’’لاطینی امریکہ‘‘ (Latin America) مردم خیز برِ اعظم رہا ہے۔ یہاں ’’فیڈل کاسترو‘‘ (Fidel Castro) کا جنم ہوا، جس نے تاریخ کو صرف بنایا نہیں، بل کہ اسے قابو کرکے پلٹ دیا۔
فیڈل کاسترو کی زندگی ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے، جو قانون کا طالب علم تھا، مگر ناانصافی اور سیاسی جبر کے خلاف بغاوت نے اسے پہاڑوں میں گوریلا جنگ لڑنے پر مجبور کیا۔ وہی نوجوان بعد میں ایک ایسے انقلاب کا راہ نما بنا، جس نے نہ صرف کیوبا کی تاریخ بدل دی، بل کہ سرد جنگ کی عالمی سیاست کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
13 اگست 1926 عیسوی کو کیوبا کے ایک دور دراز گاؤں ’’بیران‘‘ (Biran) میں پیدا ہونے والے کاسترو ایک زمین دار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد ’’ہسپانوی نژاد‘‘ (Spanish descent) کسان تھے، جنھوں نے محنت سے زمینیں حاصل کی تھیں۔ بچپن میں کاسترو نے ایک عجیب تضاد دیکھا: ایک طرف ان کا گھر نسبتاً خوش حال تھا، تو دوسری طرف کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور غربت اور محرومی کا شکار تھے۔ یہی تضاد اُن کے ذہن میں ابتدائی سوالات پیدا کرتا رہا۔
’’ہوانا یونیورسٹی‘‘ (University of Havana) میں قانون کی تعلیم کے دوران میں وہاں کی سیاسی فضا نے اُن کے اندر موجود بغاوت کو واضح شکل دے دی۔ اُس زمانے میں کیوبا بدعنوانی، سیاسی تشدد اور بیرونی اثرات کی لپیٹ میں تھا۔ ملک پر ایک ڈکٹیٹر ’’جنرل بتستا‘‘ (Fulgencio Batista) کا تسلط تھا، جو امریکی پٹھو سمجھا جاتا تھا۔ نوجوان کاسترو نے جلد ہی محسوس کیا کہ پارلیمانی سیاست کے ذریعے اس نظام کو بدلنا ممکن نہیں۔
1953 عیسوی میں کاسترو نے ایک جرات مندانہ مگر خطرناک فیصلہ کیا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’’سانتیاگو ڈی کیوبا‘‘ (Santiago de Cuba) میں فوجی چھاؤنی پر حملہ کیا، جسے تاریخ میں "Moncada Barracks Attackـ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ حملہ ناکام رہا۔ کاسترو گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا اور اُنھیں قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت میں اُنھوں نے ایک طویل دفاعی تقریر کی، جس کا آخری جملہ بعد میں تاریخ کا حصہ بن گیا: ’’تاریخ مجھے بری کر دے گی۔‘‘
کچھ عرصے بعد عام معافی کے تحت وہ رہا ہوئے اور جَلاوطن کر دیے گئے۔ اس دوران میں وہ میکسیکو چلے گئے، جہاں ان کی ملاقات ایک نوجوان ارجنٹائنی ڈاکٹر اور انقلابی چے گویرا سے ہوئی۔ دونوں کے نظریات میں ایک عجیب ہم آہنگی تھی۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ لاطینی امریکہ کی آزادی اور سماجی انصاف صرف مسلح جد و جہد کے ذریعے حاصل ہوسکتے ہیں۔
1956 عیسوی میں کاسترو، چے گویرا اور اُن کے ساتھی ایک چھوٹی کشتی گرانما پر سوار ہو کر کیوبا واپس آئے۔ ابتدا میں اُنھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن کے اکثر ساتھی مارے گئے، مگر باقی بچ جانے والے چند درجن انقلابیوں نے ’’سیرا میسترا‘‘ (Sierra Maestra) کے پہاڑوں میں گوریلا جنگ شروع کردی۔ یہ جنگ صرف فوجی لڑائی نہیں تھی، بل کہ ایک نظریاتی تحریک بن چکی تھی۔ کسانوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد آہستہ آہستہ اس تحریک میں شامل ہونے لگی۔
دو سال بعد، 1959 عیسوی کی سردیوں میں، وہ لمحہ آیا، جس نے کیوبا کی تاریخ بدل دی۔ آخرِکار بتستا حکومت ٹوٹ گئی اور کاسترو کام یاب ہوئے۔ ان کے انقلابی دستے ’’ہوانا‘‘ (Havana) میں داخل ہوگئے۔ ایک نوجوان گوریلا لیڈر اب ایک نئے کیوبا کا معمار بن چکا تھا۔
اقتدار میں آنے کے بعد کاسترو کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ ملک کو کس سمت لے جایا جائے؟ ابتدا میں انھوں نے خود کو محض ایک قوم پرست اصلاح پسند کے طور پر پیش کیا، مگر جلد ہی ان کی پالیسیوں نے واضح کردیا کہ وہ سماجی انصاف پر مبنی ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے بڑی زمینیں ضبط کی گئیں، صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا گیا اور دولت کی تقسیم کو زیادہ منصفانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہی وہ مرحلہ تھا، جب کیوبا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے تعلقات شدید کشیدہ ہوگئے۔ امریکہ کو خدشہ تھا کہ اس کے ساحل سے صرف 90 میل دور ایک سوشلسٹ ریاست وجود میں آرہی ہے۔ 1961 عیسوی میں امریکی حمایت یافتہ جَلاوطن ’’کیوبنوں‘‘ (Cubans) نے کاسترو حکومت کو گرانے کی کوشش کی، جسے تاریخ میں ـ”Bay of Pigs Invasion” کہا جاتا ہے، مگر یہ حملہ ناکام ہوگیا اور اس ناکامی نے کاسترو کو نہ صرف کیوبا، بل کہ پوری تیسری دنیا میں ایک مزاحم راہ نما کے طور پر مشہور کردیا۔
1962 عیسوی میں جب سوویت یونین نے کیوبا میں جوہری میزائل نصب کیے، تو امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ یہ بحران "Cuban Missile Crisis” کے نام سے مشہور ہوا اور دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے تک پہنچ گئی۔ اگرچہ آخرِکار سفارتی مذاکرات کے ذریعے بحران ختم ہوگیا، مگر اس واقعے نے کیوبا کو عالمی سیاست کے مرکز میں لاکھڑا کیا۔
کاسترو نے اس دوران میں سوویت یونین کے ساتھ مضبوط اتحاد قائم کیا۔ سوویت یونین نے کیوبا کو اقتصادی اور عسکری مدد فراہم کی، جس کے بدلے میں کیوبا سرد جنگ میں ’’سوشلسٹ بلاک‘‘ (Socialist Bloc) کا اہم اتحادی بن گیا۔ اس اتحاد نے کیوبا کی معیشت کو کئی دہائیوں تک سہارا دیا… مگر کاسترو کی سیاست صرف بڑی طاقتوں کے درمیان توازن تک محدود نہیں تھی۔ انھوں نے خود کو تیسری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کا حامی سمجھا۔ افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف جد و جہد کے دوران میں کیوبا نے ہزاروں فوجی اور ماہرین بھیجے۔ خاص طور پر انگولا میں کیوبا کی فوجی مداخلت نے وہاں کی خانہ جنگی کے توازن کو بدل دیا۔ اسی طرح ایتھوپیا میں بھی کیوبا نے حکومت کی حمایت میں کردار ادا کیا۔
ایشیا میں بھی کاسترو کے تعلقات کئی انقلابی تحریکوں سے جڑے رہے۔ انھوں نے ویت نام کی جنگ کے دوران میں ’’ہو چی من‘‘ (Ho Chi Minh) کی قیادت کی کھل کر حمایت کی اور ویت نام کو امریکی مداخلت کے خلاف جد و جہد میں ایک علامت قرار دیا۔ اسی طرح چین، شمالی کوریا اور بھارت کے ساتھ بھی کیوبا کے سفارتی روابط قائم رہے۔
ان تمام سیاسی اور عسکری کش مہ کش کے باوجود کاسترو کی حکومت کا سب سے نمایاں پہلو سماجی شعبوں میں اصلاحات تھا۔ انھوں نے تعلیم کو مکمل طور پر مفت قرار دیا اور 1961 عیسوی میں ایک عظیم خواندگی مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں چند ہی برسوں میں کیوبا دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہوگیا، جہاں شرح خواندگی تقریباً 100 فی صد کے قریب پہنچ گئی۔
اسی طرح صحت کے میدان میں بھی کیوبا نے حیرت انگیز ترقی کی۔ ملک بھر میں بنیادی صحت مراکز قائم کیے گئے۔ ہر شہری کے لیے علاج مفت کردیا گیا اور طبی تعلیم کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا گیا۔ آج بھی کیوبا کے ڈاکٹر دنیا کے کئی ممالک میں انسانی ہم دردی کی بنیاد پر خدمات انجام دیتے ہیں۔
وقت گزرتا گیا اور کاسترو عالمی سیاست کی ایک مستقل شخصیت بن گئے۔ ان کی تقاریر اکثر کئی گھنٹوں تک جاری رہتی تھیں اور ان میں سامراج، سرمایہ داری اور عالمی ناانصافی کے خلاف شدید تنقید شامل ہوتی تھی۔ ان کے حامی انھیں تیسری دنیا کے مظلوموں کی آواز سمجھتے تھے۔
2006 عیسوی میں طویل علالت کے بعد انہوں نے اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو اور کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا کے راہ نما کے حوالے کردیا۔ اگرچہ وہ عملی سیاست سے دور ہوگئے، مگر عالمی امور پر تبصرے کرتے رہے۔ 25 نومبر 2016 عیسوی کو جب 90 سال کی عمر میں کاسترو انتقال کرگئے، تو دنیا بھر میں مختلف ردعمل سامنے آئے۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے کئی ممالک میں انھیں ایک انقلابی ہیرو کے طور پر یاد کیا گیا، جب کہ مغربی دنیا میں ان کی میراث پر شدید بحث ہوئی۔
مگر اس تمام اختلاف کے باوجود ایک حقیقت واضح ہے: فیڈل کاسترو صرف کیوبا کے حکم ران نہیں تھے، وہ ایک ایسے عہد کی علامت تھے، جس میں چھوٹے ممالک نے بڑی طاقتوں کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش کی، جس میں نظریات نے سیاست کو شکل دی، اور جس میں ایک شخص کی شخصیت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ اُن کی زندگی ایک ایسے انقلاب کی داستان ہے، جو بندوقوں سے شروع ہوا، نظریات سے پروان چڑھا اور عالمی سیاست کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے درج ہوگیا۔ اُن کی وفات کے بعد ان کی وصیت پڑھی گئی اور پھر کیوبن پارلیمنٹ نے اس پر عمل در آمد کے لیے ایک متفقہ بل منظور کرکے قانون بنا دیا۔
تحریر میں مستعمل مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’لاطینی امریکہ‘‘ (Latin America):۔ یہ امریکی براعظم کا وہ خطہ ہے، جہاں زیادہ تر ممالک اسپینی، پرتگالی یا فرانسیسی زبان بولتے ہیں۔ یہ خطہ اپنی تاریخی نوآبادیاتی پس منظر، ثقافتی تنوع اور سیاسی اہمیت کے باعث دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس میں شامل اہم ممالک میکسیکو، برازیل، ارجنٹینا، چلی، کولمبیا، پیرو، وینزویلا، کیوبا (وغیرہ) ہیں۔
2) ’’بیران‘‘ (Biran):۔ یہ کیوبا کے مشرقی صوبے ’’اورینتے‘‘ (Oriente) میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس گاؤں کی تاریخی پہچان یہ ہے کہ کاسترو خاندان کی جڑیں اسی گاؤں سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے یہ مقام کیوبا کی انقلابی تاریخ میں علامتی حیثیت رکھتا ہے۔
3) ’’ہسپانوی نژاد‘‘ (Spanish descent):۔ آسان الفاظ میں جب کسی شخص یا خاندان کو ’’ہسپانوی نژاد‘‘ کہا جائے، تو اس سے مراد ہے کہ ان کی اصل یا آبائی جڑیں اسپین سے ہیں۔
4) ’’ہوانا یونیورسٹی‘‘ (University of Havana):۔ یہ کیوبا کی سب سے قدیم اور نمایاں درس گاہ ہے، جو 1728 عیسوی میں قائم ہوئی اور آج بھی ملک کی اعلا تعلیم و تحقیق کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔
5) ’’فلگینسیو بتستا‘‘ (Fulgencio Batista):۔ بتستا کیوبا کا فوجی افسر اور سیاست دان تھا، جو دو مرتبہ ملک کا صدر بنا اور 1952 عیسوی سے 1959 عیسوی تک مطلق العنان آمر کے طور پر حکومت کی، یہاں تک کہ فیڈل کاسترو کے انقلاب نے اسے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔
6) ’’سانتیاگو ڈی کیوبا‘‘ (Santiago de Cuba):۔ یہ کیوبا کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے، جو ملک کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ یہ شہر 1515 عیسوی میں اسپینی نوآبادیاتی دور میں قائم ہوا اور طویل عرصے تک کیوبا کا دارالحکومت بھی رہا۔ اسے ’’کیوبا کا انقلابی دارالحکومت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ کئی بڑی تحریکیں اور واقعات یہیں سے شروع ہوئے۔
7) ’’سیرا میسترا‘‘ (Sierra Maestra):۔ یہ کیوبا کا سب سے بڑا اور تاریخی پہاڑی سلسلہ ہے، جو مشرقی کیوبا میں واقع ہے اور فیڈل کاسترو کے انقلابی گوریلا جنگ کا مرکز رہا۔ اس میں کیوبا کی سب سے بلند چوٹی ’’پیکو تورکینو‘‘ (Pico Turquino) بھی شامل ہے۔
8) ’’ہوانا‘‘ (Havana):۔ ہوانا نہ صرف کیوبا کا دارالحکومت ہے، بل کہ یہ وہاں سب سے بڑا شہر بھی ہے، جو اپنی نوآبادیاتی تاریخ، رنگین عمارتوں، کلاسک امریکی کاروں اور انقلابی سیاست کے مرکز کے طور پر مشہور ہے۔ ہوانا، کیوبا کی ثقافت، موسیقی اور تاریخ کا دل سمجھا جاتا ہے۔ کارنیول، موسیقی، اوپن ایئر بازار اور رات بھر جاری رہنے والی محفلیں اس شہر کی پہچان ہیں۔
9) ’’سوشلسٹ بلاک‘‘ (Socialist Bloc):۔ سوشلسٹ بلاک دراصل سرد جنگ کے دوران میں دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان تقسیم کی علامت تھا۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی (سرمایہ دارانہ بلاک)، جب کہ دوسری طرف سوویت یونین اور اس کے اتحادی (سوشلسٹ بلاک)۔ اس کے اہم ممالک میں سابقہ سوویت یونین، پولینڈ، چیکوسلوواکیہ، ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، مشرقی جرمنی اور بعد میں کیوبا و دیگر اتحادی شامل تھے۔
10) ’’ہو چی من‘‘ (Ho Chi Minh):۔ ویت نام کے انقلابی راہ نما اور سیاست دان تھے، جنھوں نے 1945 عیسوی میں شمالی ویت نام (Democratic Republic of Vietnam) قائم کیا اور 1946 عیسوی سے 1969 عیسوی تک اس کے صدر رہے۔ وہ ویت نام کی آزادی اور ’’کمیونسٹ تحریک‘‘ کے سب سے نمایاں راہ نما سمجھے جاتے ہیں۔
تحریر میں شامل نمایاں مشکل اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










