گندھارا کی روداد

جنوبی ایشیا کے تاریخی طور پر مشہور ثقافتی خطوں میں سے ایک خطہ گندھارا کے نام سے مشہور ہے۔ گندھارا بہ یک وقت ایک ایسی متنوع شناخت کو جنم دیتا ہے، جو جغرافیائی، تاریخی، فنی اور مذہبی پہلوؤں پر محیط ہے۔ یہ تمام پہلو مل کر ایک ایسی دل چسپ داستان کی غمازی کرتے ہیں، […]
لاوارث گندھارا

(زیرِ نظر تحریر دراصل میرے ہی ایک انگریزی آرٹیکل "The (un)claimed Gandhara” کا اُردو ترجمہ ہے، جو 26 جولائی 2020ء کو روزنامہ "The News”کے لیے اُس وقت لکھا تھا، جب تخت بھائی میں بدھا کے ایک بڑے مجسمے کو توڑا گیا تھا۔ ترجمہ کے لیے کامریڈ امجد علی سحابؔ کا مشکور ہوں، ڈاکٹر رفیع اللہ۔)تخت […]
آرکیالوجی اور پاکستانی یونیورسٹی

پاکستان میں آرکیالوجی کی علم کی روایت بہت طویل ہے، جو کہ 19ویں صدی کے برطانوی ہندوستان کے دوران میں وجود میں آئی۔ 1960ء کی دہائی کے اوائل سے ابھی تک اسے ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں میں ایک علمی مضمون کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ اس پوری کہانی میں اہم موڑ وہ […]
والی صاحب کا بنگلہ اور محکمۂ آثارِ قدیمہ

(نوٹ: یہ مختصر سی تحریر ڈاکٹر رفیع اللہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، کی ایک پشتو تحریر کا ترجمہ ہے، مترجم) یہ تنازع دراصل والی سوات کے بنگلے کی ملکیت پر ہے، جو ایک طرف والی سوات کے جانشین اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے وزیر فضلِ حکیم کے درمیان خرید و […]