یک ساں اوقاتِ نماز: امکانات اور خدشات

وفاقی حکومت کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی تمام مساجد میں اذان اور باجماعت نماز کے لیے یک ساں اوقاتِ کار کے نظام کو متعارف کروانے کا فیصلہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ جمعہ کے خطبات کے لیے موضوعات کی ایک فہرست بھی طے کی جارہی ہے۔ مذکورہ خطبات اتحادِ امت، اصلاحِ معاشرہ اور […]
’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کی مزاحمت کا سفر

(یہ معروضات ’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کے زیرِ اہتمام 21 نومبر 2025ء کو بحرین میں منعقدہ جرگے میں پیش کیے گئے ہیں۔)ہم ایک قوم ہیں۔ ہماری اپنی زمین، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی تاریخ ہے۔ ہم خود کو دوسری قوموں سے الگ سمجھتے ہیں اور وہ بھی ہمیں خود سے الگ ہی سمجھتے ہیں۔ […]
افغانستان کا مستقبل

افغانستان آج ایک نہ ختم ہونے والی تاریکی میں غرق ہے۔ جب افغان طالبان نے اگست 2021ء میں کابل پر قبضہ کیا تو دنیا نے یہ سوچا تھا کہ شاید اس بار معاملات مختلف ہوں گے۔ شاید وہ حکومتی نظام میں کچھ سازوسامان رکھیں گے، کچھ ادارے باقی رہیں گے اور معاشرتی ڈھانچے میں کم […]
بدلتی دنیا میں اطلاعاتی ذمے داریاں

قارئین! دنیا بدل رہی ہے …… اور بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ کل تک خبر کا ذریعہ ایک اخبار، ایک ریڈیو اور چند مخصوص ٹی وی چینل تھے۔ خبر کے آنے تک کئی گھنٹے گزر جاتے…… لیکن آج کی دنیا میں خبر سوشل میڈیا کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ لمحوں میں ایک ویڈیو […]
غلامی کی بدلتی صورتیں

زمانۂ قدیم میں سفر کا راستہ محض فاصلہ طے کرنے کا نام نہ تھا؛ یہ خوف، بے یقینی اور اندیشے کی ایک مسلسل گزرگاہ تھی۔ انسان کسی اجنبی درخت کے سائے میں بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔ طاقت ور قبیلے، کم زور انسانوں پر جھپٹ پڑتے اور یوں ایک آزاد وجود لمحوں […]
انصاف کا نڈر علم بردار، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ

فسطائیت اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے خلاف ڈٹ جانے والے مردِ مجاہد، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ (شہید) وہ شخص جس نے آئین کی پاس داری کا حلف لیا تھا اور اسی جرم میں مجرم ٹھہرا کہ وہ آئین کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ آمریت کو صریحاً خلافِ آئین کہتا […]
بے رنگ لمحوں میں رنگ بھرنے والی مسیحا

ہمارا خیال یہ تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر کسی اچھے سے ’’نفرالوجسٹ‘‘ (Nephrologist) سے چیک اَپ کروائیں گے، رپورٹس دکھا کر دوائیں لے لیں گے اور شاید چند دن کے قیام کے بعد واپس لوٹ جائیں گے…… مگر انسان کی سوچ ہمیشہ مختصر ہوتی ہے، جب کہ زندگی کے منصوبے وسیع۔ گاؤں سے نکلتے […]
دائمی پھیپڑوں کی بیماری (COPD)

آج 19 نومبر ہے۔ اس دن کو ’’سی او پی ڈی‘‘ (COPD) یعنی ’’دائمی پھیپڑوں کی بیماری کے عالمی دن‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، آج ہم آپ کو اس بیماری کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔دائمی پلمونری بیماری، جسے عام طور پر ’’سی اُو پی ڈی‘‘ (Chronic Obstructive […]
صوفی، کرکٹر اور جاسوس: پاکستانی تخت و تاج کا کھیل

(نوٹ:۔ برطانوی میگزن، 1843، نے حالیہ دنوں میں عمران خان اور اُن کی بیوی ’’بشریٰ‘‘ کے حوالے سے ایک طویل مضمون چھاپا ہے، جس پر پاکستانی میڈیا یک طرفہ تبصرے کر رہا ہے۔مذکورہ مضمون کی کئی باتیں تو پہلے سے معلوم تھیں، تاہم اب اس کا وقت اور کچھ تفصیلات اہم ہیں۔ مذکورہ مضمون ایک […]
طاقت کے توازن پر کاری ضرب

کسی بھی ریاست کا آئین، ریاست اور عوام کے درمیان ایک تحریری عمرانی معاہدہ اور حکم رانی کے لیے ایک فریم ورک ہوتا ہے، جس کا مقصد ریاست اور عوام میں ذمے داریوں کی تقسیم ہے، تاکہ ریاستی کاروبار کو احسن طریقے سے انجام دیا جاسکے۔ پاکستان کو 1973ء تک ’’ریاستِ بے آئین‘‘ سمجھا جاتا […]
آئینی بحران اور سیاسی طاقت کی جنگ

27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اسی پلیٹ فارم (لفظونہ ڈاٹ کام) پر اپنی گذشتہ تحریر’’27ویں ترمیم، جمہوریت کا نیا امتحان‘‘ میں یہ گزارش کی تھی کہ ترمیم کا مسودہ اگر سرسری طور پر بھی پڑھ لیا جائے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں سب کچھ موجود ہے، سوائے اس کے کہ عوام الناس […]
احتجاجی سیاست یا عوامی اذیت؟

پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں مسائل اپنی انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، بل کہ عوام کو روزمرہ کی زندگی میں اذیت سے دوچار کرتے ہیں۔ یہ اذیت اکثر غیر ضروری مشغولیات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جس میں قوم کا وقت اور […]
ترمیم نئی اور دُکھ وہی پرانے

27ویں آئینی ترمیم کے بعد جو ماحول بنا ہوا ہے، اُس نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ مثلاً: کیا یہ پہلی ترمیم ہے؟ جواب ہے: ’’نہیں۔‘‘کیا یہ آخری ترمیم ہے؟ اس کا بھی جواب نفی میں ہے۔پھر ایسے میں اتنا واویلا کیوں ہے؟ ترمیم کے حمایتی اور مخالفین دونوں کے پاس درجنوں دلائل ہیں، […]
مینگورہ شہر کا خاموش المیہ

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں مینگورہ شہر بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ ڈینگی، ملیریا، کورونا، آلودگی، چوہوں کی بے تحاشا افزایش، شہری سیلاب کے خدشات، بے ہنگم ٹریفک، ٹریفک جام، سینے اور سانس کے امراض اور نہ صرف مینگورہ شہر بل کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریض…… اگر […]
سبق یا تشدد……؟

اکثر کہا جاتا ہے کہ قوموں کا مستقبل نہ ایوانوں میں لکھا جاتا ہے اور نہ میدانِ جنگ میں،بل کہ اُن چھوٹے کمروں میں جہاں بچے ا، ب، پ سیکھتے ہیں…… مگر جب خیبر پختونخوا کے نجی اسکولوں میں رائج اُردو اور دیگر مضامین کے نصاب کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک تشویش ناک حقیقت […]
قدرت کی پکار اور انسان کی بے حسی

نومبر کا مہینا اپنے اختتام کی طرف گام زن ہے۔ یہ موسم صرف بدلتے پتوں کا نام نہیں، بل کہ زمین کی بے آواز گردش کی ایک نئی کروٹ ہے۔ جیسے ہی سورج کا زاویہ بدلتا ہے، دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں۔ دھوپ کی شدت گھٹتی ہے، ہوا میں نمی بڑھتی ہے […]
کالام، بحرین اور مدین پرتجاوزات کی لٹکتی تلوار

حالیہ دنوں کالام میں کئی دن تک مقامی لوگوں اور انتظامیہ کے بیچ مذاکرات کا کھیل جاری رہا۔ سوشل میڈیا پر سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا صحافیوں نے فریقین کے بیچ مذاکرات کی کام یابی اور کسی ایگریمنٹ کا بھی اعلان کیا۔ مبارک بادیں بھی دی گئیں۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کالام میں […]
ڈپٹی کمشنر سوات کے نام کھلا خط

ڈپٹی کمشنر سوات، محترم سلیم جان مروت!یہ چند سوالات ایک شہری کے دل سے اُٹھ رہے ہیں، وہ شہری جب روز اپنی ضروریات کے لیے گھر سے نکلتا ہے، تو ٹریفک میں پِستا ہے، دفاتر کے چکر کاٹتا ہے اور نظام کی بے حسی کا شکار ہے۔ آپ اس ضلع کے بادشاہ اور نگہ بان […]
میثاقِ ریاست: انفرادی ترامیم کے خطرات

آئین، جسے دستور بھی کہا جاتا ہے، محض چند قانونی دفعات کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ یہ ریاست اور اس کے شہریوں کے مابین طے پانے والا ایک ایسا مقدس سماجی معاہدہ ہے، جو اجتماعی زندگی کا خاکہ مرتب کرتا ہے۔ یہ کسی بھی قوم کی سیاسی سوچ، اس کے تاریخی ارتقا اور اس کی اجتماعی […]
ساؤنڈ سسٹم ایکٹ: ریاستی کنٹرول یا سماجی جبر؟

خبر ہے کہ بہاولنگر میں پولیس نے دولھے کو مہندی کی رات گرفتار کرلیا۔ کیوں کہ مبینہ طور پر دولھے نے ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس کے بعد اُس کو شیروانی سمیت ساری رات تھانے کی حوالات میں رکھا گیا۔ حالاں کہ صبح اُس کی بارات روانہ ہونا تھی۔ دولھے کو شادی […]
امریکہ بھارت معاہدہ: خطے کی نئی گیم

بھارت اور امریکہ کا دس سالہ دفاعی معاہدے کا فریم ورک آخرِکار دفاعی شراکت داری کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ کیوں کہ یہ سلسلہ کل یا پرسوں کا نہیں، بل کہ حقیقت میں پہلی بار 28 جون 2005ء کو بھارتی وزیرِ دفاع پرنب مکھرجی اور امریکی سیکرٹری دفاع […]