اہل سوات اور کھوکھلی تبدیلی

قارئین! مَیں سعودی عرب میں گذشتہ دس سال سے محنت مزدوری کرتا چلا آ رہا ہوں۔ یہاں آ کر پتا چلا کہ ہم دنیا سے کتنا پیچھے رہ گئے ہیں۔ سعودی شہری نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، بل کہ بنیادی سہولیات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ یہاں پر مجھے کہیں کسی روڈ یا گلی پر […]
ڈاکٹر شیبر میاں کی یاد میں

ڈاکٹر شیبر میاں (مرحوم) اُن نایاب انسانوں میں شمار ہوتے تھے، جن کی زندگی محض عمر پوری کرنے کا عمل نہیں، بل کہ خدمت، شعور، اخلاق اور انسان دوستی کی مسلسل ریاضت تھی۔ وہ ایسے شخص تھے، جنھوں نے اپنے طرزِ عمل، سوچ اور کردار سے یہ حقیقت واضح کر دی کہ اصل عظمت نہ […]
قومی سلامتی، سیاسی مصلحتیں اور خطرناک خاموشی

وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ ریاست پاکستان ثبوت دے کہ افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے؟ محض ایک بیان نہیں، بل کہ قومی سلامتی پر بہ راہِ راست حملہ ہے۔ یہ جملہ لاعلمی نہیں، دانستہ انکار ہے…… اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا روزانہ لاشیں […]
نوجوانوں میں شیشہ نوشی کا بڑھتا رجحان

ایک وقت تھا جب ہم گٹکا، پان، سگریٹ اور چھالیہ وغیرہ کو نشہ اور چیز سمجھتے تھے، لیکن اَب ایک ایسی چیز متعارف کرائی جاچکی ہے، جسے نوجوان نسل برا سمجھنے کے بہ جائے فیشن سمجھتی ہے، اور اس سے ناواقف ہے کہ اس میں کیا شامل ہے اور اس کے صحت پر کیا ممکنہ […]
حالیہ شدید سیاسی بحران کا جائزہ

پاکستان میں آئین کی حکم رانی ہے، نہ قانون کی…… بل کہ یہاں صرف جنگل کا قانون رائجہے۔ یہاں قانون نہیں، بل کہ خوف اور طاقت بولتے ہیں۔ یہاں جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے، بھینس بھی اُسی کی ہوتی ہے۔ بعض دانش مند سمجھتے ہیں کہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ بھینس […]
شکریہ، مسٹر ٹرمپ….!

جب سے امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو بیوی سمیت اِغوا کیا ہے، پوری دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ خاص طور پر لاطینی امریکہ اور یورپ کے ممالک میں تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ لاطینی امریکی ممالک میں اس تشویش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ برملا کیوبا، کولمبیا اور میکسیکو […]
مانسہرہ کے ایدھی، وقاص خان

خود انحصاری ،خدمت اور ریاستی ناکامیوں کے بیچ ایک روشن مثال، وقاص خان کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ وہ اُن گنے چنے لوگوں میں سے ہیں، جنھیں قریب سے جانا جائے، تو انسان واقعی حیران رہ جاتا ہے کہ محدود وسائل، بغیر کسی حکومتی عہدے اور بغیر کسی بڑے ڈونر کے بھی اگر نیت صاف، […]
ناشکری تا زوال: یوسف زئی قوم اور سوات کا المیہ

زندگی کے ابتدائی ایام میں اکثر اس سوال پر مَیں بہت غور کرتا رہتا تھا کہ آخر قدرت اُن لوگوں پر ہی کیوں زیادہ مہربان دکھائی دیتی ہے، جو ناشکرے ہوتے ہیں؟ ہمیشہ نعمتیں اُس کے حصے میں کیوں آتی ہیں، جو نہ اُن کی قدر جانتا ہے، نہ اہمیت کو محسوس ہی کرتا ہے؟ […]
امریکہ بہادر کا اصل چہرہ

امریکہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتا ہے، مگر اس کے عملی کردار پر نظر ڈالی جائے، تو یہ دعوے کھوکھلے اور تضادات سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں امریکی مداخلت نے جہاں جمہوریت کو فروغ […]
کوٹہ گئی (Doll House)

’’کوٹہ گئی‘‘ کی اِفادیت پر بات کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ آخر ہے کیا؟ہمارے پشتون معاشرے میں بچیاں اپنے بچپن میں گھر کے کسی کونے میں دو تین فٹ کا ایک چھوٹا سا گھر بنالیتی ہیں۔ اس کی دیواریں زمین پر کھینچی گئی لکیروں یا چھوٹے چھوٹے کنکروں سے بنائی جاتی […]
بابوزئی قامی تڑون جرگہ اور سلگتے مسائل

’’بابوزئی قامی تڑون جرگہ‘‘ تحصیلِ بابوزئی کے اندر ایک مکمل غیر سیاسی جرگہ ہے، جس نے سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر اُن لوگوں کو جمع کیا ہے، جن کے خلاف کسی قسم کے اخلاقی، مالیاتی یا دیگر الزامات نہیں…… اور جن کا مقصد صرف اور صرف تحصیلِ بابوزئی میں رہنے والے لوگوں […]
امریکی خارجہ پالیسی اور رجیم چینج

20ویں صدی کے وسط میں اور جنگِ عظیم دوم کے بعد یورپی طاقتیں (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کم زور ہوگئیں۔ جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین دو مضبوط طاقتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ 1946ء میں ونسٹن چرچل کے "Iron Curtain” خطاب میں وہ کہتے ہیں کہ ایک لوہے کا پردہ برِاعظم (یورپ) پہ اُتر […]
شہاب الدین محمد غوری: عروج، فتوحات اور تاریخ

تاریخِ اسلام اور برصغیر کی سیاسی تشکیل میں اگر کسی ایک کردار کو فیصلہ کن کہا جائے، تو وہ شہاب الدین محمد غوری کا ہے۔ افغانستان کے پہاڑی خطے ’’غور‘‘ میں پیدا ہونے والا یہ سپہ سالار محض ایک فاتح نہیں تھا، بل کہ ایک ایسا معمارِ تاریخ تھا، جس کے فتوحات نے آنے والی […]
مصنوعی ذہانت اور بدلتا ہوا انسانی مستقبل

زمانے کی رفتار ہمیشہ سے برق رفتار رہی ہے، لیکن عصرِ حاضر میں تبدیلی کے اس پہیے نے وہ ہمہ گیر صورت اختیار کر لی ہے، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میںمگر آج کے حالات دیکھ کر یوں […]
عالمی طاقت کی سیاست

نئے سال کے پہلے ہی ہفتے امریکہ نے ایک آزاد ملک، وینزویلا، پر حملہ کرکے اپنی ترجیحات ایک بار پھر واضح کر دی ہیں۔ سادہ الفاظ میں اس اقدام کا پیغام یہی ہے کہ امریکہ آج بھی طاقت پر یقین رکھتا ہے، اور جہاں، جب اور جس کے خلاف چاہے، طاقت کے استعمال سے گریز […]
خیبر پختونخوا بہ مقابلہ پنجاب

پاکستان میں صوبائی سیاست محض جماعتی مقابلے تک محدود نہیں رہی، بل کہ اب یہ حکم رانی کے انداز، ترجیحات اور عوامی توقعات کے تناظر میں بھی زیرِ بحث ہے۔ حالیہ برسوں میں اگر خیبر پختونخوا اور پنجاب کا جائزہ لیا جائے، تو دونوں صوبوں میں سیاسی رویوں اور انتظامی ترجیحات کا فرق نمایاں دکھائی […]
نصابِ تعلیم: اعتدال سے نظریہ سازی تک

پاکستان میں نصابِ تعلیم کبھی محض درسی مواد کا مجموعہ نہیں رہا، بل کہ ریاستی ترجیحات، سیاسی اُتار چڑھاو اور قومی بیانیے کی تشکیل کا ایک طاقت ور ذریعہ رہا ہے۔ آزادی کے فوراً بعد کے برسوں میں اگرچہ نصاب میں مذہب اور قومی شناخت کا ذکر موجود تھا، تاہم مجموعی رجحان نسبتاً اعتدال پسند […]
سوات موٹر وے فیز ٹو: تاخیر، ناکامی اور نقصان

اس وقت نہ صرف مینگورہ شہر غیر قانونی رکشوں اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شدید گھٹن کا شکار ہے، بل کہ اربن پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے آبادی کے غیر فطری پھیلاو (Irregular Expansion) نے لاکھوں لوگوں کو محصور کر دیا ہے۔ہم جیسے غیر ممالک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑی بھاری قیمت […]
کیا واقعی پاکستان اسلامی ریاست نہیں؟

کچھ مخصوص حلقوں کی جانب سے پاکستان کے بارے میں یہ دعوا کیا جاتا ہے کہ ’’پاکستان اسلامی ریاست نہیں۔‘‘آئیے، اس موضوع پر چند سوالات اُٹھاتے ہیں کہ آیا یہ دعوا آئینی، دینی اور تاریخی حقائق سے ہم آہنگ ہے…… یا جذبات، سطحی فہم اور محدود مطالعے کا نتیجہ ہے۔سوال:۔کیا واقعی پاکستان اسلامی ریاست نہیں؟جواب:۔ […]
ہنر کی قدر، انسان کی محرومی

’’بڑھئی‘‘ کے عنوان سے یہ اُردو درسی متن، جو 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں اُس وقت کے صوبہ سرحد (NWFP)، موجودہ خیبر پختونخوا، میں پرائمری سطح پر بہ طورِ نصاب پڑھایا جاتا رہا۔ بہ ظاہر محنت، دیانت اور خدمتِ خلق کی اخلاقی اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔ بچوں کے لیے لکھی گئی اس سادہ […]
توروالی شناخت، دریا اور ترقی کا فریب

ہم ایک مقامی (Indigenous) قوم ہیں۔ اکثر لوگوں کے لیے یہ جملہ محض ایک تجریدی دعوا ہے، لیکن ہمارے لیے، بالائی سوات کے توروالی لوگوں کے لیے یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے، جس کی جڑیں ریاستی ڈھانچوں میں نہیں، بل کہ زمین، دریا، زبان اور یادداشتوں میں پیوست ہیں۔ ہماری شناخت اُن پہاڑوں سے […]