سادگی، برابری اور ہماری حیرت

Blogger Suhail Sohrab

کبھی کبھی ہم بہت ہی معمولی چیزوں کو ’’غیر معمولی‘‘ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
دراصل جن معاشروں میں سادگی، برابری اور عام رویے کم نظر آتے ہیں، وہاں یہی چیزیں لوگوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ جو باتیں ایک صحت مند معاشرے میں روزمرہ کا حصہ ہوتی ہیں، وہ ہمارے ہاں غیر معمولی بنا دی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی وزیر یا منسٹر سفر کے دوران میں کسی عام ہوٹل پر رک کر چائے پی لے، تو ہم فوراً اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلا دیتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں کہ دیکھو کتنی سادگی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی ایم پی اے بازار میں عام لوگوں کی طرح گھومتا نظر آ جائے، تو اسے بھی ایک غیر معمولی واقعہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حال آں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کام ایک عوامی نمایندے کے لیے بالکل معمول کا حصہ ہونے چاہییں، نہ کہ کوئی حیران کن کارنامہ۔
اس عمل میں اکثر وہ نام نہاد صحافی بھی پیش پیش ہوتے ہیں، جو معمولی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
ہماری اجتماعی ذہنیت کچھ اس طرح تشکیل پاچکی ہے کہ ہم طاقت اور اختیار کے حامل افراد کو عام انسانوں سے الگ اور برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے جب وہ کوئی عام سا کام کرتے ہیں، تو ہمیں وہ غیر معمولی محسوس ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہہ کی سادگی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ آپ ایک ایسی عظیم سلطنت کے حکم ران تھے، جو تقریباً 22 لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی، مگر طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے کہ جب بیرونی وفود مدینہ آتے، تو وہ حیران رہ جاتے کہ ایک عظیم حکم ران کسی محل یا حفاظتی حصار میں نہیں، بل کہ ایک درخت کے سائے تلے آرام فرما رہا ہے۔ نہ کوئی شاہانہ پروٹوکول، نہ دکھاوا… صرف سادگی، انصاف اور عوام سے قربت۔
یہ مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل عظمت اختیار کے اظہار میں نہیں، بل کہ عاجزی اور برابری میں ہے، اور یہی وہ معیار ہے، جسے اپنا کر ہم اپنے معاشرے کو حقیقی معنوں میں متوازن اور صحت مند بناسکتے ہیں۔
مجھے اس بات کا شدت سے احساس اُس وقت ہوا، جب سن 2016 عیسوی میں متحدہ عرب امارات کی ریاست الفجیرہ میں ڈیوٹی کے دوران میں ایک ’’ای میل‘‘ موصول ہوئی کہ ریاست کے صدر کا بیٹا ایک اسکول فنکشن میں شرکت کے لیے آئے گا۔ ہم نے حسبِ معمول سخت سیکیورٹی انتظامات کیے اور ذہن میں وہی روایتی تصور تھا کہ لمبی چوڑی گاڑیوں کا قافلہ ہوگا، سیکیورٹی اہل کاروں کی بھرمار ہوگی اور ایک پروٹوکول کے ساتھ وہ شخصیت نمودار ہوگی۔
لیکن حیرت اُس وقت ہوئی، جب ایک سادہ سی جیپ گیٹ پر آ کر رکی۔ مَیں نے معمول کے مطابق شناختی کارڈ طلب کیا، تو ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا۔ صدر کا بیٹا خود گاڑی چلا رہا تھا اور اُس کے ساتھ صرف تین افراد موجود تھے۔ نہ کوئی ہجوم، نہ غیر ضروری پروٹوکول… اس نے نہایت خوش اخلاقی سے اپنا تعارف کروایا، سیکیورٹی کارڈ لیا اور عام مہمانوں کی طرح اندر چلا گیا۔
یہ منظر میرے لیے ایک سبق تھا۔ وہاں سادگی کوئی خبر نہیں تھی، بل کہ معمول تھی… جب کہ ہمارے ہاں معمول کو بھی خبر بنا دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ ہم نے غیر معمولی اور معمولی کے درمیان فرق ہی الٹ دیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو بدلیں، عوامی نمایندوں کو انسان سمجھیں اور ان سے وہی توقع رکھیں، جو ایک عام شہری سے رکھی جاتی ہے۔ جس دن ہمارے معاشرے میں سادگی اور برابری عام ہو جائے گی، اُس دن شاید ہمیں کسی وزیر کے چائے پینے یا کسی ایم پی اے کے بازار میں گھومنے پر حیرت نہیں ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے