علامہ اقبال کی فکری پیش بینی اور مسلم دنیا کا مستقبل

(لبِ لباب: علامہ اقبال کی جیوپولیٹیکل بصیرت اور مسلم دنیا کے مستقبل کے بارے میں حیرت انگیز پیش گوئیوں کا احاطہ کرتی مفصل تحریر)20ویں صدی کے اوائل میں جب بیش تر ایشیائی ممالک سیاسی و معاشی عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھے۔ اُس وقت علامہ اقبال نے اپنی فکری گہرائی، سیاسی بصیرت اور غیر […]
مسلم دنیا، شخصی حکومتیں اور سیاسی بے بسی

مسلم دنیا کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جن ممالک میں شخصی یا خاندانی آمریت قائم ہو جاتی ہے، وہاں قومی خودمختاری کا تصور کم زور پڑ جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں عنانِ اقتدار چند افراد یا ایک خاندان کے ہاتھ میں آجاتی ہے […]
ایران، نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کی امریکی-اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں […]
پاکستان میں سوشل ازم کی جد و جہد کی تاریخ

پاکستان میں سوشلزم کی جد و جہد کی تاریخ محض عام سیاسی نظریات کی داستان نہیں، بل کہ محنت کشوں کے خوابوں، ادیبوں کی تحریروں، طلبہ کی بغاوتوں اور آمریتوں کے خلاف مزاحمت کی ایک مسلسل جدلیاتی روایت ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں سوشلزم یا اس کی جد و جہد کبھی مکمل […]
حالات حاضرہ بارے قرآن کی تاریخی پیش گوئیاں

قارئینِ کرام! اگر آج کے عالمی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس وقت دنیا تیزی سے ایک نئے اور خطرناک جنگی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل صف آرا ہیں۔ ایک طرف کئی ممالک کے درمیان اتحاد […]
امریکہ، اسرائیل و ایران تنازع: پاکستان کو درپیش چیلنجز

دنیا اس وقت جس بے چینی اور اضطراب سے گزر رہی ہے، اس کی وجہ مختلف خطوں میں جاری جنگیں ہیں۔ کہیں سرحدی تنازعات ہیں، کہیں نظریاتی اختلافات اور کہیں طاقت اور توازن کی کش مہ کش۔ پہلی جنگِ عظیم سے لے کر آج تک ان جنگی اقدامات نے ثابت کیا ہے کہ جنگ خواہ […]
امریکی اسلحہ ساز صنعت… عالمی بدامنی کی جڑ

سوال ہے کہ کیا ایران کے میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں؟ جواب ہے: ’’نہیں…!‘‘ کیا عراق کی فضائیہ امریکہ یا اسرائیل پر بمباری کرکتی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی ہی میں ہے۔ اور کیا افغانستان فوجی لحاظ سے امریکہ پر حملہ آور ہوسکتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب بھی نفی میں […]
مسلم امہ بہ مقابلہ قومی مفاد

بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ اور تزویراتی تقاضوں نے دورِ حاضر میں مسلم امہ کے روایتی تصور اور جدید ریاست کے مفادات کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا مسلمان دنیا بھر میں ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ایک ایسی قوم […]
قطرے سے گہر ہونے تک

جولائی 2012 عیسوی میں اٹھارویں ترمیم کا ’’بھونچال‘‘ آیا، تو وفاق کی کئی نامی گرامی وزارتیں اور ادارے بہ یک جنبشِ قلم تحلیل ہوگئے۔ انھی دنوں ہم وفاقی وزارتِ خوراک و زراعت کے صوبائی ڈائریکٹوریٹ پشاور میں تعینات تھے۔ اس محکمے کا کام صوبوں کے سپرد ہوا اور ہم جیسے سیکڑوں ملازمین تتربتر ہو کر […]
فلسفہ تا سیاست: عطاء اللہ جان کی ہمہ جہت فکر

ہر ہفتے کی شام شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کے ساتھ ایک سنجیدہ محفل جمتی تھی۔ مختلف موضوعات پر گفت گو ہوتی، بعض بحثیں ادھوری رہ جاتیں اور کئی سوالات اپنے پیچھے پیغامات چھوڑ جاتے۔ہیگل کے بارے میں شہید جان کا خیال تھا: ’’اس فلسفی (ہیگل) کو کھل کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ہیگل […]
بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی توازن کا جائزہ

سنہ 2026 عیسوی کی عالمی معیشت کا منظرنامہ ایک ایسے دور کی عکاسی کرتا ہے، جس میں طاقت، وسائل، پیداوار اور اقتصادی اثر و رسوخ کی جغرافیائی تقسیم تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا کی مجموعی معیشت جس کا حجم تقریباً 219 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب ایک نئی حقیقت کی طرف […]
پاکستان افغانستان تنازع اور بگرام ایئربیس

قارئینِ کرام! اس تحریر میں ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر اور اُن عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے، جنھوں نے دونوں برادر اسلامی ممالک کو ایک نہایت نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صورتِ حال اس حد تک کشیدہ ہوچکی ہے کہ پاکستان نے کئی […]
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی بساط اور اردوان

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کی تشکیل میں رجب طیب اردوان کا کردار مرکزی، متنازع اور گہرے اثرات کا حامل رہا ہے۔ ترکی کے صدر کی حیثیت سے اردوان نے انقرہ کو ایک طرف اسرائیلی اسٹریٹجک توسیع پسندی، جسے علاقائی بیانیے میں اکثر’’صیہونی وژن‘‘ کے طور پر پیش کیا […]
عوامی وسائل اور طاقت کا سوال

آج کے دور میں ریاست کو اکثر اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے گویا وہ کوئی ایسی مقدس ہستی ہو، جس پر سوال اٹھانا مناسب نہ ہو اور جو معاشرے سے بالا تر مقام رکھتی ہو۔ وزرا اور سرکاری اہل کار بعض اوقات ایسی تعبیرات اختیار کرتے ہیں، جن سے یہ تاثر ابھرتا ہے […]
ہیروشیما سے غزہ تک (مختصر جائزہ)

دنیا میں ہر طاقت ور ملک، یا کسی طاقت ور ملک کا بادشاہ، صدر اور وزیرِ اعظم، کم زوروں کے لیے کسی عذابِ خداوندی سے کم نہیں ہوتا… لیکن اس دورِ جدید میں بھی بعض طاقت ور ممالک دوسروں کو جینے کا حق دینے پر آمادہ نہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں امریکہ نے […]
تیزی سے بدلتا عالمی منظرنامہ

20ویں صدی کے اختتام تک عالمی سیاست ایک نازک مگر قائم توازن کے سہارے کھڑی تھی۔ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں، اختلافات شدید تھے، مگر ایک حد بھی موجود تھی۔ اس حد نے دنیا کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ پھر وہ مرحلہ آیا، جب ایک طاقت بکھر گئی اور دوسری […]
سوشل میڈیا، ثقافتی اظہار اور فکری تقسیم

گذشتہ دو دہائیوں میں خیبر پختونخوا کا سماجی و سیاسی منظرنامہ غیر معمولی تغیرات سے گزرا ہے۔ عسکریت پسندی، ریاستی آپریشنز، نقلِ مکانی، عالمی سیاست کے اثرات، اور اب سوشل میڈیا کی برق رفتار دنیا، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے چکے ہیں، جہاں ہر واقعہ فوری طور پر ایک وسیع […]
خود احتسابی کا عمل جاری رہنا چاہے

گذشتہ چند دنوں سے چند پشتون لکھاری پشتون سماج کے اندر غیرت اور پشتون ولی کے نام سے ثقافتی انتہا پسندی پر لکھ رہے ہیں اور اس عمل کو خود احتسابی سے جوڑ رہے ہیں۔ کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے اور جہالت کے دور کے اُن فرسودہ […]
بھٹو کا سوشلزم… ادھورا مگر روشن خواب

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات محض راہ نما نہیں ہوتے، بل کہ عہد بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے سے آگے کا خواب دیکھتے ہیں اور عوام کے شعور میں ایک نئی زبان پیدا کرتے ہیں۔ 1970ء کی دہائی میں ایسا ہی ایک عہد جنم لیتا ہے، جب ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست […]
جعلی اشیائے خور و نوش اور صحت عامہ کا بحران

آج کے دور میں جہاں ترقی اور جدیدیت کی باتیں کی جا رہی ہیں، وہیں ہماری روزمرہ کی ضروریات کی اشیا، جنھیں ہم اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرچکے ہیں، نہ صرف ہماری صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، بل کہ ایک گہری اجتماعی اور اخلاقی بدحالی کا بھی سبب بن رہی ہیں۔ […]
پاکستان، بنیادی حقوق کی بھاری قیمت کیوں؟

فلاحی ریاستوں میں یہ تصور ایک مسلمہ حقیقت سمجھا جاتا ہے کہ صحت، تعلیم اور انصاف ہر شہری کو بلامعاوضہ یا کم از کم ضرورت کے وقت بغیر بہ راہِ راست ادائی کے میسر ہوں۔ اِسکنڈے نیویا سے لے کر مغربی یورپ تک، شہری نسبتاً زیادہ ٹیکس اس یقین کے ساتھ ادا کرتے ہیں کہ […]