کیا یہودی کہیں بھی محفوظ رہ سکتے ہیں؟

Blogger Malak Gohar Iqbal Khan Ramakhel

(نوٹ:۔ زیرِ نظر تحریر میں جتنی بھی مشکل اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں، ان کی آسان وضاحت آخر میں ملاحظہ ہو۔ مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
دنیا کی تاریخ میں یہودی قوم کی کہانی ایک ایسی زنجیر ہے، جس کی ہر کڑی پچھلی کڑی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس تاریخ کو صحیح طرح سمجھنا ہو، تو اسے الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں، بل کہ ایک مسلسل بہاو (Continuity) کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ایک ایسا بہاو، جو رومی سلطنت سے شروع ہوکر اسلامی ادوار، یورپی معاشروں، اور بالآخر جدید مشرقِ وسطیٰ تک پہنچتا ہے۔
یہ داستان دراصل اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب ’’یہودی-رومی جنگیں‘‘ (Jewish -Roman wars) کے دوران میں رومی سلطنت نے یروشلم کو تباہ کیا اور یہودیوں کو اُن کے تاریخی وطن سے بڑی تعداد میں بے دخل کر دیا۔ یہ کوئی عام واقعہ نہیں تھا، بل کہ ایک ایسا موڑ تھا، جس نے یہودیوں کی اجتماعی زندگی کی سَمت بدل دی۔ اس کے بعد وہ ایک جگہ کی قوم نہ رہے، بل کہ دنیا بھر میں پھیل  گئے… جسے بعد میں ’’یہودی جَلاوطنی‘‘ یا ’’یہودی بکھراو‘‘ (Jewish Diaspora)  کہا گیا۔
یہ بکھراو محض جغرافیائی نہیں تھا، بل کہ اس نے یہودیوں کو مختلف تہذیبوں اور سیاسی نظاموں کے ساتھ جینے پر مجبور کیا۔ کچھ یہودی مشرقِ وسطیٰ میں رہے، جب کہ ایک بڑی تعداد یورپ کی طرف منتقل ہوگئی۔ یہی وہ تقسیم ہے جو بعد کی تاریخ کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ کیوں کہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں یہودیوں کے ساتھ برتاو بالکل مختلف رہا۔
ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلامی خلافت قائم ہوئی اور فلسطین مسلمانوں کے زیرِ انتظام آیا، تو ایک نیا باب شروع ہوا۔ خلفائے راشدین کے دور سے لے کر بعد کی مسلم سلطنتوں تک، یہودی مختلف علاقوں میں ایک اقلیت کے طور پر موجود رہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: اس طویل دور، جو صدیوں پر محیط ہے، میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کوئی مسلسل یا بین الریاستی جنگ موجود نہیں تھی۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ اُس زمانے میں تعلقات زیادہ تر حکم رانی اور رعایا کے تھے، نہ کہ جنگ اور تصادم کے۔ یہودیوں کو ’’اہلِ کتاب‘‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا، انھیں اپنی عبادات کی آزادی ملی، اور وہ مختلف شہروں (یروشلم، بغداد، دمشق اور استنبول) میں زندگی گزارتے رہے۔ ’’سلطنتِ عثمانیہ‘‘ (Ottoman Empire) کے دور تک آتے آتے یہ صورتِ حال مزید مستحکم ہوچکی تھی، جہاں یہودی نہ صرف محفوظ تھے، بل کہ کئی شعبوں میں فعال بھی تھے۔
لیکن اسی دوران میں، جب مشرقِ وسطیٰ میں یہودی نسبتاً استحکام کے ساتھ رہ رہے تھے، یورپ میں ان کی تاریخ ایک بالکل مختلف رُخ اختیار کر رہی تھی۔ وہاں وہ ایک مستقل اقلیت تھے، جنھیں اکثر ’’غیر‘‘ سمجھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ مذہبی تعصب، معاشی حسد اور سیاسی حالات نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا، جس میں یہودی بار بار نشانہ بنتے رہے۔
یہ سلسلہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں تھا، بل کہ صدیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ کبھی انھیں شہروں سے نکالا گیا، کبھی ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور کبھی عوامی ہجوم کے حملوں (Pogroms) کا نشانہ بنایا گیا۔ اسپین سے 1492 عیسوی میں بے دخلی، مشرقی یورپ میں مسلسل حملے اور فرانس میں سیاسی اسکینڈلز جیسے ’’ڈریفس قضیہ‘‘ یا ’’ڈریفس معاملہ‘‘ (Dreyfus Affair) یہ سب اسی طویل سلسلے کی کڑیاں تھیں۔
یہ پس منظر آخرِکار بیسویں صدی عیسوی میں ایک انتہائی بھیانک صورت اختیار کرگیا، جب ’’یہودی قتلِ عام‘‘ یا ’’یہودی نسل کُشی‘‘ (Holocaust) پیش آیا۔ نازی جرمنی کے ہاتھوں لاکھوں یہودیوں کا قتل صرف ایک واقعہ نہیں تھا، بل کہ صدیوں کی نفرت کا انتہائی نقطہ تھا۔ اس سانحے نے نہ صرف یورپ، بل کہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا یہودی کہیں بھی محفوظ رہ سکتے ہیں؟ اور یہی وہ مقام تھا، جہاں ایک اور تاریخی دھارا، جو پہلے سے موجود تھا، تیزی سے آگے بڑھا… یعنی ’’صیہونی تحریک‘‘ (Zionist Movement)۔
اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کے لیے ایک ایسا وطن قائم کیا جائے، جہاں وہ اپنی حفاظت خود کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے فلسطین کا انتخاب کیا گیا، جو ان کے تاریخی اور مذہبی پس منظر سے جڑا ہوا تھا۔ یہ واپسی اچانک نہیں ہوئی، بل کہ یہ ایک منظم عمل تھا۔ یورپ اور روس سے یہودی ہجرت کرتے گئے اور انھوں نے فلسطین میں زمینیں خریدنا شروع کیں۔ یہ خریداری زیادہ تر قانونی طریقے سے ہوتی تھی، بڑے زمین داروں سے، جو اکثر خود اس زمین پر رہتے بھی نہیں تھے۔ سرمایہ بیرونِ ملک سے آتا تھا، ادارے قائم کیے جاتے رہے اور زرعی بستیاں بنائی جاتی رہیں… لیکن اس عمل کا ایک دوسرا پہلو بھی تھا: ان زمینوں پر کام کرنے والے مقامی عرب کسان بے دخل ہونے لگے، جس سے کشیدگی بڑھتی گئی۔
یہ کشیدگی اُس وقت مزید بڑھ گئی، جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد فلسطین "British Mandate for Palestine” کے تحت برطانیہ کے کنٹرول میں آیا۔ برطانیہ ایک طرف یہودی ہجرت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا، اور دوسری طرف عرب آبادی کے ساتھ بھی تنازعات کا سامنا کرتا رہا۔ حالات اس قدر پیچیدہ ہوگئے کہ برطانیہ نے ہاتھ کھڑے کردیے اور  بالآخر مسئلہ ’’اقوامِ متحدہ‘‘ کے حوالے کر دیا گیا۔
1947 عیسوی میں اقوامِ متحدہ نے ایک تقسیمی منصوبہ پیش کیا، جس کی تفصیل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس منصوبے کے مطابق فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کیا جانا تھا، جس میں تقریباً 55 فی صد زمین یہودی ریاست کے لیے اور 45 فی صد عرب ریاست کے لیے مختص کی گئی… جب کہ یروشلم کو ایک بین الاقوامی شہر بنانے کی تجویز دی گئی۔ حال آں کہ اس وقت یہودی آبادی تقریباً ایک تہائی تھی، لیکن انھیں زیادہ رقبہ دیا گیا، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہودیوں نے 7 فی صد رقبہ قیمتاً خریدا تھا۔ دوسری وجہ، دنیا بھر کے یہودیوں نے اس ملک کی طرف ہجرت کرنا تھا اور اس کے علاوہ مجوزہ یہودی ریاست میں ’’نیگیو‘‘ (Negev) جیسے غیر آباد صحرائی علاقے شامل تھے۔ اور اس کے برخلاف عربوں کو پہلے سے قائم معاشرہ یعنی زیادہ آباد شہر اور زرخیز زمینیں دینی تھی، جسے انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔
یہودی قیادت نے اس منصوبے کو قبول کرلیا، کیوں کہ اس کے ذریعے انھیں ایک باقاعدہ ریاست حاصل ہو رہی تھی، جب کہ عرب قیادت اور فلسطینیوں نے اسے مسترد کر دیا۔ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ تقسیم غیر منصفانہ تھی۔
یہاں سے حالات مزید بگڑ گئے اور 1947 عیسوی کے آخر سے ہی مقامی عرب اور یہودی گروہوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں، جو ایک خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گئیں۔ اس دوران میں دونوں طرف سے حملے اور جوابی حملے ہوتے رہے اور حالات مسلسل کشیدہ ہوتے گئے۔
اسی پس منظر میں جب 1948 عیسوی میں برطانیہ نے اپنی عمل داری ختم کی اور ’’اسرائیلی اعلانِ آزادی‘‘ (Israeli Declaration of Independence) کے ذریعے اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا، تو یہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ اعلان کے فوراً بعد اُردن، مصر، شام اور دیگر عرب ممالک کی افواج فلسطین میں داخل ہوگئیں، جس سے 1948ء کی ’’عرب-اسرائیل جنگ‘‘ (1948 Arab–Israeli War) شروع ہوگئی۔
اب یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس جنگ کا آغاز دو مرحلوں میں ہوا:
پہلا مرحلہ، مقامی سطح پر عرب اور یہودی گروہوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی۔
دوسرا مرحلہ، اس کے بعد باقاعدہ عرب ریاستیں اس میں شامل ہوگئیں۔
اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا، بل کہ اقوامِ متحدہ کے منصوبے سے زیادہ علاقہ بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا، جب کہ بڑی تعداد میں فلسطینی عرب بے گھر ہوگئے۔
اگر اس پوری تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جاسکتا ہے: یہودیوں کا فلسطین سے بکھراو، یورپ میں ان کا صدیوں کا تجربہ اور جدید دور کی سیاسی تحریک… یہ سب مل کر اسرائیل کے قیام اور آج کے تنازع کی بنیاد بنے۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے اسے ٹکڑوں میں نہیں، بل کہ ایک مسلسل کہانی کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ کیوں کہ ہر واقعہ اگلے واقعے کی بنیاد بنتا ہے۔
عزیزانِ من! یہ امرِ تاریخ ہے کہ یہودی قوم نے 70 عیسوی میں ’’یروشلم کا محاصرہ‘‘ (Siege of Jerusalem) کے بعد  سے لے کر 1948 عیسوی تک تقریباً 1800 سالوں پر محیط ایک طویل، صبر آزما اور نہایت کٹھن دور گزارا۔ اس طویل عرصے میں وہ مختلف خطوں میں بکھرے رہے، جَلاوطنی اور در بہ دری ان کا مقدر بنی، اور ہر دور میں انھیں کسی نہ کسی شکل میں امتیاز، بے دخلی اور آزمایشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ (ختم شد!)
مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’یہودی-رومی جنگیں‘‘ (Jewish -Roman wars):۔ یہ پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں رومی سلطنت اور یہودی عوام کے درمیان ہونے والی بڑی لڑائیوں کا مجموعہ ہیں۔
2) ’’یہودی جَلاوطنی‘‘ یا ’’یہودی بکھراو‘‘ (Jewish Diaspora):۔ اس اصطلاح سے مراد وہ تاریخی دور ہے، جب یہودی مختلف وجوہات، خصوصاً رومی جنگوں اور جَلاوطنی کے بعد، دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل گئے اور اپنی برادریاں قائم کیں۔
3) ’’سلطنتِ عثمانیہ‘‘ (Ottoman Empire):۔ سلطنتِ عثمانیہ ایک عظیم اسلامی سلطنت تھی، جو 1299ء میں قائم ہوئی اور بیسویں صدی کے آغاز تک تقریباً چھے سو (600) سال تک قائم رہی۔ اس کا مرکز موجودہ ترکی تھا اور یہ مشرقی یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ عثمانی سلطنت اپنی فوجی طاقت، ثقافتی اثرات اور خلافت کے نظام کے باعث دنیا کی سب سے بڑی سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔
4) ’’ڈریفس قضیہ‘‘ یا ’’ڈریفس معاملہ‘‘ (Dreyfus Affair):۔ یہ 19ویں صدی کے آخر میں فرانس میں ایک فوجی افسر ’’الفریڈ ڈریفس‘‘ پر غداری کے الزام اور اس سے جڑے سیاسی و سماجی تنازعے کو بیان کرتا ہے۔
5) ’’یہودی قتلِ عام‘‘ یا ’’یہودی نسل کُشی‘‘ (Holocaust):۔ ہولوکاسٹ دراصل دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں نازی جرمنی کے ہاتھوں لاکھوں یہودیوں کے منظم قتل اور ظلم و ستم کو بیان کرنے والی اصطلاح ہے۔
6) ’’صیہونی تحریک‘‘ (Zionist Movement):۔ یہ تحریک اُنیس ویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی، جس کا مقصد یہودیوں کے لیے فلسطین میں ’’قومی وطن‘‘ قائم کرنا تھا۔
7) ’’فلسطین پر برطانوی انتداب‘‘ (British Mandate for Palestine):۔ یہ اصطلاح پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے دور کی ہے، جب برطانیہ کو فلسطین کا انتظام سنبھالنے کا اختیار دیا گیا تھا۔
8) ’’نیگیو‘‘ (Negev):۔ یہ اصطلاح، اسرائیل کے جنوبی حصے کے صحرا کے لیے مستعمل ہے۔
9) ’’اسرائیلی اعلانِ آزادی‘‘ (Israeli Declaration of Independence):۔ یہ اصطلاح، 1948ء میں فلسطین میں اسرائیل کے قیام کے باضابطہ اعلان کو بیان کرتی ہے۔
10) ’’عرب-اسرائیل جنگ‘‘ (1948 Arab–Israeli War):۔ یہ جنگ 15 مئی 1948ء کو اسرائیل کے اعلانِ آزادی کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ عرب ممالک (مصر، اردن، شام، لبنان اور عراق) نے فلسطین میں نئی ریاست اسرائیل کو ختم کرنے کے لیے حملہ کیا۔ جنگ مارچ 1949ء میں ختم ہوئی۔ اسرائیل نے نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنایا، بل کہ مزید علاقے پر بھی قبضہ جمالیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں فلسطینی پناہ گزینوں کا بحران شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔
11) ’’یروشلم کا محاصرہ‘‘ (Siege of Jerusalem):۔ یہ اصطلاح اُس تاریخی واقعے کو ظاہر کرتی ہے، جب یروشلم کو فوجی طاقت کے ذریعے گھیر لیا گیا اور شہر کو بند کر دیا گیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا ’’یہودی-رومی جنگیں‘‘ (Jewish -Roman wars) amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے