مولانا محمد ادریس چکیسری

Blogger Hilal Danish

چکیسر کی زرخیز سرزمین اپنی گہرائی میں تاریخ، روحانیت اور علم کے ایسے نقوش سمیٹے ہوئے ہے، جن پر بہ جا طور پر فخر کیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ دھرتی ہے، جہاں تصوف کے میدان میں بڑے بڑے اولیا نے جنم لیا اور اسی مٹی نے علمی اُفق پر بھی درخشاں ستارے پیدا کیے۔ انھی نابغۂ روزگار شخصیات میں ایک بڑا نام مولانا محمد ادریس چکسیری (رحمہ اللہ) کا ہے، جو جامع المعقولات و المنقولات، شیخ الحدیث اور ایک ہمہ جہت علمی شخصیت تھے۔
مولانا محمد ادریس چکیسری کی پیدایش 1346 ہجری (28–1927) میں ضلع شانگلہ کے معروف گاؤں چکیسر میں ہوئی۔ تعلق درانی قوم سے تھا۔ والدِ محترم، مولانا محمد ہمایوں، اپنے زمانے کے نام ور عالم اور ماہر طبیب تھے۔ وہ نہ صرف علمی حیثیت کی حامل شخصیت تھے، بل کہ روحانی اعتبار سے بھی بلند مقام رکھتے تھے۔ کیوں کہ وہ مجاہدِ آزادی حاجی فضل واحد ترنگزئی کے خلیفۂ مجاز تھے اور اُن کے ساتھ انگریز کے خلاف تین مرتبہ جہاد میں شریک بھی ہوئے تھے۔ اس خاندانی پس منظر نے مولانا کی شخصیت میں دینی غیرت، استقامت اور علمی شوق کی بنیاد رکھی۔
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے نام ور علما سے حاصل کی۔ 1363 ہجری (44-1943) تک علم الصرف، علم النحو، فقہ، فارسی اور دیگر ابتدائی کتب میں مہارت حاصل کی۔ اسی سال آپ ریاست سوات کی عظیم علمی درس گاہ دارالعلوم حقانیہ سیدو شریف میں داخل ہوئے، جہاں منطق، حکمت، علمِ کلام اور معانی جیسے دقیق علوم کی تحصیل کی۔ کتبِ حدیث کی تکمیل مولانا خان بہادر مارتونگی جیسے جلیل القدر استاد سے 1369 ہجری (50-1949) میں کی۔ مولانا خان بہادر کی جوہر شناس نگاہ نے اپنے تمام شاگردوں میں مولانا محمد ادریس چکسیری کو ایک بلند اور ممتاز مقام سے نوازا۔
فراغت کے بعد گورنمنٹ دارالعلوم چارباغ میں تدریس کا آغاز کیا اور 10 سال تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس دوران میں کثیر تعداد میں طلبہ نے آپ سے علمِ نبوت کا فیض حاصل کیا۔ پھر 1379 ہجری (60-1959) میں گورنمنٹ دارالعلوم اسلامیہ سیدو شریف منتقل ہوئے، جہاں 5 سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1384 ہجری (65-1964) میں دوبارہ گورنمنٹ دارالعلوم اسلامیہ چارباغ میں بہ حیثیتِ صدر مدرس تشریف لائے اور کچھ عرصہ بعد آپ کو شیخ الحدیث کے منصب پر فائز کیا گیا۔ اسی ادارے میں 27 سال تک مسلسل کتبِ حدیث پڑھائیں اور ہزاروں طلبہ کو علومِ نبوت سے بہرہ مند کیا۔
اسی عرصے میں مولانا محمد ادریس (رحمہ اللہ) نے ہمارے محلے کیملپور میں قیام فرمایا اور کیملپور مسجد (مسجد نعیم شاہ خان) کو اپنی رہایش کا مرکز بنایا۔ بعد ازاں 3 سال تک دارالعلوم شیر گڑھ میں شیخ الحدیث کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پھر ایک سال دارالعلوم الفاروق ہوڈیگرام میں تدریس کی۔ اس کے بعد دارالعلوم خلجی گنڈوخیل پشاور میں دورۂ حدیث کا آغاز کیا، مگر صرف تین ماہ کے بعد علالت کے باعث واپس گھر تشریف لانا پڑا۔ صحت یاب ہونے کے بعد مولانا نور الہادی شاہ منصوری کی دعوت پر دارالعلوم شاہ منصور تشریف لے گئے، جہاں تین سال تک تدریسی خدمات سرانجام دیں۔
علمی میدان میں مولانا کی خدمات تدریس تک محدود نہ رہیں، بل کہ تصنیف و تحقیق میں بھی گراں قدر اضافہ کیا۔ علمِ منطق کی مشہور کتاب ’’حمد اللہ‘‘ کے مسئلہ ’’وجود رابطی‘‘ پر ایک مفصل رسالہ تحریر کیا، جس کا نام ’’حاشیہ وجود رابطی‘‘ ہے اور وہ شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ’’میر زاہد ملا جلال‘‘ پر بھی حاشیہ تحریر کیا، جو تاحال غیر مطبوعہ ہے۔
مولانا کے شاگردوں میں کئی جید علما شامل ہیں، جن میں مولانا مغفور اللہ، مولانا عبدالمالک، مولانا تاج زرین، مولانا عبد الحلیم کوہستانی، مولانا لاجبر کوہستانی اور مولانا مفتی سراج الحق شامل ہیں، جو آج مختلف علمی مراکز میں دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔
شعبان 1423 ہجری (10 نومبر 2002 عیسوی) میں مولانا نے اپنے آبائی گاؤں چکیسر میں چند طلبہ کو دورۂ تفسیر شروع کرایا۔ 5 رمضان المبارک تک تقریباً 10 پارے مکمل کیے۔ اُسی دن نمازِ عصر ادا کی اور حسبِ معمول ذکر و اذکار میں مشغول رہے۔ مغرب کے قریب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، إنا لله وإنا إليه راجعون!
یوں علم کا ایک روشن چراغ گل ہوگیا، مگر اس کی روشنی آج بھی شاگردوں اور علمی اداروں میں جلوہ گر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مولانا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
مولانا (مرحوم) کے فرزند مولانا شبیر احمد آج بھی مانڑئی مسجد میں امامت اور تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور تحصیلِ چارباغ میں معاون قاضی کے عہدے پر فائز ہیں، جو اس علمی ورثے کے تسلسل کا واضح ثبوت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے