بقا تا برتری: ایران کی تزویراتی کام یابی

Blogger Lawangin Yousafzai

حالیہ ایران اور امریکہ–اسرائیل جنگ میں ایران کی پوزیشن کو سمجھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ محض تباہ شدہ اثاثوں کی گنتی سے آگے بڑھ کر اس وسیع تر ’’تزویراتی منظرنامے‘‘ (Strategic Landscape) کو دیکھا جائے، جو اس تنازع کے بعد ابھرا۔ اس نوعیت کی جنگیں اس بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوتیں کہ کس نے کم نقصان اٹھایا، بل کہ اس بات پر کہ کون شدید دباو کے باوجود اپنی سیاسی یک جہتی، دفاعی صلاحیت اور مذاکراتی برتری برقرار رکھ سکا۔ اس زاویے سے دیکھا جائے، تو ایران کا تجربہ روایتی فتح کا نہیں، بل کہ ایسی استقامت کا ہے، جس نے اسے حقیقی تزویراتی فوائد میں تبدیل کر دیا۔
ایران کی کام یابیوں کی بنیاد اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس نے شدید حملوں کے باوجود ریاستی بقا کو یقینی بنایا۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے کی شدت سے یہ تاثر ملتا تھا کہ قیادت کو مفلوج کرنے، کمانڈ سسٹم کو تباہ کرنے اور فوری تزویراتی پسپائی پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ایرانی ریاست ٹوٹنے سے بچ گئی۔ اس کا سیاسی نظام چلتا رہا، عسکری قیادت نے حالات کے مطابق خود کو ڈھالا، اور جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رہی۔ یہ تسلسل اس لیے اہم ہے کہ اس نے مخالفین کے اُس بنیادی ہدف کو ناکام بنایا، جو اکثر ایسی جنگوں میں ہوتا ہے: یعنی ریاستی ڈھانچے کو منہدم کر دینا یا اسے ہتھ یار ڈالنے پر مجبور کرنا۔
اسی کے ساتھ ایران نے اپنی بقا کو ایک وسیع تر اخلاقی اور بیانیاتی برتری میں بھی تبدیل کیا۔ مغربی دنیا سے باہر بہت سے خطوں میں اس جنگ کو محض دفاعی توازن کے بہ جائے خودمختاری کے امتحان کے طور پر دیکھا گیا۔ ایران کا شدید حملوں کے باوجود نہ جھکنا اس کی اُس شبیہ کو مضبوط کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی ریاست ہے، جو طاقت ور قوتوں کے سامنے مزاحمت کرتی ہے۔ اگرچہ اس سے اس کی علاقائی پالیسیوں پر تنقید ختم نہیں ہوتی، لیکن یہ تاثر ضرور مضبوط ہوتا ہے کہ ایران عالمی طاقت کے عدم توازن کے خلاف کھڑا رہ سکتا ہے۔ اس طرح کا بیانیہ خاص طور پر ان معاشروں میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں عوامی رائے سفارتی فضا پر اثر انداز ہوتی ہے۔
عسکری لحاظ سے ایران کی سب سے بڑی کام یابی نقصان سے بچنا نہیں، بل کہ اپنی صلاحیت کو برقرار رکھنا ہے۔ شدید حملوں کے باوجود اس نے اپنے میزائل اور ڈرون نظام کا اتنا حصہ محفوظ رکھا کہ وہ مسلسل جوابی حملے کرسکے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا دفاعی نظریہ ناقابلِ شکست ہونے پر نہیں، بل کہ بقا اور تسلسل پر مبنی ہے۔ دشمن کو مسلسل نقصان پہنچانے کی صلاحیت نے ایران کے دفاعی تصور کو مزید معتبر بنا دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے ایک طویل اور مہنگی جنگ درکار ہوگی، جو مخالفین کے لیے ایک مشکل فیصلہ بن جاتا ہے۔
یہ نتیجہ ایران کی عسکری حکمتِ عملی کے ڈھانچے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کئی دہائیوں سے ایران نے اپنی دفاعی تیاریوں میں پھیلاو، متبادل نظام، اور زیرِ زمین تنصیبات پر سرمایہ کاری کی ہے، تاکہ فضائی برتری رکھنے والے دشمن کے حملوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ حالیہ جنگ نے اس حکمتِ عملی کو درست ثابت کیا ہے۔ ’’لانچنگ سسٹمز‘‘ کا چلتے رہنا، تباہ شدہ نیٹ ورکس کی بہ حالی، اور کمانڈ کے مختلف حصوں کا فعال رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایران کی دفاعی ساخت استقامت کے لیے تیار کی گئی تھی، نہ کہ فوری کارکردگی کے لیے۔
سفارتی سطح پر بھی جنگ نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں، جو بالآخر ایران کے حق میں جاسکتے ہیں۔ خطے کے ممالک نے اس تصادم کے معاشی اور سکیورٹی خطرات کو قریب سے دیکھا، خاص طور پر توانائی کی ترسیل اور بحری راستوں کے حوالے سے۔ اس تجربے نے بہت سے ممالک کو محتاط بنا دیا ہے اور وہ اب کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایران کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا، بل کہ وہ خطے کے مستقبل کے سکیورٹی انتظامات میں ایک لازمی فریق بن گیا ہے۔
ایک اور اہم فائدہ ایران کی بہتر مذاکراتی پوزیشن ہے۔ چوں کہ اُس نے اپنی جوابی صلاحیت برقرار رکھی اور دشمن کے لیے جنگ کو مہنگا بنایا، اس لیے وہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں کم زور فریق کے طور پر داخل نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس، اس نے اتنی طاقت برقرار رکھی ہے کہ وہ مذاکرات کی شرائط پر اثر انداز ہوسکے۔ اس تناظر میں استقامت خود ایک طاقت بن جاتی ہے۔ کیوں کہ جو ریاست زیادہ دیر تک دباو برداشت کرسکتی ہے، وہ اتنی ہی زیادہ شرائط منوا سکتی ہے۔
معاشی لحاظ سے اگرچہ ایران کو نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اس نے بالواسطہ اقتصادی دباو ڈالنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔ اپنی جغرافیائی حیثیت اور اہم توانائی راستوں پر اثر و رسوخ کے ذریعے ایران نے یہ ثابت کیا کہ وہ عالمی معیشت کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس سے نہ صرف عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے، بل کہ جنگ جاری رکھنے کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے، جو بالآخر سفارتی حل کی ضرورت کو بڑھاتی ہے۔
مزید برآں، اس جنگ نے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ مختلف علاقوں میں موجود اس کے اتحادی عناصر کی سرگرمی نے جنگ کے دائرۂ کار کو وسیع کر دیا، جس سے مخالفین کے لیے حکمتِ عملی بنانا مزید پیچیدہ ہوگیا۔ یہ نیٹ ورک ایران کے لیے ایک اضافی دفاعی پرت فراہم کرتا ہے، جو اس کی طاقت کو سرحدوں سے باہر تک پھیلا دیتا ہے۔
شاید سب سے اہم نتیجہ ایران کی طویل المدتی حکمتِ عملی کی توثیق ہے۔ برسوں تک اس کی غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کو محض ایک مجبوری سمجھا جاتا رہا، لیکن اس جنگ نے ثابت کیا کہ یہ ایک سوچا سمجھا نظام ہے۔ اگر کوئی ریاست شدید دباو برداشت کرکے اپنی صلاحیت برقرار رکھے اور مذاکرات میں مؤثر حیثیت حاصل کرلے، تو اس کی حکمتِ عملی کام یاب سمجھی جاتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایران کی پوزیشن کو سادہ فتح یا شکست کے پیمانے پر نہیں ناپا جاسکتا۔ اس نے بھاری نقصان بھی اٹھایا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ اپنی سیاسی بقا، دفاعی صلاحیت، بیانیاتی اثر، سفارتی اہمیت اور مذاکراتی برتری کو برقرار رکھنے میں کام یاب رہا ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں، جو جدید غیر متوازن جنگوں میں حقیقی کامیابی کی تعریف کرتے ہیں، جہاں بقا ہی بالآخر برتری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ (ختم شد!)
مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’لانچنگ سسٹم‘‘ (Launching System):۔ اس اصطلاح سے مراد وہ ڈھانچا یا آلہ ہے، جس کے ذریعے میزائل، راکٹ یا ڈرون کو فائر یا لانچ کیا جاتا ہے… یعنی یہ وہ پلیٹ فارم یا نظام ہے، جو ہتھ یار کو زمین، سمندر یا ہوا سے چھوڑنے کے قابل بناتا ہے۔ جنگی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے: ’’میزائل یا ڈرون چھوڑنے کا نظام۔‘‘
2) ’’تزویراتی منظرنامہ‘‘ (Strategic Landscape):۔ تزویراتی منظرنامے کا مطلب ہے کسی جنگ یا تنازع کے بڑے سیاسی، عسکری اور سفارتی پس منظر کا مجموعی نقشہ… یعنی صرف نقصان یا جیت ہار نہیں، بل کہ پورے حالات، طاقتوں کے تعلقات اور مستقبل کے امکانات کو دیکھنے کا زاویہ۔
تحریر میں شامل سبھی نمایاں مشکل اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے