تصوف و خودی… اقبال کی فکری کش مہ کش

علامہ اقبالؔ نے اپنے ایک خط میں سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ ’’تصوف عالم اسلام میں اجنبی پودا ہے۔‘‘ تصوف اسلام کے ابتدائی دنوں میں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں تھا۔ مارٹن لِنگز اپنی کتاب (What is Sufism) میں لکھتے ہیں: ’’جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ تصوف، مذہب […]
اسٹیبلشمنٹ کا مارکسی تجزیہ

ریاست، اقتدار اور طاقت کے سوال پر جب ہم مارکسی عدسے سے نظر ڈالتے ہیں، تو ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ محض ایک مبہم سیاسی اصطلاح نہیں رہتی، بل کہ ایک واضح اور متعین طبقاتی مفہوم اختیار کرلیتی ہے۔ عام سیاسی گفت گو میں اسٹیبلشمنٹ سے مراد عموماً فوج، بیوروکریسی یا خفیہ ادارے لی جاتی ہے، مگر مارکسزم اس […]
مارکس ازم اور قومی سوال

قومی سوال کی بحث 20ویں صدی میں شروع ہوئی جس کا مقصد ’’نیشن‘‘، ’’نیشنل ازم‘‘ اور اس کے ساتھ جڑے مسائل کو منظرِ عام پہ لانا تھا۔ 1648ء میں ’’ٹریٹی آف ویسٹ فیلیا‘‘ (The Treaty of Westphalia) میں قوم کا ایک نیا نقطۂ نظر سامنے آیا۔ یہ معاہدہ کیتھولکس اور پروٹسٹنٹس کے بیچ 30 سال […]