60ء کی دہائی کا سوات

بچپن میں ایک عوامی گیت سنا تھا۔ کچھ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ ’’اگر یہی صورتِ حال رہی، تو مینگورہ بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘کہ داسے حال وی نہ ٹینگیگی منگورہ ورتہٹینگ شہ زرگرہ ورتہاجمالاً کسی زرگر نے ٹانگ میں مکان بنوایا تھا، تو برسات کے پہلے ریلے میں بہ گیا تھا۔کسی […]
5 جون، جشنِ سوات اور چند یادیں

سوات کا جشن 1949ء کے بعد ہر سال 12 دسمبر کو یومِ تاج پوشی کے نام سے منعقد ہوتا تھا۔ اس موقع پر بیرون ریاست سے بھی سرکاری مہمان آتے تھے۔ سوات کی شدید سردی اُن کے لیے ایک مشکل طلب مسئلہ تھی۔ چند سال بعد والیِ سوات نے فیصلہ کیا کہ 12 دسمبر کی […]
The Archaeology of Swat Between the Two World Wars (Part 01)
ریاستِ سوات کے سول اور عدالتی نظام کے چند پہلو

قطعِ نظر اس بات کے کہ معترضین کیا کہتے ہیں…… اور مجھے کن القاب سے نوازتے ہیں……وہ جانے اور ان کا ضمیر! میرے خیال میں سابقہ ریاستِ سوات کا نظام جس طرح 52 سال تک چلتا رہا، جس طرح اس سسٹم نے ارتقا کے مراحل طے کیے اور جو عین میچورٹی کی حالت میں زمین […]
ماضی کے جھروکے سے

سورج غروب ہو رہا تھا۔ مَیں اپنی دانست میں مینگورہ سے اپنے گھر سیدو شریف جا رہا تھا۔ میری عمر اُس وقت بہ مشکل کوئی 9، 10 سال ہوتی ہوگی۔ بازار بالکل سنسان دکھائی دے رہا تھا۔ تانگوں کا اڈا بھی خالی تھا۔ اگر کئی تانگا ہوتا بھی، تو میرے پاس ایک پیسا بھی نہیں […]
ریاستِ سوات دور کے سڑکیان

گذشتہ دنوں سوات کی ایک مقامی ویب سائٹ ’’سوات انسائیکلو پیڈیا‘‘ پر ریاستی دور کی سڑکوں کے متعلق عملہ کی ایک تصویر شیئر کی گئی تھی جس پر مختلف مزاج کے لوگوں نے اپنے ظرف، معلومات اور مزاج کے مطابق تبصرہ کیا تھا۔ وہاں پر مجھ سے جو بھی ممکن ہو سکا،جواب دیا تھا…… مگر […]
ریاستِ سوات کا خفیہ فنڈ

(یہ تحریر سوات کی ایک مقامی ویب سائٹ پر 29 جون 2013ء کو شائع کی جاچکی ہے۔ پڑھتے وقت مذکورہ تاریخ مدِ نظر رکھی جائے، مدیر ادارتی صفحہ۔) سعداللہ جان برق پختونخوا کے منفرد اندازِ تحریر اورمؤقرحیثیت کے مالک معروف دانش ور اور اہلِ قلم ہیں۔ ان کی تحریروں کا انوکھا پن اور دل موہ […]
جمعہ خانہ، ڈز کوہ!

تحریر: غلام احد ایڈوکیٹ (سیدو شریف) جس وقت آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے، اُس وقت روزے شروع ہوچکے ہوں گے۔ تاہم ابھی سے (الحمد اللہ) استقبالِ رمضان کی تیاریاں زور و شور اور خالص دینی جذبے سے جاری ہیں۔ اشیائے خور و نوش خریدی جا رہی ہیں۔ معمول سے زیادہ عبادات کے پختہ […]
سرزمینِ سوات (تبصرہ)

برصغیر پاک و ہند پر جب انگریز حکم ران تھے، تو وہ اپنا تسلط قائم رکھنے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے مختلف حربوں سے کام لیتے تھے۔ جہاں وہ طاقت کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرسکتے، تو اپنی بے محابا عسکری قوت سے کام لیتے، جہاں انھیں محسوس ہوتا کہ بات چیت یا نرم […]
قلعہ وال

میں یہی کوئی گیارہ بارہ سال کا لڑکا تھا۔ ان دنوں ہم ہائی سکول شگئی میں پڑھتے تھے۔ ابھی سنٹرل جیل سیدوشریف کو سکول میں تبدیل کرنے کا عمل جاری تھا۔ ہمیں شگئی تک افسر آباد سے روزانہ کم از کم چھے کلومیٹر آنا جانا پڑتا تھا۔ ہمارے گھر کے برآمدے میں غلہ رکھنے کے […]
جہانزیب کالج

مینگورہ سیدو روڈ پر واقع جہانزیب کالج کا شمار صرف خیبر پختون خوا ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے نامور کالجوں میں ہوتا ہے۔ ریاست سوات کے حکمران میانگل جہان زیب المعروف والی صاحب نے اسے اپنے نام "جہانزیب” سے موسوم کیا تھا۔ اس صوبے میں یہ کالج، اسلامیہ کالج پشاور کے پائے کا تھا […]
سواتی مٹھائی کی کہانی، سیف اللہ کی زبانی

مینگورہ شہر کے حاجی بابا چوک اور نشاط چوک کے درمیان چھوٹا سا ایک چوک اور بھی ہے جسے مین بازار چوک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی چوک میں بچپن سے حلوائی کی ایک چھوٹی سی دکان دیکھتا چلا آرہا ہوں، جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ […]
شرب گل

کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں، سوات میں ایک ’’شرب گل‘‘ (یا شرف گل) نامی مزاحیہ فن کار ہوا کرتا تھا جو لوگوں کو ہنساتا تھا۔ نامی گرامی لوگوں کو بھری محفل میں مذاق مذاق میں گالیوں سے بھی نوازتا تھا اور لوگ پھر بھی ہنستے تھے۔ کوئی ان کے منھ سے گالی کھا کر […]