یادوں کے دریچے سے

غلط فہمی ہوجائے، تو بڑی مشکل سے اِزالہ ہوتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ہم بہ سلسلۂ ملازمت ڈگر میں مقیم تھے۔ رہایش کی شدید قلت تھی۔ ہم ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں رہنے پر مجبور تھے۔ پورا علاقہ بونیر بجلی سے محروم تھا اور ابھی وہ […]

نجاتِ دیدۂ و دل کی گھڑی نہیں آئی

تأ کھید سُلیمنیک سی چھلے ھئی کیدی آرا چپٹ پن دے یدے مھیئے چونجو نہ لشا (ترجمہ): ’’تم نے کب سُلیمینک کی طرح چٹانوں کو چیرا ہے، اک ہم وار راستے سے آکر میرے سامنے مت اترا۔‘‘ بحرین کے نئے تھانے کے بالکل سامنے دریا کی مشرق کی جانب ایک چٹان ہے، جو دریا سے […]

کامریڈ بہادر شیر افغان کون ہے؟

جب معلوم و نامعلوم قوتوں کی جانب سے حالیہ اہلِ سوات کی نبض ’’سہ بارہ‘‘ چیک کی جا رہی تھی، تو مٹہ میں ایک سیاہ پوش شخص جو میانہ قد تھا، جس کے بال بھونسلے، داڑھی صاف، موچھ گھنی اور آواز گرج دار ہونے کے ساتھ ساتھ پُراعتماد بھی تھی۔ وہ تیور بدل بدل کر […]

60ء کی دہائی کا سوات

بچپن میں ایک عوامی گیت سنا تھا۔ کچھ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ ’’اگر یہی صورتِ حال رہی، تو مینگورہ بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘کہ داسے حال وی نہ ٹینگیگی منگورہ ورتہٹینگ شہ زرگرہ ورتہاجمالاً کسی زرگر نے ٹانگ میں مکان بنوایا تھا، تو برسات کے پہلے ریلے میں بہ گیا تھا۔کسی […]

ریاستِ سوات کے سول اور عدالتی نظام کے چند پہلو

قطعِ نظر اس بات کے کہ معترضین کیا کہتے ہیں…… اور مجھے کن القاب سے نوازتے ہیں……وہ جانے اور ان کا ضمیر! میرے خیال میں سابقہ ریاستِ سوات کا نظام جس طرح 52 سال تک چلتا رہا، جس طرح اس سسٹم نے ارتقا کے مراحل طے کیے اور جو عین میچورٹی کی حالت میں زمین […]

ماضی کے جھروکے سے

سورج غروب ہو رہا تھا۔ مَیں اپنی دانست میں مینگورہ سے اپنے گھر سیدو شریف جا رہا تھا۔ میری عمر اُس وقت بہ مشکل کوئی 9، 10 سال ہوتی ہوگی۔ بازار بالکل سنسان دکھائی دے رہا تھا۔ تانگوں کا اڈا بھی خالی تھا۔ اگر کئی تانگا ہوتا بھی، تو میرے پاس ایک پیسا بھی نہیں […]