کبھی خواب نہ دیکھنا (تیسری قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) اَب اپنے بچپن میں واپس چلتے ہیں۔ مجھے غالباً 1950ء میں سکول بھیجا گیا۔ میرا بڑا بھائی پہلے ہی تیسری جماعت میں زیرِ تعلیم تھا۔ […]
شاہی قلعہ چترال

چترال کا ’’شاہی قلعہ‘‘ کھوار قوم کی تہذیب و تمدن اور سلطنتِ چترال کی عظمت رفتہ کا امین ہے۔ یہ شمال کی طرف پاکستان کا آخری ضلع ہے۔ تاجکستان اور چترال کے درمیان 10 سے 12 میل لمبی واخان کی پٹی حائل ہے۔ کسی زمانے میں واخان کوریڈور کا یہ علاقہ بھی ریاستِ چترال کا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (دوسری قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) آئیں! 1944ء کی طرف واپس چلتے ہیں۔ یہ ریاستِ سوات کی تاریخ میں ایک انقلابی سال تھا۔ اس سال نے ’’وزیر برادران‘‘ کا زوال دیکھا […]
وفاقی آئینی عدالت، ضرورت یا سیاسی چال؟

آئینِ پاکستان میں ممکنہ 26ویں آئینی ترمیم کے بہت چرچے ہیں۔ کہیں اعلا عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر کے تعین کا چرچہ ہے، توکہیں آئینی عدالت کے قیام پر قیاس آرائیاں۔ کہیں آئینی عدالت کے قیام کی شدید مخالفت کی جارہی ہے، تو کہیں اس کے حق میں توجیہات پیش کی جارہی ہیں۔ مجوزہ […]
سوشل ازم کے خلاف برپا پروپیگنڈے

اگر کسی غریب یا عام شخص سے اُس کے بچوں کی تعلیم کا خرچہ منہا کیا جائے اور اعلا ترین تعلیم کا موقع دیا جائے۔ اگر بے گھر کو مفت رہایش فراہم کی جائے۔ اگر ہر شخص کو علاج کے بہترین اور مفت مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر یوٹیلیٹی بِل (بجلی، گیس) کے بوجھ ختم […]
سارجنٹ میجر مہاتما گاندھی

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر سے ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج ختم ہوا اور گریٹ بریٹن کی بہ راہِ راست حکم رانی شروع ہوئی۔ اُس صدی کے آخر میں ’’انڈین سول سروس‘‘ کے ایک ریٹائرڈ آفیسر ’’اکٹیوین ہیوم‘‘ (Allan Octavian Hume) نے انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھ دی، تاکہ ہندوستانیوں کو سیاست […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (قسطِ اول)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جائے گا) مَیں (فضل رازق شہابؔ) 5 اپریل 1943ء کو سیدو شریف کے افسر آباد میں نسبتاً ایک چھوٹے گھر میں پیدا ہوا، جہاں ریاست کے اعلا عہدے […]
ریاستِ پاکستان، سوات میں جاری مصنوعی دہشت گردی بند کرے، سوات قومی جرگہ

سوات قومی جرگہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ریاستِ پاکستان نے سوات میں جاری مصنوعی دہشت گردی بند نہ کی، تو سوات قومی جرگہ کی طرف سے آیندہ سخت اعلان کیا جائے گا۔ جرگہ نے پیتھام ٹور ازم سینٹر فوری طور پر خالی کرنے اور سول انتظامیہ کو حوالہ کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ […]
کیا سوات میں واقعی حالات خراب ہیں؟

25 ستمبر کی شام بعد از نمازِ عشا سینئر صحافی نیاز احمد خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ کی اپنی وال پر ایک مختصر سی پوسٹ دی جس کے مطابق ’’آر پی اُو ملاکنڈ ڈویژن اور ڈی پی اُو سوات کو فوری طور پر تبدیل کیا گیا اور اُنھیں سی پی اُو […]
کیا تمام سیاسی پارٹیوں کا عملی منشور ایک جیسا ہے؟

جمہوریت اور سیاسی پارٹیاں لازم و ملزوم ہیں۔ کم از کم ایسا سمجھا جاتا آیا ہے، لیکن ایک عام آدمی کیا یہ سوال کر سکتا ہے یا اس نقطے کو زیرِ بحث لایا جاسکتا ہے کہ کیا جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہے؟ جواب کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بحث بہت طویل اور پیچیدہ […]
مسلم لیگ (ن) کی اداروں پر حملہ آوری کی تاریخ

مسلم لیگ (ن) کا مقدس اداروں پر حملہ آوری کا وطیرہ بہت پرانا ہے۔ عدالتیں جب بھی کوئی فیصلہ اس کی منشا اور خواہش کے مطابق نہیں دیتیں، تو یہ جماعت عدلیہ کے مقدس ادارے پرحملہ آور ہوجاتی ہے۔ 1998ء میں سپریم کورٹ پر حملہ کو کوئی کیسے فراموش کرسکتا ہے؟ میاں محمد شہباز شریف […]
آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا دور اور ہماری تنگ نظری

آہ، سید مودودی رحمہ اللہ! جن کی فکر اپنوں کی بیگانگی اور غیروں کے دشنام کے بیچ معلق ہے۔ آج ہمارے ڈیپارٹمنٹ "Swedish Center for Digital Innovation” میں ’’آرٹی فیشل انٹیلی جنس‘‘ (اے آئی) کے حوالے سے قوانین کے بارے میں راؤنڈ ٹیبل سیشن میں ایک پروفیسر نے ٹیکنالوجی کے ہمہ جہت منفی اثرات کا […]
ریاستی ستونوں کی لڑائی کا انجام

اپنے گذشتہ کالم ’’چند تاریخی غلطیاں اور اُن کی تصحیح‘‘ میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ آزادی کے 9 سال تک بالواسطہ پاکستان میں تاجِ برطانیہ کا راج رہا اور 23 مارچ 1956ء پاکستان میں آئین نافذ ہونے کے بعد تاجِ برطانیہ کو خدا حافظ کَہ دیا گیا۔ تاجِ برطانیہ کے بعد اُن کے […]
باچا صاحب کے ساتھ جڑی ایک یاد

حکومتِ خداداد یوسف زئی ریاستِ سوات و متعلقات کے بانی میاں گل عبدالودود معروف بہ باچا صاحب میانگل عبدالخالق کے بیٹے اور اخوند آف سوات عبدالغفور الملقب بہ سیدو بابا کے پوتے تھے۔ یہاں پر ہم سوات کی تاریخ نہیں دہراتے۔ صرف اُن کے بارے میں چند ایسے واقعات کا ذکر مقصود ہے، جو میری […]
کام یاب اسپورٹس مین جو فلمی دنیا میں بھی نام کماگئے

تحریر: امجد کمال قریشی کھیلوں اور فلموں کا ناتا پرانا ہے۔ اکثر کام یاب اسپورٹس مین ریٹائرمنٹ یا ’’پری میچور ریٹائرمنٹ‘‘ کے بعد اداکار بن جاتے ہیں، مگرسب کام یاب نہیں رہتے۔ اس تحریر میں دنیا بھر سے کچھ چنیدہ نام پیش کیے گئے ہیں، جنھوں نے کام یاب اسپورٹس کیریئر چھوڑ کر اداکاری شروع […]
’’ایکسٹینشن‘‘: پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ

پاکستان میں اعلا ترین عہدے دراوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کو حکومت بچانے کے لیے پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کے لیے توسیع دینا پڑی۔ پرویز مشرف کے خلاف ’’آرٹیکل 6‘‘ کے تحت چلائی جانے والی کارروائی اور راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع […]
مینگورہ کا بنگالی خاندان

نعیم اختر صاحب کا مشکور ہوں جنھوں نے مینگورہ بنگالی کورنئی (مینگورہ بنگالی خاندان) کا تعارف بہت آسان اور سادہ سا کیا ہے۔ یقینا مینگورہ شہر کے نوجوانوں کے لیے یہ تعارف آسانی پیدا کرے گا۔ یحییٰ خان اس ’’کورنئی‘‘ (خاندان) کی بنیاد رکھنے والے تھے، جن کے تین بیٹے تھے۔ ان کے نام اجڑ […]
سائبر حملوں کا دور

اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ ارکان کے زیرِ استعمال پیجرز میں ایک ساتھ دھماکے کروا دیے، جن میں 25 افراد شہید جب کہ ایرانی سفیر سمیت تین ہزار سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے والوں میں 200 سے زائد افراد کی حالت […]
کیلاشیوں میں شادی کے رائج طریقے

سنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں کراکال گاؤں کے قریب ایک چلبل کیلاشی ناری چھمک چھلو چال چلتی، مٹکتی، چٹکتی حنیف زاہد کی نگاہوں میں کھٹکتی کھڑی دِکھی، تو حنیف زاہد کی ’’رگِ مردانہ‘‘ پھڑک اُٹھی۔ مرد کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ […]
مولانا فضل الرحمان: پکا سیاسی کھلاڑی

قومی اسمبلی اور سینٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش نہ کیا جاسکا اور سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوگئے۔ اکیلے مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور مقتدرہ کو شکست دے کر اقتدار کے لیے لیٹ جانے والی بڑی سیاسی پارٹیوں کو قومی غیرت کا بہترین سبق دیا ہے۔ […]
چند تاریخی غلطیاں اور ان کی تصحیح

ہم ہر سال اگست کی 14 تاریخ ہندو، انگریز تسلط سے آزادی کا جشن مناتے ہیں اور اِک محب وطن پاکستانی کو جشنِ آزادی منانے پر فخر بھی محسوس کرنا چاہیے، لیکن کیا واقعی ہم نے تاجِ برطانیہ سے 14 اگست 1947ء کو مکمل آزادی حاصل کرلی تھی؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ زمانۂ طالبِ علمی […]