(نوٹ:۔اس تحریر میں جتنی بھی مشکل اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں، ان کی آسان وضاحت آخر میں ملاحظہ ہو۔ مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
پشتون معاشرہ مسائل سے خالی نہیں، مگر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مسائل موجود ہیں، بل کہ یہ ہے کہ ہم اُنھیں کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
اکثر ہم حقیقت کو بہ راہِ راست قبول کرنے کے بہ جائے ایک ایسے منظر کو سچ مان لیتے ہیں، جو بہ ظاہر درست لگتا ہے، مگر اندر سے ادھورا ہوتا ہے۔ یہی کیفیت ’’ٹرمپ لوئی‘‘ (Trompe L’oeil) کی ہے، یعنی آنکھوں کو دھوکا دینے والا منظر، جہاں سب کچھ حقیقی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ ہے کہ ہم اپنی کم زوریوں کا سامنا کرنے کے بہ جائے آسان راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم اپنے مسائل کی جڑیں تلاش کرنے کے بہ جائے انھیں جذباتی نعروں میں چھپا دیتے ہیں۔ کبھی ہم خود کو مکمل مظلوم بنالیتے ہیں، اور کبھی ہر خرابی کا ذمے دار دوسروں کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر وقتی سکون تو دیتا ہے، مگر مسائل کو حل کرنے کے بہ جائے مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
مذہبی حلقے اپنی جگہ ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں، لیکن جب ہر مسئلے کو صرف ایمان کی کم زوری یا دینی دوری سے جوڑ دیا جائے، تو تصویر کا ایک ہی رخ سامنے آتا ہے۔
اسی طرح قوم پرست حلقے بھی جب ہر مسئلے کو صرف حقوق کی محرومی تک محدود کر دیتے ہیں، تو وہ بھی مکمل حقیقت پیش نہیں کرتے۔
دونوں بیانیے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب ان میں توازن اور خود احتسابی نہ ہو، تو یہ بھی ایک ’’ٹرمپ لوئی‘‘ بن جاتے ہیں… ایسا فریب جو سچ کا کچھ حصہ دکھا کر پورا سچ چھپا لیتا ہے۔
عام لوگ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جب تعلیم کم زور ہو اور سوال کرنے کی عادت ختم ہو جائے، تو ہر بلند آواز سچ لگنے لگتی ہے۔ لوگ وہی مان لیتے ہیں، جو انھیں بتایا جاتا ہے، نہ کہ وہ جو حقیقت میں موجود ہوتا ہے۔ یوں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، جہاں سچ اور فریب کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ چند لمحوں کی ویڈیوز، جذباتی تقاریر اور یک طرفہ بیانات لوگوں کی رائے بناتے ہیں۔ تحقیق، سوچ اور تجزیہ پیچھے رہ جاتے ہیں، اور ایک مصنوعی حقیقت ہمارے سامنے آ جاتی ہے، ایک جدید ’’ٹرمپ لوئی‘‘ جو آنکھوں کے ساتھ ساتھ ذہن کو بھی دھوکا دیتا ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، تو ہمیں اس فریب سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر بات کو آنکھ بند کرکے قبول نہ کریں، بل کہ سوال کریں، تحقیق کریں اور ہر پہلو کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ کیوں کہ جب تک ہم اپنی کم زوریوں کو نہیں مانیں گے، ہم انھیں دور بھی نہیں کرسکتے۔
حقیقت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، اور نہ وہ ہمیشہ ہماری خواہشات کے مطابق ہی ہوتی ہے… مگر یہی حقیقت ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ جب ہم ’’ٹرمپ لوئی‘‘ کے فریب سے نکل کر حقیقت کا سامنا کریں گے، تب ہی ہم اپنے معاشرے کو بہتر بناسکیں گے۔
القصہ، مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں کیا دکھایا جا رہا ہے، بل کہ یہ ہے کہ ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ جب ہم دیکھنے کا زاویہ بدلیں گے، تو حقیقت خود بہ خود واضح ہو جائے گی اور شاید وہی لمحہ ہمارے مسائل کے حل کا آغاز بھی ہوگا۔ (ختم شد)
مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’ٹرمپ لوئی‘‘ (Trompe L’oeil):۔ یہ دراصل ایک فرانسیسی اصطلاح ہے، بل کہ ایک فن کارانہ تکنیک ہے، جس کا مطلب ہے ’’آنکھ کو دھوکا دینا۔‘‘ اسے سب سے پہلے فرانسیسی مصور "Louis-Léopold Boilly” نے 1800ء میں پیرس کے سالون میں اپنی ایک پینٹنگ کے عنوان کے طور پر استعمال کی۔ بعد میں یہ آرٹ کی دنیا میں مشہور ہوگئی۔ اب یہ اصطلاح عام طور پر آنکھوں کو دھوکا دینے والے منظر، جو سچ لگے، مگر حقیقت کچھ اور ہو، کے لیے استعمال میں لائی جاتی ہے… یعنی معاشرتی سطح پر ایسا فریب، جہاں دکھائی دینے والی تصویر مکمل حقیقت نہیں ہوتی، بل کہ ادھورا یا بگاڑا ہوا رُخ پیش کرتی ہے۔
تحریر میں شامل نمایاں مشکل اصطلاح کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










