میاں بابا، ککڑئی، شگئی، سیرئی والہ…!

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90 کی دہائی میں جب سوات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا رواج نہیں تھا، تو پرانی وضع کی بس (جس سے ٹرک بھی بہ آسانی بنایا جاسکتا تھا)، ٹوورسٹ گاڑی (جنھیں ہم ٹورس کہتے)، ڈاٹسن (ہمارا ورژن ’’ڈاکسن‘‘)، سوزوکی (جو اس پوسٹ میں شامل تصویر میں بھی نظر آرہی ہے) اور انڈین رِکشا یا […]

قیمتی پتھروں کا زندگی پر اثر

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

میرے والد فضل رحمان المعروف علی رحمان (مرحوم و مغفور) اسلحہ رکھنے کے ساتھ چاندی کی قیمتی نگینوں والی انگوٹھیاں پہننے کا بھی شوق رکھتے تھے۔ زندگی کے آخری حصے میں وہ تقریباً دماغی توازن کھو بیٹھے تھے، جو اکیلے اُن کا نہیں، بل کہ اُن کے بڑے بیٹے کے ناتے میرا بھی ایک تکلیف […]

آڈیو کیسٹ کے ساتھ جڑی یادیں

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

میرا بڑا بیٹا ’’سنو فلیک جنریشن‘‘ (Snowflake Generation) سے تعلق رکھتا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ہر وقت یا تو سمارٹ فون ہوتا ہے، یا پھر وہ اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر ’’کوڈنگ‘‘ کی دنیا کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے والد کے بچپن اور لڑکپن کے محبوب […]

مینگورہ خوڑ

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

مینگورہ شہر کے دِل ’’نشاط چوک‘‘ سے تقریباً تیس، چالیس قدم آگے سیدو روڈ پر ایک پُل آتا ہے جس کے بائیں ہاتھ چینہ مارکیٹ کی طرف ایک چھوٹی سی سڑک جدا ہوتی ہے۔ تصویر میں دکھائی دینے والی ندی، جسے ہم پشتو میں خوڑ کہتے ہیں، 90ء کی دہائی میں صاف و شفاف بہتی […]

دَ بوڈیٔ ٹال (قوسِ قُزح)

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

ہم اہلِ سوات اور خاص کر مینگورہ شہر والے اسے ’’دَ بوڈیٔ ٹال‘‘ کہتے ہیں، جس کے لیے اُردو میں ’’قوسِ قُزح‘‘ (عربی الاصل)، ’’دھنک‘‘ (سنسکرت) اور انگریزی میں "Rainbow” مستعمل ہے۔ ’’دَ بوڈیٔ ٹال‘‘ (بڑھیا کا جھولا) نام اسے کیوں دیا گیا….. اس حوالے سے ہمیں تو کیا، ہمارے حلقۂ یاراں میں ایک بھی […]