ٹیٹرون… ایک عہد، ایک روایت

Blogger Comrade Sajid Aman

ٹیٹرون کپڑا صرف ایک ملبوساتی شے نہیں تھا، بل کہ ایک پورے عہد کی کہانی ہے۔ ایسا عہد جس میں سادگی، کفایت شعاری اور پائیداری کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب کپڑا محض فیشن نہیں، بل کہ ضرورت، محنت اور معاشی حالات کا آئینہ ہوتا تھا۔
ٹیٹرون دراصل مصنوعی ریشوں سے تیار ہونے والا کپڑا ہے، جس کی بنیاد پالئیسٹر فائبر پر ہے۔ اس کی ایجاد 20ویں صدی کے وسط میں ہوئی، جب دنیا صنعتی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔ قدرتی ریشوں جیسے کپاس اور اون کی محدود پیداوار اور بڑھتی ہوئی طلب نے سائنس دانوں کو ایسے متبادل کی تلاش پر مجبور کیا جو سستا، پائیدار اور بڑے پیمانے پر تیار کیا جاسکے۔
پالئیسٹر فائبر کی تیاری کا عمل کیمیائی مرکبات سے شروع ہوتا ہے، جہاں پیٹرولیم سے حاصل ہونے والے اجزا کو مخصوص درجۂ حرارت اور دباو پر ملا کر باریک دھاگوں کی شکل دی جاتی ہے۔ یہی دھاگے بعد میں بنائی کے عمل سے گزر کر ٹیٹرون کپڑے میں ڈھلتے۔ اس کپڑے کی بناوٹ ہم وار، مضبوط اور لچک دار ہوتی، جو اسے روزمرہ استعمال کے لیے نہایت موزوں بناتی۔ اس میں شکن کم پڑتی، رنگ دیر تک قائم رہتا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بار بار دھونے کے باوجود اپنی ساخت برقرار رکھتا۔
پاکستان اور برصغیر میں ٹیٹرون کا عروج 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں دیکھا گیا، جب یہ کپڑا متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے ایک نعمت بن کر آیا۔ اس سے پہلے کپاس کے کپڑے عام تھے، مگر وہ جلدی گھس جاتے، رنگ پھیکا پڑ جاتا اور بار بار استری کی ضرورت ہوتی۔ تن ڈھانپنا ان طبقات کے لیے واقعی ایک سنگین مسئلہ تھا۔ ٹیٹرون نے ان تمام مسائل کا حل پیش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ کپڑا جلد ہی بازار میں مقبول ہوگیا اور مختلف برانڈ ناموں سے فروخت ہونے لگا۔ ان میں ’’ٹیٹرون‘‘، ’’ٹائٹرون‘‘، ’’پولی واسکو‘‘ اور دیگر مقامی و بین الاقوامی نام شامل تھے، جنھوں نے اپنی مارکیٹنگ کے ذریعے اس کپڑے کو گھر گھر تک پہنچایا۔
اسی سلسلے میں ’’کے ٹی 400‘‘ جیسے نام بھی سامنے آئے، جو دراصل ایک خاص قسم کے بلینڈ یا کوالٹی کو ظاہر کرتے تھے۔ یہ عام طور پر پالئیسٹر اور دیگر ریشوں کے امتزاج سے تیار کیا جاتا تھا، تاکہ کپڑے میں نرمی اور سانس لینے کی صلاحیت بھی شامل ہوسکے۔ ’’ٹائٹرون‘‘ اور ’’ٹیٹرون‘‘ میں بنیادی فرق زیادہ تر برانڈنگ اور معیار کے درجوں کا ہوتا تھا، مگر عام صارف کے لیے یہ سب ایک ہی خاندان کے کپڑے تھے۔ مضبوط، دیرپا اور قابلِ اعتماد۔ بس آگ سے بچا کر رکھنا تھا، ورنہ پیٹرول کی طرح آگ پکڑتا اور جان لے کر چھوڑتا۔
ٹیٹرون کا سب سے بڑا وصف اس کی پائیداری تھا، اور یہی وہ خصوصیت تھی جس نے اسے ایک خاندانی روایت کا حصہ بنا دیا۔ ایک زمانہ تھا، جب باپ اپنے لیے ٹیٹرون کا سوٹ سلواتا، برسوں پہنتا، اور پھر وہی کپڑا بیٹے کے کام آتا۔ یہ صرف کپڑا نہیں، بل کہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والی شے ہوتی تھی۔ دھونے کے بعد یہ کپڑا جیسے نیا ہو جاتا، اس کی چمک اور ساخت برقرار رہتی، اور یوں یہ وقت کے ساتھ بھی ایک طرح کی مزاحمت دکھاتا۔
گھروں میں مائیں اس کپڑے کو دھو کر سکھاتیں، اور جب وہ دوبارہ استعمال کے لیے تیار ہوتا، تو اس میں ایک مانوس خوش بو اور نرمی ہوتی۔ یہ کپڑا محض جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں تھا، بل کہ ایک جذباتی رشتہ بن چکا تھا۔ اس میں محنت کی خوش بو، کفایت شعاری کی جھلک اور ایک سادہ طرزِ زندگی کی تصویر موجود ہوتی تھی۔ ختنہ ہوئے چھوٹے بچے بڑے بھائی کی لمبی ٹائیٹرون کی قمیص پہنے باپ، چچا، تایا، دادا، نانا یا ماموں کے ساتھ کھڑے ہوتے، گلے میں اوقات کے مطابق ہار… جو سکوں کا، ڈرائی فروٹ یا ٹافیوں کا یا تازہ پھولوں کا ہوتا، ہر گزرنے والے کے منھ سے مبارک باد اور چہرے پر مسکراہٹ لاتا۔
مگر وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ نئی ٹیکسٹائل ٹیکنالوجیز، فیشن انڈسٹری کی تیز رفتار تبدیلیاں اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات نے ٹیٹرون جیسے کپڑوں کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ اب کپڑا صرف پائیداری کے لیے نہیں خریدا جاتا، بل کہ اس کی خوب صورتی، برانڈ اور فیشن ویلیو زیادہ اہم ہوگئی ہے۔ فاسٹ فیشن کے اس دور میں کپڑے جلدی خریدے جاتے ہیں اور اتنی ہی تیزی سے پرانے بھی ہوجاتے ہیں۔
یہاں سرمایہ دارانہ نظام کا کردار نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد ہی مسلسل کھپت پر ہے۔ اگر ایک کپڑا برسوں تک چلتا رہے، تو مارکیٹ کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ایسے کپڑوں کو فروغ دیا گیا، جو جلدی پرانے لگیں، جن کا فیشن جلد بدل جائے اور صارف کو بار بار خریداری پر مجبور کرے۔ ٹیٹرون جیسے کپڑے، جو ایک بار خریدنے کے بعد طویل عرصے تک ساتھ نبھاتے تھے، اس نظام کے لیے موزوں نہیں رہے۔
کارخانوں نے نئی اقسام کے کپڑے متعارف کروائے، جو دیکھنے میں زیادہ دل کش تھے، مگر ناپائیدار۔ اشتہارات نے صارفین کے ذہنوں میں یہ خیال بٹھایا کہ ہر موسم کے ساتھ نیا لباس ضروری ہے۔ فیشن نے احساسِ کم تری پیدا کر دی اور مارکیٹنگ نے احساسِ کم تری کو احساسِ برتری کا رنگ دے دیا۔ یوں وہ روایت، جس میں ایک کپڑا نسلوں تک چلتا تھا، آہستہ آہستہ دم توڑتی گئی۔
آج اگر ہم ماضی کی طرف دیکھیں, تو ٹیٹرون صرف ایک کپڑا نہیں، بل کہ ایک طرزِ فکر کی نمایندگی کرتا ہے۔ وہ طرزِ فکر جس میں چیزوں کو سنبھال کر رکھا جاتا تھا، ان کی قدر کی جاتی تھی اور انھیں محض استعمال کی شے نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج کا دور تیزی، تبدیلی اور وقتی تسکین کا دور ہے، جہاں چیزیں جلدی آتی ہیں اور جلدی چلی بھی جاتی ہیں۔
ٹیٹرون کی کہانی دراصل انسان اور اس کے معاشی نظام کی کہانی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کس طرح ایک سادہ سی ایجاد نے نہ صرف روزمرہ زندگی کو آسان بنایا، بل کہ ایک ثقافتی روایت کو جنم دیا۔ اور پھر کس طرح وہی روایت وقت، منڈی اور سرمایہ دارانہ ترجیحات کے دباو میں دم توڑ گئی۔
شاید آج بھی کسی پرانے صندوق میں رکھا ہوا ٹیٹرون کا کوئی لباس ہمیں یہ احساس دلا دے کہ پائیداری، سادگی اور تسلسل بھی کبھی خوب صورتی کا حصہ ہوا کرتے تھے… اور یہ کہ ہر نئی چیز ضروری نہیں کہ پرانی سے بہتر ہو۔ کبھی کبھی وہ صرف زیادہ منافع بخش ہوتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے