سوات، علاقائی تعظیمی ناموں کی دم توڑتی روایت

اللہ بخشے، میرے دادا، محمد المعروف بزوگر حاجی صاحب (مرحوم) کی دو بیویاں، یعنی میری دو دادیاں تھیں۔ جس دادی کے بطن سے میرے والد نے جنم لیا، اُنھیں ہم ’’ابئی‘‘ نام سے پکارتے تھے۔ ’’ابئی‘‘ دراصل دادا (مرحوم) کی دوسری بیوی تھیں۔ اُن کی پہلی بیوی (بڑی دادی) کو ہم چھوٹے اور بڑے ’’خوگہ‘‘ […]
نگار سوڈا واٹر والے ’’نگار حاجی صاحب‘‘

مجھے بہ ذاتِ خود تاج چوک میں فقیر محمد ماما کی ٹھنڈی بوتلوں والی دکان آج بھی یاد ہے، جسے ہم اپنے بچپن (1985ء تا 1990ء ) میں ’’ڈکار والی بوتل‘‘ (دَ ڈرقو بوتل) کَہ کر جگر کی گرمی اُتارنے کا سامان کرتے تھے۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے، جب میری عمر بہ مشکل چھے، […]
مینگورہ، اک شہر بے مثال (آٹھویں قسط)

90ء کی دہائی میں مینگورہ شہر میں جو نسوار تیار کرنے والے مجھے یاد ہیں، ان کے نام بالترتیب ذیل میں دیے جاتے ہیں:٭ امیر علی نسوارو والا نزد بینک سکوائر، مین بازار۔٭ کوہستانے نسوارو والا، کتیڑا مین بازار۔٭ اکبر نسواری، پامیر ہوٹل گلشن چوک۔٭ بریتا نسواری، سہراب خان چوک۔اس لسٹ میں دو دیگر نسوار […]