خیبر پختونخوا کا بلدیاتی بحران

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کی کارکردگی اور اس سے جڑی عوامی توقعات ایک بار پھر بحث کا مرکز بن چکی ہیں۔ جمہوری نظام میں بلدیاتی ادارے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیوں کہ یہی وہ سطح ہے، جہاں عام آدمی کا بہ راہِ راست رابطہ حکومت سے قائم ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ترقیاتی کاموں کا بڑا حصہ مقامی حکومتوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، جہاں نہ تو قومی اسمبلی کے ارکان ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں لگاتے نظر آتے ہیں اور نہ صوبائی وزرا ہر چھوٹے بڑے منصوبے میں مداخلت ہی کرتے ہیں۔ وہاں کا مضبوط بلدیاتی نظام ہی اصل ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔
بلدیاتی نمایندے گاؤں، محلے اور یونین کونسل کی سطح پر منتخب ہوکر عوامی مسائل کو قریب سے سمجھتے ہیں اور ان کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کا حسن بھی اسی میں ہے کہ عوام نہ صرف اپنے نمایندے منتخب کریں، بل کہ ان کے ذریعے اپنے مسائل کے حل میں بھی شریک ہوں… لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ نظام ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے، یا پھر اسے مکمل اختیارات اور وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے جب خیبر پختونخوا میں حکومت سنبھالی، تو اس نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کا وعدہ کیا۔ دعوا کیا گیا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں گے اور عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا کو اکثر ایک ماڈل صوبہ قرار دیا جاتا رہا ہے، جہاں ایک ہی جماعت کو مسلسل تین بار حکومت کرنے کا موقع ملا۔ یہ عوام کے اعتماد کا واضح اظہار تھا، مگر اس اعتماد کا صلہ کیا ملا؟ یہ سوال آج ہر شہری کے ذہن میں موجود ہے۔
حالیہ بلدیاتی دور میں، جس نے اپنی آئینی مدت مکمل کر لی، کارکردگی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بلدیاتی نمایندے، چاہے وہ میئر ہوں یا کونسلرز، اکثر شکایات کرتے نظر آئے کہ انھیں فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے۔ ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار رہے اور عوامی مسائل جوں کے توں برقرار رہے۔ کئی مقامات پر منتخب نمایندوں کو احتجاج کرتے دیکھا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں سنگین خامیاں موجود تھیں۔
اگر بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور وسائل ہی فراہم نہ کیے جائیں، تو پھر ان کے قیام کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ کیا صرف انتخابات کروا دینا ہی جمہوریت کی تکمیل ہے، یا اس کے بعد بھی کچھ ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں؟ ایک مضبوط جمہوری نظام میں بلدیاتی نمایندوں کو بااختیار بنانا ضروری ہوتا ہے، تاکہ وہ حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرسکیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام نے بارہا ایک ہی جماعت کو ووٹ دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ تبدیلی کے خواہاں ہیں… مگر یہی عوام اگر بنیادی سہولیات سے محروم رہیں، ترقیاتی کام نہ ہوں اور بلدیاتی نمایندے بے بس دکھائی دیں، تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے؟ کیا یہ عوام کی نادانی ہے کہ وہ نعروں کے پیچھے چل پڑتے ہیں، یا قیادت کی ناکامی ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے نہیں کر پاتی؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بلدیاتی نظام کم زور ہوتا ہے، تو اس کا بہ راہِ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔ گلیاں ٹوٹی رہتی ہیں، نکاسئی آب کے مسائل حل نہیں ہوتے، صفائی کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور شہری بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں جمہوریت کا تصور بھی کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
اگر موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بلدیاتی نظام کو محض ایک رسمی ڈھانچے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ نمایندے منتخب تو ہو جاتے ہیں، مگر ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں اور نہ اختیار ہی ہوتا ہے۔ نتیجتاً وہ یا تو خاموش رہتے ہیں یا پھر احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اس صورتِ حال میں ضروری ہے کہ سیاسی قیادت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اگر واقعی جمہوریت کو مضبوط کرنا مقصود ہے، تو بلدیاتی نظام کو مکمل اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں۔ ورنہ محض نعرے لگانے اور وعدے کرنے سے نہ تو عوام کے مسائل حل ہوں گے اور نہ نظام میں بہتری ہی آئے گی۔
مزید بر آں، اگر ایک حکومت اپنی بنیادی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو اسے اپنی ترجیحات کا از سرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی مسائل کا حل ہی ان کی اصل کام یابی ہے، نہ کہ محض سیاسی بیانیے یا احتجاجی سیاست۔
خیبر پختونخوا ایک اہم صوبہ ہے، جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ یہاں کے عوام مزید محرومی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی، تو اس کا نقصان صرف ایک جماعت کو نہیں، بل کہ پورے صوبے کو ہوگا۔
لہٰٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں فعال بنایا جائے، منتخب نمایندوں کو بااختیار کیا جائے اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے۔ بہ صورت دیگر، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انتخابات سے زیادہ بہتر وہ نظام ہوگا، جس میں کم از کم عوام کو جھوٹی امیدیں تو نہ دی جائیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے