گندھارا کی روداد

Blogger Doctor Rafi Ullah Swat

جنوبی ایشیا کے تاریخی طور پر مشہور ثقافتی خطوں میں سے ایک خطہ گندھارا کے نام سے مشہور ہے۔ گندھارا بہ یک وقت ایک ایسی متنوع شناخت کو جنم دیتا ہے، جو جغرافیائی، تاریخی، فنی اور مذہبی پہلوؤں پر محیط ہے۔ یہ تمام پہلو مل کر ایک ایسی دل چسپ داستان کی غمازی کرتے ہیں، […]

کردار کا زوال

Blogger Hilal Danish

گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایسا سین چلا کہ چند لمحوں کے لیے لگا شاید کوئی گیم شو چل رہا ہے۔ بس حکمتِ عملی کی جگہ سب نے ’’میرے ہیں، میرے ہیں!‘‘ کا بٹن دبا دیا۔در اصل ہوا کچھ یوں کہ اسپیکر نے اسمبلی میں چند نوٹ لہرا کر پوچھا: ’’بھائیو! یہ کس کے پیسے […]

معاشرے کی فکری تقسیم کا تجزیہ

Blogger Noor Muhammad Kanju

آج کا پاکستان ایک عجیب فکری اور جذباتی تقسیم کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ تقسیم محض سیاسی یا نظریاتی نہیں رہی، بل کہ ہماری سماجی رگوں میں زہر کی طرح سرایت کرچکی ہے۔ قوم اس وقت دو انتہاؤں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، جہاں ہر معاملے کو صرف سفید یا سیاہ رنگ میں […]

اختلاف اور دشمنی میں تمیز فرمائیں

Blogger Advocate Muhammad Riaz

پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سے طاقت کی کش مہ کش، ریاستی اداروں کے اندرونی توازن اور سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات سے عبارت رہی ہے۔آج حالات اس نہج تک پہنچ چکے کہ ملکی سیاست ایک ایسے اضطراب میں ہے، جو قومی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ایسے وقت میں سیاسی سنجیدگی […]

رحلت ایک جفا کش کی……!

Blogger Fazal Maula Zahid Swat

آج کل ہم سوشل میڈیا سے کچھ فاصلے پر رہنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر بھی یہی کہتے ہیں اور میرا دایاں ہاتھ بھی، جس کا درد بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی بقا کے لیے اس غیر ضروری مصروفیت کو کم کرنا ہی بہتر ہے، مگر اسی احتیاط کی وجہ سے اکثر کسی […]

مذہبی بنیاد پرستی کا حقیقی پس منظر

Blogger Sajid Aman

بنیاد پرستی کو کئی دفعہ اسلام سے نتھی کیا جاتا ہے، جو تاریخی طور پر غلط ہے۔ اگر ہم بنیاد پرستی کی تشریح سے پہلے تاریخ میں اس کے احیا پر بات کریں، تو بنیاد پرستی کی تحریک یا نظریے کو 19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں قدامت پسند مسیحیوں یعنی […]

ایمان مزاری جیسا ایمان کہاں سے لائیں؟

Blogger Sami Khan Torwali

پاکستان کا معاشرتی ڈھانچا ہمیشہ سے تضادات کا ایک ایسا جنگل رہا ہے، جہاں طاقت ور اور کم زور کے درمیان فاصلہ صرف طبقاتی نہیں، بل کہ ذہنی، معاشی اور ادارہ جاتی تقسیم کا بھی مرہونِ منت ہے۔ اس معاشرے میں اشرافیہ کے لیے قوانین، مراعات اور زندگی کے اصول کچھ اور ہوتے ہیں، جب […]

بے مقصدیت کا سیلاب اور ہماری ذمے داریاں

Blogger Doctor Ubaid Ullah

انسان کی زندگی خیر و شر، نیکی و بدی، تقوا و نفس اور ایمان و آزمایش کے امتزاج سے بنتی ہے۔ اسلام، فرد کی اصلاح اور معاشرتی پاکیزگی دونوں پر زور دیتا ہے۔ کیوں کہ انسان کے اعمال صرف اُس کی ذات تک محدود نہیں رہتے، بل کہ اُن (اعمال ) کے اثرات پورے معاشرے […]

کیا ہم بابا غوری کو بھول گئے؟

Blogger Hilal Danish

سوشل میڈیا کی اس تیزرفتار اور بے رحم دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں، جو صرف ایک شناخت نہیں رہتے، ایک عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے ڈیجیٹل محاذ پر نذیر احمد غوری المعروف بابا غوری بھی ایسا ہی ایک نام ہے، ایک ایسا چراغ، جس نے تنِ تنہا اندھیروں […]

ضلع ملاکنڈ کی گھریلو صنعتیں

Blogger Zahir Shah Nigar

2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع ملاکنڈ کی کل آبادی 8 لاکھ 26 ہزار 250 نفوس پر مشتمل ہے۔ ضلع میں 28 یونین کونسلیں اور تقریباً 80 دیہات ہیں۔ کچھ چھوٹے قصبات، مثلاً: بٹ خیلہ، درگئی، سخاکوٹ، تھانہ، طوطہ کان، آگرہ اور کوٹ کے علاوہ باقی آبادی عموماً دیہات میں آباد ہے۔30 تا 40 […]

پاکستانی جامعات، سویڈن ہی سے سبق لیں

Blogger Khwaja Naveed

سویڈن میں طلبہ کو صرف ’’تعلیمی خدمت کے مستفیدین‘‘ نہیں سمجھا جاتا، بل کہ انھیں اعلا تعلیم کے نظام میں باقاعدہ اور بڑے ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ قانوناً طلبہ کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اہم فیصلہ ساز اور مشاورتی مجالس میں نمایندگی رکھیں، یونیورسٹی کی مجلسِ ادارہ (بورڈ) […]

صحت نظام کا مشاہداتی جائزہ

Blogger Sami Khan Torwali

ہم اپنی بات کو مدلل انداز سے سامنے رکھنے کے لیے اسلام آباد کے پمز (PIMS, Pakistan Institute of Medical Sciences) ہسپتال کی مثال رکھنے جا رہے ہیں، جو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری علاج گاہی ادارہ ہے۔ یہاں نہ صرف مقامی شہریوں کا رش ہوتا ہے، بل کہ آزاد کشمیر، […]

افغانستان کا علاقائی محاصرہ، خطے کے لیے تنبیہ

Blogger Ikram Ullah Arif

29 اکتوبر 2025ء کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے بہت کچھ فرمایا ہے۔ اس طویل پریس کانفرنس اور سوالات و جوابات سیشن میں بہت سارے معاملات زیرِ بحث آئے، مگر ہم صرف اُن نِکات کو زیر بحث لائیں گے، جو خاص کر پاک افغان تعلقات کے حوالے […]

لاوارث گندھارا

Blogger Rafi Ullah Swat

(زیرِ نظر تحریر دراصل میرے ہی ایک انگریزی آرٹیکل "The (un)claimed Gandhara” کا اُردو ترجمہ ہے، جو 26 جولائی 2020ء کو روزنامہ "The News”کے لیے اُس وقت لکھا تھا، جب تخت بھائی میں بدھا کے ایک بڑے مجسمے کو توڑا گیا تھا۔ ترجمہ کے لیے کامریڈ امجد علی سحابؔ کا مشکور ہوں، ڈاکٹر رفیع اللہ۔)تخت […]

سکول وزٹس: خوش کن دعوے اور تلخ حقائق

Blogger Doctor Gohar Ali

29 نومبر 2025ء کو مجھے سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈی ای اُو، جناب فضل خالق، کے ساتھ چند پرائمری اور مڈل سکولوں کا مشترکہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈپٹی صاحب کا اندازِ معائنہ غیر رسمی مگر پیشہ ورانہ تھا؛ ریکارڈز کی جانچ پڑتال، کلاس رومز کا مشاہدہ اور طلبہ کی علمی قابلیت کا […]

بار عہدے داران کے قانونی اختیارات کا جائزہ

Blogger Advocate Muhammad Riaz

وکلا برادری میں انتخابی موسم نمودار ہوتے ہی کورٹ کچہری کا ماحول تیزی سے بدل جاتا ہے۔ ہائیکورٹ، ضلعی اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات میں امیدواروں کی جانب سے کروڑوں روپے کے اخراجات، بینر، جلسے ، کارنر میٹنگز اور سیاسی جماعتوں کی کھلی سرپرستی دیکھ کر عام شہری حیران رہ جاتے ہیں کہ […]

سُر سے وحشت تک کا سفر

Blogger Mehran Khan

ولیم شیکسپیئر کے بہ قول: ’’موسیقی روح کی غذا ہے۔‘‘اور مَیں سمجھتا ہوں کہ موسیقی روح کی آواز ہے۔ یہ وحشتوں کا راستہ روکتی ہے۔ سخت دل کو نرم کرتی ہے۔موسیقی ایک طرح سے انسان کے سینے میں پکنے والے جذبات کے لاوے کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ تو محبت کے اظہار کا […]

صحافت… دیانت داری، غیر جانب داری سے اہم

Blogger Zubair Torwali

جدید معاشروں میں صحافت کو عموماً معروضیت، غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ لاتعلقی کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے…… لیکن یہ اُصول، اگرچہ اہم ہیں، ایک بنیادی حقیقت کو اوجھل کر دیتے ہیں: صحافت ہمیشہ سے فعالیت (Activism) کی ایک صورت رہی ہے۔ اپنی اصل میں صحافت ایک اخلاقی اور سیاسی عمل ہے۔ یہ […]

قوم اور ہجوم میں فرق (تفصیلی جائزہ)

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کی اجتماعی بصیرت، فکری یک جہتی اور اجتماعی ذمے داری کے احساس میں پوشیدہ ہوتی ہے…… لیکن جب ایک قوم مسلسل سیاسی انتشار، بے یقینی، باہمی عدمِ اعتماد اور فکری انتشار کا شکار ہوجائے، تو وہ اپنی قومیت کے اس مضبوط رشتے سے بہ تدریج دور ہوتی جاتی […]

سوات کا روشن چہرہ

Blogger Noor Muhammad Kanju

گذشتہ روز جب سوات کے تاریخی گراسی گراؤنڈ میں سوات چمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز ہوا، تو اس موقع پر صرف گیند اور بلّے کا شور نہیں تھا، بل کہ یہاں ایک نئے دور کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔ یہ محض کھیلوں کا ایک میلہ نہیں، بل کہ اجتماعی شعور، قومی یک جہتی […]