عبدالروف طوطا اور ڈاکٹر نجیب صاحب سے جڑی یادیں
٭ طوطا ایک نیچرل منتظم تھا۔ موقع اور تقریب کیسی بھی ہو، بس اس پر سب کچھ چھوڑو۔ طوطا جانے اور پروگرام۔ میرا خیال ہے یہ ان کی "Inborn” خصوصیت تھی۔اُن بھائیوں میں یہ خوبی شاید اُن کو گھٹی میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ آپ مسکن کی مثال لیجیے۔ کئی سالوں سے عثمان غنی […]
امیر چمن خان (نائب سالار ریاستِ سوات)

اس تحریر کے ساتھ شائع ہونے والی تصویر میں ریاست کی تاریخ کے تین اہم کردار نظر آرہے ہیں۔ بائیں سے شہزادہ میانگل جہان زیب ولی عہد ریاست، درمیان میں کھڑے محمد فقیر خان نائب سالار جب کہ دائیں امیر چمن خان نائب سالار ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]
ماضی کی پوٹلی سے

مَیں بچپن کی بعض باتیں صرف اس لیے دُہراتا ہوں کہ شاید کوئی اُن وقتوں کا ابھی تک زندہ ہو اور اُس سے رابطہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ سیدو شریف کے موجودہ رکشوں کے سٹینڈ سے جو گلی سیدو بابا کی مسجد کی طرف نکلتی ہے۔ اُس کے دونوں طرف اُن دنوں مکانات تھے۔ […]
ریاستی دور کے ودودیہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم

ودودیہ ہائی سکول کے سو (100) سال پورے ہونے کے موقع پر اسی سکول سے میٹرک کرنے والے ایک بے مثال طالب علم کے بارے میں کچھ معلومات آپ سے شیئر کروں گا۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ ’’اسفندیار‘‘ ہمارے بچپن اور جوانی […]
سوات کے 1975ء کے ایک رقت انگیز مشاعرے کی روداد

ماسٹر محمد جان لوہارؔ کے فرزندِ ارجمند بخت سلیمان شہاب کی یاد میں 1975ء میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا ،جس کی صدارت سوات کے نامی گرامی شاعر خانے قصاب نے کی تھی۔ مہمانِ خصوصی پاکستان نیشنل سنٹر مینگورہ اے آر ڈی عنایت اللہ خان تھے۔ سٹیج سیکرٹری رحیم شاہ رحیمؔ تھے۔ اس مشاعرے کا […]
حاجی رسول خان (مرحوم) کی یاد میں

حاجی رسول خان صاحب کو (مرحوم) لکھتے ہوئے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ کیا سدا بہار شخصیت تھی اُن کی۔ مَیں نے اُن کے کئی روپ دیکھے ہیں، مگر اصل رابطہ تو کئی سالوں بعد ہوا، جب اخبار میں اُن کے کالم پڑھنے کو ملے۔ ورنہ سکول اور کالج کی زندگی میں تو اُنھیں […]
وہ بھی کیا دن تھے!

آپ کے خیال میں دوسری جنگِ عظیم میں کساد بازاری، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کس لیول تک بڑھ گئی ہوگی اور اس کا تدارک حکومتوں نے کس طرح کیا ہوگا؟ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ میری پیدایش تو 1943ء میں ہوئی، مگر ہمارے […]
افسر آباد کی کچھ یادیں

جب مَیں نے ہوش سنبھالا، تو اُس وقت ہماری مسجد افسر آباد (سیدو شریف) کے امام حافظ بختیار صاحب تھے۔ ان کی رہایش محمد شیرین کمان افسر صاحب (بعد میں کپتان/ منصف) کے پڑوس میں تھی۔ مسجد اُس وقت ایک بہت بڑے کمرۂ صلات، برآمدہ اور ایک کمرہ صحن کے کنارے باہر سے آئے طلبہ […]
وادئی چغرزئی (بونیر) سے وابستہ چند یادیں

1969ء میں ادغامِ ریاست کے بعد بھی چغرزئی کا پورا علاقہ کئی سال تک سڑک سے محروم رہا۔ ریاستی دور میں بدال تک ایک کچی سڑک بنی ہوئی تھی، جو اُسی دور میں تعمیر شدہ سٹیٹ ڈسپنسری بدال کے قریب ختم ہوجاتی تھی۔ آگے چغرزئ کے مختلف دروں اور دیہاتوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل […]
سوات ہوٹل

’’سوات ہوٹل ‘‘، جسے اَب ’’سوات سیرینہ ہوٹل‘‘ کے نام سے پہچانا اور یاد کیا جاتا ہے، ریاستِ سوات کے دور میں میاں گل جہان زیب المعروف والی صاحب کے دورِ حکم رانی میں سرکاری ہوٹل کے طور پر وجود میں آیا۔ سرکاری ہوٹل میں تبدیل کرنے یا سرکاری ہوٹل قرار دینے سے قبل اس […]
بریکوٹ ہائی سکول، ریاستی دور کی نشانیوں میں سے ایک

ریاستِ سوات کے دور میں تعمیر ہونے والے اکثر سکول دہشت گردی کے دوران میں اڑادیے گئے۔ بچ جانے والے ہائی سکولوں میں بریکوٹ کا سکول بھی شامل ہے، جیسا کہ اس کے بورڈ سے ظاہر ہے۔ یہ سکول 1965ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے تعمیر کے دوران میں، مَیں چکیسر میں ڈیوٹی پر […]
یادوں کے دریچے سے

غلط فہمی ہوجائے، تو بڑی مشکل سے اِزالہ ہوتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ہم بہ سلسلۂ ملازمت ڈگر میں مقیم تھے۔ رہایش کی شدید قلت تھی۔ ہم ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں رہنے پر مجبور تھے۔ پورا علاقہ بونیر بجلی سے محروم تھا اور ابھی وہ […]
نجاتِ دیدۂ و دل کی گھڑی نہیں آئی

تأ کھید سُلیمنیک سی چھلے ھئی کیدی آرا چپٹ پن دے یدے مھیئے چونجو نہ لشا (ترجمہ): ’’تم نے کب سُلیمینک کی طرح چٹانوں کو چیرا ہے، اک ہم وار راستے سے آکر میرے سامنے مت اترا۔‘‘ بحرین کے نئے تھانے کے بالکل سامنے دریا کی مشرق کی جانب ایک چٹان ہے، جو دریا سے […]
کامریڈ بہادر شیر افغان کون ہے؟

جب معلوم و نامعلوم قوتوں کی جانب سے حالیہ اہلِ سوات کی نبض ’’سہ بارہ‘‘ چیک کی جا رہی تھی، تو مٹہ میں ایک سیاہ پوش شخص جو میانہ قد تھا، جس کے بال بھونسلے، داڑھی صاف، موچھ گھنی اور آواز گرج دار ہونے کے ساتھ ساتھ پُراعتماد بھی تھی۔ وہ تیور بدل بدل کر […]
میری واحد منفی خفیہ رپورٹ

4 اپریل 2003ء کو جب میں 60 سال کی عمر میں ملازمت سے سبک دوش ہوا، تو الوداعی پارٹی کے بعد ہیڈکلرک نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور ایک ضخیم فائل مجھے دکھاتے ہوئے کہاکہ گھر جاتے وقت یہ ساتھ لے کے جانا۔ فائل کے اُوپر موٹے لفظوں میں لکھا ہوا تھا: ’’اینول کانفڈنشل […]
ہمارے دور کی چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات

آج دراصل مجھے اچانک خیال آیا کہ اپنے لڑکپن کے ملبوسات کے بارے میں کچھ آپ حضرات کے گوش گزار کروں…… اور چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات کی یادیں بھی تازہ کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ اُس دور میں […]
سوات کا حالیہ سیاسی منظرنامہ

پاکستان کی سیاست میں جس طرح سے ڈرامائی تبدیلی آئی ہے، ٹھیک اُسی طرح سوات کی سیاست میں بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں اور باقی آنے والی ہیں۔ 9 مئی کے واقعے سے دو ماہ قبل تحریکِ انصاف کے سابق ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان نے تحریکِ انصاف چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ […]
60ء کی دہائی کا سوات

بچپن میں ایک عوامی گیت سنا تھا۔ کچھ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ ’’اگر یہی صورتِ حال رہی، تو مینگورہ بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘کہ داسے حال وی نہ ٹینگیگی منگورہ ورتہٹینگ شہ زرگرہ ورتہاجمالاً کسی زرگر نے ٹانگ میں مکان بنوایا تھا، تو برسات کے پہلے ریلے میں بہ گیا تھا۔کسی […]
5 جون، جشنِ سوات اور چند یادیں

سوات کا جشن 1949ء کے بعد ہر سال 12 دسمبر کو یومِ تاج پوشی کے نام سے منعقد ہوتا تھا۔ اس موقع پر بیرون ریاست سے بھی سرکاری مہمان آتے تھے۔ سوات کی شدید سردی اُن کے لیے ایک مشکل طلب مسئلہ تھی۔ چند سال بعد والیِ سوات نے فیصلہ کیا کہ 12 دسمبر کی […]
ریاستِ سوات کے سول اور عدالتی نظام کے چند پہلو

قطعِ نظر اس بات کے کہ معترضین کیا کہتے ہیں…… اور مجھے کن القاب سے نوازتے ہیں……وہ جانے اور ان کا ضمیر! میرے خیال میں سابقہ ریاستِ سوات کا نظام جس طرح 52 سال تک چلتا رہا، جس طرح اس سسٹم نے ارتقا کے مراحل طے کیے اور جو عین میچورٹی کی حالت میں زمین […]
ماضی کے جھروکے سے

سورج غروب ہو رہا تھا۔ مَیں اپنی دانست میں مینگورہ سے اپنے گھر سیدو شریف جا رہا تھا۔ میری عمر اُس وقت بہ مشکل کوئی 9، 10 سال ہوتی ہوگی۔ بازار بالکل سنسان دکھائی دے رہا تھا۔ تانگوں کا اڈا بھی خالی تھا۔ اگر کئی تانگا ہوتا بھی، تو میرے پاس ایک پیسا بھی نہیں […]