گلوبل نارتھ کا زوال، نئے دور کا آغاز؟

نوٹ: لفظونہ ڈاٹ کام کے قارئین کی سہولت اور دل چسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تحاریر میں ایک نئے حصے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے زیرِ نظر تحریر میں استعمال شدہ پیچیدہ اصطلاحات کے مفاہیم کی وضاحت آخر میں درج کی جا رہی ہے۔ اگر قارئین مزید بہتری چاہتے ہیں، تو […]
ڈگریاں بہت، مہارت کم، تعلیم کا المیہ

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جس قوم نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا، وہ دنیا کے ہر میدان میں آگے بڑھی… اور جس نے اسے نظر انداز کیا، وہ زوال، جہالت، پس ماندگی اور غربت میں ڈوب گئی۔ افسوس کہ آزادی کے 78 برس بعد بھی ہم ایک متفقہ، مضبوط […]
تفریح کے نام پر ہلڑ بازی کا بڑھتا رجحان

عوامی مقامات اور تفریحی مراکز کسی بھی مہذب معاشرے کا مشترکہ اثاثہ ہوتے ہیں، جہاں ہر شہری کو سکون اور اطمینان کے ساتھ وقت گزارنے کا برابر حق حاصل ہوتا ہے… لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی کے تصور کو اکثر غلط رنگ دے دیا جاتا ہے اور یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ پبلک […]
ڈینڈیلین، گلِ قاصدی، کاسنی، یا ہن کا ساگ

ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے بے شمار پودوں میں کچھ ایسے بھی ہیں، جنھیں ہم محض ’’جنگلی گھاس‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالاں کہ وہ اپنے اندر بے پناہ غذائی اور طبی خصوصیات سموئے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک پودا ’’ڈینڈیلین‘‘ (Dandelion) ہے، جسے اُردو میں گلِ قاصدی، ککروندہ اور بعض اوقات گلِ […]
بدلتی فکر اور معاشرتی بحران

میڈیکل کالج میں آنے کے بعد بہت کچھ دیکھا اور سنا، لیکن یہاں زندگی میں پہلی بار کچھ ایسے الفاظ سننے کو ملے، جن کا نہ مَیں نے اپنے بڑوں سے کبھی ذکر سنا تھا اور نہ ہماری تاریخ میں ان کا کوئی حوالہ ہی ملتا ہے۔ ابتدا میں جب ایسے الفاظ سماعت سے ٹکراتے، […]
گورباچوف، سوویت یونین کا ولن یا ہیرو؟

بیسویں صدی کے آخری برسوں میں دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا، جس نے عالمی سیاست، معیشت اور نظریاتی کش مہ کش کی پوری تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا۔ 1991 عیسوی میں سوویت یونین کا انہدام محض ایک ریاست کا خاتمہ نہ تھا، بل کہ اس نظام کے بکھرنے کا اعلان بھی […]
ربع صدی کا تجربہ، خود ساختہ فلسفہ اور ایمان کریم

مینگورہ شہر کی شاید ہی ایسی کوئی دیوار بچی ہو، جس پر چچا عبد القیوم دامت برکاتہم العالیہ کے اچار کا ’’فرمان کسکرانہ ٹائپ شعر‘‘ والا اشتہار موجود نہ ہو۔ سرِ دست مذکورہ اشتہار ملاحظہ ہو:ہر کھانے میں اچارعبدالقیوم کے اچارمجھ جیسا متشاعر، جس کی خدمات چوبیس گھنٹے بلا معاوضہ و بلا تقاضا ایک برقی […]
تصوف و خودی… اقبال کی فکری کش مہ کش

علامہ اقبالؔ نے اپنے ایک خط میں سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ ’’تصوف عالم اسلام میں اجنبی پودا ہے۔‘‘ تصوف اسلام کے ابتدائی دنوں میں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں تھا۔ مارٹن لِنگز اپنی کتاب (What is Sufism) میں لکھتے ہیں: ’’جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ تصوف، مذہب […]
کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ اور افغانستان کا المیہ

افغانستان کی تاریخ میں کچھ مناظر ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلے نہیں ہوتے، بل کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اور زیادہ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ 27 ستمبر 1996 عیسوی کی صبح بھی ایسا ہی ایک منظر لے کر آئی تھی۔ کابل کی ایک سڑک پر ایک سابق بہادر صدر کی لاش لٹک […]
فلاحی پیکجز کے باوجود غربت برقرار…؟

پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے مختلف ادوار میں متعدد فلاحی پروگرام متعارف کروائے گئے، جن میں رمضان پیکج، وزیر اعظم پیکج، صحت کارڈ اور بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد غریب اور نادار طبقے کو سہارا دینا اور اُن کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا تھا۔ […]
عمرہ اور بھیک منگے، قومی و اخلاقی مسئلہ

عمرہ ایک نہایت مقدس عبادت اور روحانی سفر ہے، جس کی آرزو ہر مسلمان اپنے دل میں رکھتا ہے۔ مسلمان دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں روپے خرچ کرکے صرف اس نیت سے حجازِ مقدس کا رُخ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کریں، اپنی زندگی کی غلطیوں پر توبہ کریں […]
مینگورہ میں ٹریفک کا بڑھتا ہوا بحران

وادئی سوات اپنی تاریخی اہمیت کے باعث پورے ملک میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ خاص طور پر مینگورہ شہر کو سوات کا تجارتی اور معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں روزانہ ہزاروں افراد کاروبار، خرید و فروخت اور دیگر ضروریات کے لیے آتے ہیں… لیکن بدقسمتی سے گذشتہ چند برسوں میں مینگورہ شہر میں […]
فلسفہ عید اور نظام جبر

عید الفطر کا تہوار ہماری سماجی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اس کے حقیقی فلسفے کو محض رسم و رواج کی تہوں میں دبا دیا ہے۔ عام طور پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ دن صرف ایک […]
پاکستان، پالیسی سازی اور تحقیق کے درمیان خلا

پاکستان میں تحقیق اور علمی مہارت کی کمی نہیں، مگر بدقسمتی سے پالیسی سازی میں اس علمی سرمایہ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں ملک میں جامعات، تھنک ٹینکس اور تحقیقی مراکز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر قائم یہ ادارے باقاعدگی […]
چے گویرا… انقلاب، نظریے اور مزاحمت کا استعارہ

چے گویرا کی زندگی پر قلم اٹھانا محض ایک تاریخی شخصیت کی سوانح لکھنا نہیں، بل کہ بیس ویں صدی کی سیاسی ہل چل، نظریاتی کش مہ کش اور انقلابی خوابوں کی پوری داستان بیان کرنا ہے۔ وہ اُن چند لوگوں میں شامل تھے، جنھوں نے اپنی زندگی کو ایک نظریے کے ساتھ اس حد […]
ماضی کی حکمت اور حال کی کم زوری (تقابلی جائزہ)

اگر تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے، تو ہمیں ایسے صاحبِ نظر، صاحبِ بصیرت اور دور اندیش شخصیات کا ذکر ملتا ہے، جو جغرافیائی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف آنے والے حالات کا پیشگی ادراک کرلیتے تھے، بل کہ اپنی مضبوط اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے حالات کا رُخ […]
مذہب، طاقت اور عالمی مفادات کا تصادم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے چند ہی دنوں میں ایران کے دفاعی نظام کو تباہ کر دیا جائے گا اور وہاں اسرائیلی و امریکی حامی، اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا یہ بھی گمان تھا کہ ایران میں موجود حکومت کے […]
کاش ہم میں بہت سے باچا خان ہوتے!

’’مَیں بوٹ اس لیے نہیں پہنتا، کیوں کہ میرا پشتون دست کار اسے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ (باچا خان)پشتون معاشرت میں خودداری اور مقامی ثقافت سے وابستگی محض ایک طرزِ زندگی نہیں، بل کہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کی جڑیں غیرت اور معاشی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔ بزرگوں کے اقوال محض الفاظ […]
کرپشن بیوروکریسی تک محدود نہیں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ایک سینیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آر کے ایک افسر کے پاس پچاس ارب سے زائد اثاثے ہیں۔ سینیٹر صاحب کے بہ قول، یہ آمدن سے زیادہ اثاثوں کا ایک ’’پرفیکٹ کیس‘‘ ہے اور نیب کو اس حوالے سے دیکھنا چاہیے۔ سینیٹر نے اُس افسر کا نام […]
ہیگل تا مارکس… جدلیات نے دنیا کا رُخ کیسے بدلا؟

ہیگل کا نام، ہیگل کا فلسفہ، نیز ہیگل اور کارل مارکس کا تعلق ہم اکثر سنتے اور پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہیگل نے ایسا کیا کہا تھا، جس نے فلسفے اور نظریات کی دنیا پر گہرا اثر ڈالا… اور یہ سمجھنا ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟فلسفہ بہ ذاتِ […]
آئین، ’’پریزن کوڈ‘‘ اور عدالتی ذمے داری

پاکستان کے آئینی نظام میں یہ اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ ریاستی ادارے، عدالتیں اور انتظامیہ سب آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ جب کسی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق معطل ہونے لگیں، شنوائی میں تاخیر ہو اور انصاف کے عمل پر سوالات اٹھنے لگیں، تو اس صورتِ حال میں وکلا کا کردار مزید […]