پاکستان میں سوشل ازم کی جد و جہد کی تاریخ

پاکستان میں سوشلزم کی جد و جہد کی تاریخ محض عام سیاسی نظریات کی داستان نہیں، بل کہ محنت کشوں کے خوابوں، ادیبوں کی تحریروں، طلبہ کی بغاوتوں اور آمریتوں کے خلاف مزاحمت کی ایک مسلسل جدلیاتی روایت ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں سوشلزم یا اس کی جد و جہد کبھی مکمل […]
نوجوان ناکام ہے یا سرمایہ دارانہ نظام؟

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پھر یہ قدرتی بات بن جاتی ہے کہ آج سب سے زیادہ اگر کوئی طبقہ بے یقینی، اضطراب اور خاموش غصے کا شکار ہے، تو وہ یہی طبقہ (نوجوان) ہیں۔ یونیورسٹی کی ڈگری ہاتھ میں ہے، مگر نوکری نہیں۔ ہنر موجود […]
بھٹو کا سوشلزم… ادھورا مگر روشن خواب

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات محض راہ نما نہیں ہوتے، بل کہ عہد بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے سے آگے کا خواب دیکھتے ہیں اور عوام کے شعور میں ایک نئی زبان پیدا کرتے ہیں۔ 1970ء کی دہائی میں ایسا ہی ایک عہد جنم لیتا ہے، جب ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست […]
اسٹیبلشمنٹ کا مارکسی تجزیہ

ریاست، اقتدار اور طاقت کے سوال پر جب ہم مارکسی عدسے سے نظر ڈالتے ہیں، تو ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ محض ایک مبہم سیاسی اصطلاح نہیں رہتی، بل کہ ایک واضح اور متعین طبقاتی مفہوم اختیار کرلیتی ہے۔ عام سیاسی گفت گو میں اسٹیبلشمنٹ سے مراد عموماً فوج، بیوروکریسی یا خفیہ ادارے لی جاتی ہے، مگر مارکسزم اس […]
پاکستان کا طبقاتی بحران (مارکسی تناظر)

یہ ایک ایسا عہد ہے جس میں پاکستان بہ ظاہر سیاسی نعروں، معاشی پیکجوں اور وقتی اصلاحات کے شور میں گھرا ہوا ہے… مگر اس شور کے پیچھے ایک گہری خاموشی بھی موجود ہے۔ وہ خاموشی جو مزدور کے خالی ہاتھوں، کسان کے بنجر کھیتوں اور متوسط طبقے کے ٹوٹتے خوابوں میں سنائی دیتی ہے۔ […]
پاکستان کا ساختیاتی بحران (مارکسی تجزیہ)

پاکستان اس وقت جس سیاسی و معاشی بحران سے گزر رہا ہے، اسے محض حکم رانوں کی نااہلی، شخصیات کی کش مہ کش یا ادارہ جاتی تنازعات تک محدود کرنا حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔ اس بحران کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں، اور اسے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔یہ دراصل ایک طبقاتی ریاست کا […]
خدا، بھوک اور سرمایہ دارانہ فریب

اشتراکی سوویت انقلاب کے عظیم راہ نما لینن نے کہا تھا: ’’ہم مذہبی لوگوں سے موت کے بعد والی جنت پر نہیں الجھنا چاہتے۔ ہمارا مقصد اِس زندگی کو تمام انسانیت کے لیے جنت بنانا ہے۔‘‘لبرل ازم، جدید سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔ اس فکر کے حامل لوگ مادر پدر آزادی کو ہی اصل […]
نظریات کے چراغ اور کارپوریٹ اندھیرا
یہ محض تصویر نہیں…… ایک تاریخ ہے، جد و جہد ہے، نظریات کی کہانی ہے۔تصویر کے دائیں جانب فضل رحمان نونو، درمیان میں عبداللہ یوسف زئی اور ساتھ عبدالعزیز شاہین ایڈوکیٹ (سابقہ محکمۂ تعلیم) نظر آتے ہیں۔ یہ سب مینگورہ شہر کے اصلی باشندے ہیں۔مینگورہ ایک چھوٹے قصبے سے بڑھتے بڑھتے خیبرپختونخوا کا آبادی کے […]
5 جولائی کے اثرات

انگریزوں نے برصغیر میں اپنی حکم رانی کو طول دینے کے لیے مقامی مذاہب میں مداخلت کی۔ مذہبی فہرست میں از سر ِنو ترجیحات ترتیب دیں۔ جہاں سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا، اُن مذاہب کو بلند مقام دیا اور جن سے اندیشہ تھا، اُنھیں فہرست کے آغاز میں رکھا۔اسی مداخلت نے برصغیر کے تمام […]
سرمایہ دارانہ نظام سہ شے دے؟