بلدیاتی نظام: تاریخ، تجربات یا سنگین مذاق

خیبر پختونخوا، جو کبھی شمال مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا، میں بلدیاتی نظام کی تاریخ تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ یہ تاریخ محض قوانین کی تبدیلی کی داستان نہیں، بل کہ سیاسی مصلحتوں، انتظامی ناکامیوں، وسائل کے ضیاع اور عوامی محرومیوں کی مکمل روداد ہے۔ برطانوی دور میں 1922 کے مقامی حکومت قانون کے […]
احتساب کمیشن خیبر پختونخوا (مرحوم)

جب سنہ 2014 میں خیبر پختونخوا احتساب کمیشن قائم کیا گیا تھا، تو اسے ایک انقلابی سنگِ میل اور کرپشن کے خلاف ایک تاریخی ہتھ یار بنا کر پیش کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے دعوا کیا تھا کہ یہ ادارہ ماضی کے روایتی اور بے اثر انسدادِ کرپشن اداروں سے بالکل مختلف ہوگا۔ ہمیں یقین […]
ڈاکٹر سوزین سولنیئرز، محبت و خدمت کا پیکر

زندگی کے کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں، جو محض رشتوں کی حدود سے بڑھ کر دل کے تاروں کو چھولیتے ہیں۔ ڈاکٹر سوزین سمتھ سولنیئرز میرے لیے ایسی ہی ہستی تھیں: ایک استاد، ایک راہ نما اور سب سے بڑھ کر ایک ماں۔سنہ 2007ء کی بات ہے، جب میں انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی میں بہ طور […]
خیبر پختونخوا میں تعلیمی بحران کی بڑی وجوہات

خیبر پختونخوا اس وقت امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ ایک سنگین تعلیمی بحران سے بھی دوچار ہے۔ صوبے میں لگ بھگ 13 لاکھ بچیاں اسکول سے باہر ہیں اور آئین کے آرٹیکل ’’25-اے‘‘ کے تحت اپنے بنیادی تعلیمی حق سے محروم ہیں۔ صوبائی سطح پر بھی ’’خیبر پختونخوا مفت […]
تبدیلی سرکار کا منھ چڑاتا اسکول

سال 2012ء میں خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیم کے شعبے کے لیے 22 ارب 15 کروڑ روپے مختص کیے۔ اُن میں سے 17 ارب 9 کروڑ روپے بنیادی و ثانوی تعلیم کے لیے اور 5 ارب 6 کروڑ روپے اعلا تعلیم کے لیے رکھے گئے۔ یہ بجٹ محض اسکولوں کی نئی عمارتوں یا مرمت تک […]
’’گلاف‘‘ اور ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘، سیلاب کے نئے نام

اگرچہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن یہ اُن گنے چنے ممالک میں شامل ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، ہزاروں زندگیاں […]
سوات سیلاب، ایک المیہ اور اس کے اثرات

(یہ تحریر دراصل فضل مولا زاہد کے ایک انگریزی آرٹیکل کا ترجمہ ہے، جسے انھوں نے معروف نشریاتی ادارے ’’فرائڈے ٹائمز‘‘ کے لیے لکھا ہے، مترجم) پندرہ اگست کی صبح کا سورج مینگورہ میں طلوع ہوچکا تھا۔ صبح آٹھ سے دس بجے کے درمیان بچے اپنی کمرائے جماعت میں بیٹھے تھے، دکان دار دکانوں کے […]