ماہِ رمضان کی اصل عبادت

رمضان المبارک محض روزے رکھنے اور عبادات بڑھانے کا نام نہیں، بل کہ یہ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے اور معاشرے کے کم زور طبقات کے ساتھ عملی ہم دردی کا مہینا ہے۔ یہ وہ مقدس زمانہ ہے، جس میں ایک صاحبِ استطاعت شخص خود بھوک اور پیاس کی کیفیت سے گزرتا ہے، تاکہ […]
سوشل میڈیا، بگڑتی نسل اور ہماری ترجیحات

یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج سوشل میڈیا (خصوصاً TikTok جیسی تیز رفتار اور وائرل کلچر کو فروغ دینے والی ایپس) خاموشی سے، مگر غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ ہمارے معاشرے کی ترجیحات کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض تفریح یا اظہارِ رائے تک محدود نہیں، بل کہ […]
تعلیم کا اصل مقصد (فکری مکالمہ)

تعلیم کا مقصد صرف انسان کو روزگار کے قابل بنانا یا اسے معاشی دوڑ میں شامل کرنا نہیں، بل کہ اس کی اصل غایت انسان کو انسان بنانا ہے۔ ایسا انسان جو صرف زندہ رہنا نہ جانتا ہو، بل کہ باوقار، بامقصد اور باشعور زندگی جینے کا سلیقہ بھی رکھتا ہو۔ زندہ رہنا تو فطری […]
کیا ہم واقعی باشعور لوگ ہیں…؟

’’خیبر پختونخوا کے عوام سب سے زیادہ باشعور ہیں۔‘‘یہ جملہ اتنی بار دہرایا جاچکا ہے کہ اب یہ نعرہ کم اور طنز زیادہ لگتا ہے۔ باشعور ہونا کوئی معمولی دعوا نہیں، یہ ایک بھاری ذمے داری ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس شعور کا اظہار سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں میں کم […]
امریکہ بہادر کا اصل چہرہ

امریکہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتا ہے، مگر اس کے عملی کردار پر نظر ڈالی جائے، تو یہ دعوے کھوکھلے اور تضادات سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں امریکی مداخلت نے جہاں جمہوریت کو فروغ […]
خیبر پختونخوا بہ مقابلہ پنجاب

پاکستان میں صوبائی سیاست محض جماعتی مقابلے تک محدود نہیں رہی، بل کہ اب یہ حکم رانی کے انداز، ترجیحات اور عوامی توقعات کے تناظر میں بھی زیرِ بحث ہے۔ حالیہ برسوں میں اگر خیبر پختونخوا اور پنجاب کا جائزہ لیا جائے، تو دونوں صوبوں میں سیاسی رویوں اور انتظامی ترجیحات کا فرق نمایاں دکھائی […]
شخصیات کی سیاست اور اصولوں کا جنازہ

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ اب نظریات کا میدان نہیں رہا، یہ شخصیات کے گرد گھومتے تنازعات کا ایک ہنگامہ بن چکا ہے، جہاں اُصول، اخلاق اور استدلال کی کوئی مستقل بنیاد باقی نہیں رہی۔ ہر جماعت اپنی پسندیدہ شخصیت کو حق اور اپنے مخالف کو باطل قرار دینے میں اس قدر آگے جا چکی ہے […]
قوم اور ہجوم میں فرق (تفصیلی جائزہ)

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کی اجتماعی بصیرت، فکری یک جہتی اور اجتماعی ذمے داری کے احساس میں پوشیدہ ہوتی ہے…… لیکن جب ایک قوم مسلسل سیاسی انتشار، بے یقینی، باہمی عدمِ اعتماد اور فکری انتشار کا شکار ہوجائے، تو وہ اپنی قومیت کے اس مضبوط رشتے سے بہ تدریج دور ہوتی جاتی […]
احتجاجی سیاست یا عوامی اذیت؟

پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں مسائل اپنی انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، بل کہ عوام کو روزمرہ کی زندگی میں اذیت سے دوچار کرتے ہیں۔ یہ اذیت اکثر غیر ضروری مشغولیات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جس میں قوم کا وقت اور […]
مینگورہ کی بے ہنگم ٹریفک کا ممکنہ حل

ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی وادی کی معاشی، تجارتی اور ثقافتی سرگرمیوں کا دل سمجھا جاتا تھا…… مگر آج یہی شہر ٹریفک کے ایسے گھن چکر میں پھنس چکا ہے کہ روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ہر گلی، ہر چوک اور ہر بازار میں گاڑیوں کا جمِ غفیر، رکشوں […]
پاکستان کی تباہی کا اصل سبب

ہم ایک عرصے سے یہی سنتے اور کہتے آئے ہیں کہ ملک میں کرپشن بڑھ گئی ہے۔ سیاست دانوں نے خزانے لوٹ لیے ہیں۔ فُلاں وزیر نے بیرونِ ملک جائیدادیں بنا لی ہیں اور فُلاں ایم این اے یا ایم پی اے دولت کے انبار میں کھیل رہا ہے۔یہ باتیں درست ہیں، لیکن سوال یہ […]
قامی تڑون جرگہ بابوزئی کی اصلاحی تحریک

وادیِ سوات پھولوں، پہاڑوں اور دریاؤں کی حسین سرزمین قدیم زمانے سے اپنی خوب صورتی، شرافت اور اعلا تہذیبی اقدار کی بہ دولت پہچانی جاتی ہے۔ سوات کے باسی اپنے اخلاق، مہمان نوازی، مذہبی وابستگی اور امن پسندی کے لیے مشہور ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے، جہاں قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ انسانی کردار کی […]
انصاف: ریاست کی بنیاد اور قوم کی بقا

دنیا کے نقشے پر ترقی یافتہ ممالک کو اگر بہ غور دیکھا جائے، تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اُن قوموں کی اصل قوت اُن کی فوجی طاقت، اقتصادی استحکام یا سائنسی ایجادات نہیں، بل کہ عدل و انصاف پر مبنی نظامِ ریاست ہے۔ وہ اقوام جنھوں نے انصاف کو اپنی […]
میڈیا لٹریسی: جھوٹ کا توڑ

یہ دور سوشل میڈیا کا ہے۔ ہر انسان کے ہاتھ میں ایک موبائل فون ہے، جس کے ذریعے وہ دنیا بھر کی معلومات حاصل کر سکتا ہے، اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے اور مختلف خبروں سے فوری آگاہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے تبادلے کو آسان اور تیز تر بنا […]
عہدِ فریب

جھوٹ ہر مذہب، ہر اخلاقی نظام اور ہر باشعور معاشرے میں ایک ناپسندیدہ اور مذموم عمل سمجھا جاتا ہے۔ ایک عام انسان جھوٹ بولے، تو اسے دھوکا دہی، فریب اور بددیانتی کہا جاتا ہے…… لیکن جب یہی جھوٹ ایک سیاست دان بولے، تو کیا اسے سیاسی چالاکی، حکمت عملی یا ’’سیاسی بیان بازی‘‘ کَہ کر […]
قارونی جمہوریت

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’’قارونی جمہوریت‘‘ ایک ایسا المیہ بن چکی ہے، جس نے عوام کو مزید غریب اور سیاست دانوں کو مزید امیر بنانا اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں، بل کہ سیاسی اشرافیہ کی ایک تقریب ہے، جس میں اقتدار چند خاندانوں کے ہاتھ میں مرکوز ہوچکا ہے۔ اس نظام […]
بدعنوان سیاست کا نتیجہ کم زور ریاست

دنیا بھر میں حکومتوں کا نظام سیاسی قیادت کے تحت چلتا ہے۔ سیاسی محکمہ کسی ملک کی رہ نمائی، پالیسی سازی اور دیگر سرکاری محکموں کی نگرانی کا ذمے دار ہوتا ہے۔ جب یہی سیاسی محکمہ بدعنوانی، اقرباپروری، نااہلی اور ذاتی مفادات کا شکار ہوجائے، تو اس کے اثرات صرف اسی محکمہ تک محدود نہیں […]
ریاست شخصیات کی محتاج نہیں ہوتی

کسی بھی ملک یا قوم کی بقا اور ترقی کا راز اس کی ریاستی ساخت، آئینی نظام اور ادارہ جاتی نظم و نسق میں پنہاں ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک فرد کی ذہانت، بصیرت یا مقبولیت میں۔ تاریخ کا یہ مسلمہ سبق ہے کہ ریاستیں شخصیات کی نہیں، بل کہ شخصیات ریاستوں کی محتاج […]
گریٹر اسرائیل بہ مقابلہ گریٹر مسلم وژن

تاریخ گواہ ہے کہ خواب وہی پورے ہوتے ہیں، جو مستقل مزاجی، نظریاتی وابستگی اور عملی حکمت عملی کے ساتھ دیکھے جائیں۔ یہ اُصول صرف افراد پر نہیں، بل کہ اقوام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا منصوبہ یا خواب، جو بہ ظاہر ایک افسانوی، مذہبی یا سیاسی نعرہ لگتا تھا …… آج کی […]
اہلیت اور میرٹ

کسی بھی معاشرے کی کام یابی اور ترقی کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں اختیارات کن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں؟ اگر قوم کی باگ ڈور اہل، دیانت دار اور باصلاحیت افراد کے سپرد کی جائے، تو وہ نہ صرف اداروں کو مضبوط بناتے ہیں، بل کہ نئی نسل کے […]
ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں، جہاں قوموں کے درمیان تعلقات کی بنیاد معاہدوں پر رکھی جاتی ہے۔ دفاعی معاہدے، تجارتی سمجھوتے، دوستی کے چارٹر اور سفارتی وعدے …… سب کچھ ایک اُصول پر قائم ہوتا ہے:’’باہمی اعتماد اور ذمے داری کا احساس۔‘‘دنیا بھر میں ممالک باہم اپنے مفادات، عزت، سلامتی اور مستقبل […]