حسن باچا
حسن علی شاہ سیدو شریف (سوات) کے رہایشی ہیں۔ حلقۂ احباب میں ’’باچا‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں درس و تدریس سے منسلک رہ چکے ہیں۔ اردو ادب سے شغف رکھتے ہیں۔ شاعر بھی ہیں۔ طنز و مزاح کے پیرائے میں سوشل میڈیا کے ذریعے دل کا غبار نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔
سوات اور سیاسی کتے (فکاہیہ تحریر)
کئی دن سے میرا دل چاہ رہا تھا کہ کتوں پر ایک مضمون لکھوں۔ کیوں کہ آج کل زیادہ تر کتوں ہی سے میرا آمنا سامنا رہتا ہے… لیکن پھر مَیں نے سوچا کہ کہیں کتے برا نہ مان جائیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ مَیں جب ڈیوٹی کے لیے صبح سویرے گھر سے نکلتا ہوں، تو جا بہ جا کتے سینہ تانے ایسے کھڑے ہوتے ہیں، جیسے چیک پوسٹیں لگائی ہوئی ہوں۔ غنیمت ہے کہ کتے اَن پڑھ ہیں، اس لیے اُن میں سے کسی نے بھی آج تک میرا شناختی کارڈ چیک نہیں کیا۔ اس موقع پر کتے مجھے عجیب نظروں سے گھورتے ہوئے غراتے بھی ہیں۔
اس طرح جو خواتین سکول یا کالج جاتی ہیں، اُن کو بھی یہی شکایت ہے کہ راستے میں ہمیں کتے دیکھ کر غراتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا کرنے والے دراصل کتے نہیں ہوتے، بل کہ کتے کے بچے ہوتے ہیں۔
لیکن ہمارا ایک اردو دان دوست کہتا ہے کہ یہ اصطلاح غلط ہے۔ کتے کے بچے نہیں بل کہ ’’پلے‘‘ ہوتے ہیں۔
مَیں کتوں سے بہ حیثیت انسان بہت ڈرتا ہوں اور کتے کی حیثیت سے شاید وہ بھی مجھ سے ڈرتے ہوں… لیکن مَیں اس حوالے سے رسک نہیں لیتا۔ وہ تو کتے ہیں… اور کتوں کا کیا بھروسا! اس لیے صبح صبح جب میں جاگنگ کرتا ہوں, تو کتوں کو دیکھ کر اپنی رفتار کم کردیتا ہوں اور آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیتا ہوں کہ کہیں کتے میری جاگنگ والی دوڑ کو ’’خوف والی دوڑ‘‘ سمجھ کر پیچھے نہ پڑجائیں اور میری جاگنگ والی رفتار کسی میراتھن ریس میں تبدیل نہ ہوجائے۔
کتابوں میں ہے کہ ایک مرتبہ خرگوش سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ اُس نے کچھوے سے ’’خرگوشیت‘‘ کے ناتے ریس ہار لی۔ بعد میں اس بات کا انسانوں نے ایسا بتنگڑ بنالیا کہ یہ عمل پوری خرگوش کمیونٹی کے لیے تضحیک کا باعث بنا۔ اور کتوں کے ذہن پر بھی اسی واقعے کا برا اثر پڑا ہے۔ اب جب بھی کوئی اُن کے سامنے تیزی سے بھاگتا یا گزرتا ہے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں خرگوش سمجھ کر چیلنج کر رہا ہے۔ اس حوالے سے کتے بڑے چیلنجنگ قسم کی مخلوق ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ پرانے وقتوں میں صرف رات کو کتوں کا راج ہوا کرتا تھا۔ سب رات کو سڑکوں، چوکوں اور چوراہوں پر قبضہ جما کر ایک دوسرے کو بھونکنے والے انداز میں القابات سے نوازتے تھے… لیکن آج کل دن دہاڑے بھی سیدو شریف جیسے شہرِ اقتدار میں کتوں ہی کا راج ہے، بل کہ اب تو کتے باقاعدہ ’’سامراج‘‘ ہیں۔ مینگورہ میں بھی تقریباً یہی صورتِ حال ہے۔
مَیں پہلے سمجھتا تھا کہ کتے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ کیوں کہ مَیں نے کتوں کو کبھی ووٹ ڈالتے نہیں دیکھا… لیکن جس طرح ’’سٹرے ڈاگز‘‘ نے ہر محلے میں کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں بنائی ہیں، مجھے اب کتے قطعاً غیر سیاسی نہیں لگتے۔ اب کتے باقاعدہ جلوس نکالتے ہیں، اور تو اور سیدو شریف چوک میں تو باقاعدہ دھرنا دیتے ہیں۔ کارکن کتے نعرہ بازی کرتے ہیں اور مخالفین پر بھونک بھونک کر ایسے ایسے جملے کستے ہیں کہ سننے والے کانوں کی لو کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مزے بس اُن کتوں کے ہیں، جن کے گلے میں پٹے بندھے پڑے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انسانوں نے پالتو کتوں کو حبسِ بے جا میں رکھا ہوا ہے، جو ملکی آئین کے سراسر منافی ہے، لیکن اگر آوارہ کتوں کی خوار حالت دیکھی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ پالتو کتے تو پُر آسایش زندگی گزار رہے ہیں۔ اصل میں کتوں والی زندگی تو آوارہ کتے ہی گزارتے ہیں۔ وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
یہ گلیوں میں پھرتے آورہ بےکار کتے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ گدائی
شہرِ اقتدار میں قسائی کا تخت جو کہ مین سیدو شریف ہسپتال چوک میں واقع ہے، آوارہ کتوں کا مرکزِ نگاہ ہے۔ کتے اُس تخت کے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں اور قسائی بادشاہوں کی طرح کبھی کبھی اُن پر نظرِ کرم ڈال کر ان کی طرف چھیچھڑے اور ایک آدھ ہڈی پھینک دیتا ہے، جس کو پانے کے لیے سبھی آوارہ کتے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔
کتے جمہوری نہیں ہوتے اور اگر جمہوری ہوں بھی، تو کم از کم جو جمہوریت اس ملک میں رائج ہے، اُس کے تو بالکل پیروکار نہیں۔ میرے خیال میں کتے مغربی ذہنیت کے ہیں اور کیپیٹلسٹ ہیں۔ کیوں کہ پالتو کتے امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں اور آوارہ کتے غریب سے غریب تر۔
کتوں میں نسلی امتیاز بھی نہیں ہوتا۔ کئی گورے، کالوں سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوجاتے ہیں اور ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگتے ہیں۔
کتے وفادار بھی ہوتے ہیں اور لالچی بھی… یہ دونوں خاصیتیں ایک مخلوق میں کس طرح اکٹھا ہوسکتی ہیں، یہ معاملہ آج تک کوئی سلجھا نہیں پایا۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کتے کو جب ہڈی ملتی ہے، تو وہ کسی ندی کا رُخ کرلیتا ہے، تاکہ پانی میں اپنا عکس دیکھ کر اُسے ایک اور کتا سمجھ کر اُس پر اس مقصد کے تحت بھونک سکے کہ اُس کی ہڈی بھی ہتھیالے۔ انسانوں کو کتوں کی دیگر خراب عادتوں کی طرح یہ بھی ایک آنکھ نہیں باتی۔ اس لیے ان کی یہ عادت ترک کرانے کی خاطر انسانوں نے ندی، نالوں حتی کہ دریاؤں تک کو اس قابل نہ چھوڑا کہ کتے اس میں اپنا عکس دیکھ سکیں۔
آوارہ کتوں کے مستقبل کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی جیسے ادارے کرتے ہیں۔ سوات میں یہ ادارے موجود ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ ادارے اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور سوات کی انسانی آبادی کو کتوں سے نجات دلائیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
حسن باچا
ویڈیو گیلری
مزید
د لکونو روپو گاڑے ساتو خو د پارکنگ دیرش روپئی نہ
پشاور سستا بازار (قمبر، سوات)
شوگر کے ساتھ رمضان گزارنے کا محتاط طریقہ
بائی پاس واکنگ ٹریک، سٹریٹ لائبریری کی حالت زار
د مینگوری بائی پاس واکنگ ٹریک صفائی
گراسی گراونڈ او کہ ترکولی….؟
متعلقہ پوسٹس
ربع صدی کا تجربہ، خود ساختہ فلسفہ اور ایمان کریم
قطرے سے گہر ہونے تک
’’روغ صحت اختر دے‘‘
عطاءاللہ جانؔ، ہم شرمندہ ہیں…!