز رکھی جائے، […]