ریاستِ سوات کی سول تنظیم

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]
ریاستِ سوات کا بھونڈے انداز سے ادغام

یوسف زئی ریاستِ سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت فلیگ سٹاف سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔ پھر نہ کسی نے والئی سوات کی رہایش گاہ پر اسے لہراتے ہوئے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔ فضل رازق شہاب […]
ریاست سوات دور کا شگئی سکول

شگئ سکول سیدو شریف کے ساتھ ہماری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ مرغزار روڈ کے کنارے ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے ۔ 1949ء کے ابتدا میں ودودیہ ہائی سکول کے پرائمری بلاک میں مختصر مدت کے بعد ہم کو اس نئے تعمیر شدہ سکول میں منتقل کیا گیا۔ یہاں پر ہمارے اولین […]
ریاستی دور، سوات سنیما اور ودودیہ سکول کی یادیں

جناب نعیم اختر کی ایک پوسٹ سے شہ پاکر آپ سے چند یادیں شیئر کرتا چلوں، جس میں اُنھوں نے سوات کے ایک مایہ ناز آرٹسٹ مراد کا ذکر کیا تھا، جو سنیما کے لیے سائن بورڈ بناتے تھے۔ خاص کر نئی فلم کے بارے میں مختلف سائز کے بورڈ تیار کرتے تھے۔جیسا کہ نعیم […]
سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کا ارتقائی سفر (دوسرا حصہ)

سوات پی ڈبلیو ڈی کے کچھ امتیازی پہلو یہ بھی ہیں کہ اس کی سپریم اتھارٹی والئی سوات خود تھے۔محکمے کے سربراہ محمد کریم صاحب اور حکم ران کے درمیان براہِ راست رابطہ رہتا تھا۔ والئی سوات اس محکمے کو ’’اپنا محکمہ‘‘ کہتے تھے۔ محمد کریم صاحب، ڈائریکٹر تعلیم سید یوسف علی شاہ اور ڈائریکٹر […]
سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کا ارتقائی سفر

قرائین سے پتا چلتا ہے کہ باچا صاحب میاں گل عبدالودود کے عہد میں بعض محکموں کے واضح خدوخال نہیں تھے۔ فوج ابتدا ہی سے تعمیری سرگرمیوں میں مصروفِ عمل تھی۔ مثال کے طور پر قلعوں کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع، پلوں وغیرہ کی تعمیر میں فوج ہی سے لیبر کا کام لیا جاتا تھا۔ […]
سوات میں کسی خان یا پختون کو بادشاہ کیوں نہیں بنوایا گیا؟

کئی سالوں سے عام لوگوں اور تحقیق کرنے والے طلبہ کی طرف سے اس سوال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یا بار بار یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ سوات میں بڑے بڑے اور طاقت ور یوسف زی خوانین موجود تھے، تو ضرورت پڑنے پر اُنھوں نے اپنے میں سے کسی کو سوات […]
امیر چمن خان (نائب سالار ریاستِ سوات)

اس تحریر کے ساتھ شائع ہونے والی تصویر میں ریاست کی تاریخ کے تین اہم کردار نظر آرہے ہیں۔ بائیں سے شہزادہ میانگل جہان زیب ولی عہد ریاست، درمیان میں کھڑے محمد فقیر خان نائب سالار جب کہ دائیں امیر چمن خان نائب سالار ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]
ماضی کی پوٹلی سے

مَیں بچپن کی بعض باتیں صرف اس لیے دُہراتا ہوں کہ شاید کوئی اُن وقتوں کا ابھی تک زندہ ہو اور اُس سے رابطہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ سیدو شریف کے موجودہ رکشوں کے سٹینڈ سے جو گلی سیدو بابا کی مسجد کی طرف نکلتی ہے۔ اُس کے دونوں طرف اُن دنوں مکانات تھے۔ […]
حاجی رسول خان (مرحوم) کی یاد میں

حاجی رسول خان صاحب کو (مرحوم) لکھتے ہوئے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ کیا سدا بہار شخصیت تھی اُن کی۔ مَیں نے اُن کے کئی روپ دیکھے ہیں، مگر اصل رابطہ تو کئی سالوں بعد ہوا، جب اخبار میں اُن کے کالم پڑھنے کو ملے۔ ورنہ سکول اور کالج کی زندگی میں تو اُنھیں […]
تاریخی ’’گیمن کمپنی‘‘ کا ریاستِ سوات میں کام

آج 22 ستمبر کی صبح کو فیس بُک پر ایک ویڈیو ’’گیمن پل خوازہ خیلہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہم ہر پُل کو ’’گیمن‘‘ سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: […]
چکیسر سے جڑی چند یادیں

سنہ 1962، 63ء کی بات ہے۔چکیسر میں ایک شادی کے موقع پر رات کو رقص اور موسیقی کا پروگرام تھا، جو کھلی جگہ میں ہورہا تھا۔ چند معزز صاحبان تو کرسیوں پر بیٹھے تھے۔باقی سب لوگ کثیر تعداد میں دائرے کی صورت کھڑے تھے۔ مَیں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ نسبتاً ایک نیم تاریک […]
وہ بھی کیا دن تھے!

آپ کے خیال میں دوسری جنگِ عظیم میں کساد بازاری، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کس لیول تک بڑھ گئی ہوگی اور اس کا تدارک حکومتوں نے کس طرح کیا ہوگا؟ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ میری پیدایش تو 1943ء میں ہوئی، مگر ہمارے […]
افسر آباد کی کچھ یادیں

جب مَیں نے ہوش سنبھالا، تو اُس وقت ہماری مسجد افسر آباد (سیدو شریف) کے امام حافظ بختیار صاحب تھے۔ ان کی رہایش محمد شیرین کمان افسر صاحب (بعد میں کپتان/ منصف) کے پڑوس میں تھی۔ مسجد اُس وقت ایک بہت بڑے کمرۂ صلات، برآمدہ اور ایک کمرہ صحن کے کنارے باہر سے آئے طلبہ […]
ولی عہد میانگل اورنگزیب (مرحوم) سے وابستہ کچھ یادیں

آج جب مَیں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، 3 اگست ہے، جو ریاستِ سوات کے ولی عہد میانگل اورنگزیب کا یومِ وفات ہے۔ اُن کی زندگی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ کئی ڈاکیومینٹریز اُس سدا بہار شخصیت کے بارے میں ایک کلک کی دوری پر موجود ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر […]
توپوں کی صفائی اور پریڈ کے نہ بھولنے والے دن

بچپن میں ہم ہفتے کے دو دن بہت خوش رہتے۔ ایک دن توپوں کی صفائی کا اور دوسرا رسالے، بگلرز اور مشین گن دستے کی مشترکہ پریڈ کا۔ توپ خانے کے کمان افسر عبدالحنان ہمارے پڑوسی تھے اور ہمیں اپنے بیٹوں اسفندیار اور اختر حسین کی طرح پیار کرتے تھے۔ صفائی کے مقررہ روز ہم […]
سوات ہوٹل

’’سوات ہوٹل ‘‘، جسے اَب ’’سوات سیرینہ ہوٹل‘‘ کے نام سے پہچانا اور یاد کیا جاتا ہے، ریاستِ سوات کے دور میں میاں گل جہان زیب المعروف والی صاحب کے دورِ حکم رانی میں سرکاری ہوٹل کے طور پر وجود میں آیا۔ سرکاری ہوٹل میں تبدیل کرنے یا سرکاری ہوٹل قرار دینے سے قبل اس […]
محمد شیرین کمان افسر

آج کی نشست میں ایک تاریخ ساز شخصیت سے آپ کو ملواتا ہوں۔ ان کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ محمد شیرین کمان افسر ہیں، جو ریاست کے گھڑ سوار دستے کے کمان دار تھے۔ سیدو شریف ہی کے رسال دار غلام محمد ان کے سیکنڈ اِن کمانڈ تھے۔ فضل رازق […]
بریکوٹ ہائی سکول، ریاستی دور کی نشانیوں میں سے ایک

ریاستِ سوات کے دور میں تعمیر ہونے والے اکثر سکول دہشت گردی کے دوران میں اڑادیے گئے۔ بچ جانے والے ہائی سکولوں میں بریکوٹ کا سکول بھی شامل ہے، جیسا کہ اس کے بورڈ سے ظاہر ہے۔ یہ سکول 1965ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے تعمیر کے دوران میں، مَیں چکیسر میں ڈیوٹی پر […]
میری واحد منفی خفیہ رپورٹ

4 اپریل 2003ء کو جب میں 60 سال کی عمر میں ملازمت سے سبک دوش ہوا، تو الوداعی پارٹی کے بعد ہیڈکلرک نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور ایک ضخیم فائل مجھے دکھاتے ہوئے کہاکہ گھر جاتے وقت یہ ساتھ لے کے جانا۔ فائل کے اُوپر موٹے لفظوں میں لکھا ہوا تھا: ’’اینول کانفڈنشل […]
ہمارے دور کی چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات

آج دراصل مجھے اچانک خیال آیا کہ اپنے لڑکپن کے ملبوسات کے بارے میں کچھ آپ حضرات کے گوش گزار کروں…… اور چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات کی یادیں بھی تازہ کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ اُس دور میں […]