امریکی تاریخ کے سیاہ ابواب

Blogger Fazal Mnana Bazda, Thana

نوٹ: لفظونہ ڈاٹ کام کے قارئین کی سہولت اور دل چسپی دونوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے تحاریر میں ایک نئے حصے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے زیرِ نظر تحریر میں استعمال شدہ پیچیدہ اصطلاحات کے مفاہیم کی وضاحت آخر میں درج کی جا رہی ہے۔ اگر قارئین مزید بہتری چاہتے ہیں، تو لفظونہ ٹیم کو اپنی آرا سے آگاہ کریں۔ (کامریڈ امجد علی سحابؔ، بانی مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
مبینہ طور پر ’’کرسٹوفر کولمبس‘‘ (Christopher Columbus) کے ہاتھوں 1492ء میں امریکہ کی دریافت کے بعد یورپ سے آنے والے آبادکاروں نے اسے اپنا مسکن بنایا۔ یورپ کے ’’سفید فام افراد‘‘ (White People) نے امریکی وسائل، زمینوں اور زرعی علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے مقامی لوگوں، جنھیں ’’ریڈ انڈینز‘‘ (Red Indians) کہا جاتا تھا، کے خلاف سامراجی پالیسی اپنائی۔ لاکھوں کی تعداد میں ’’ریڈ انڈینز‘‘ کو شکار کرکے ہلاک کیا گیا یا اُن کی خوراک اور پانی روک کر اُنھیں موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا۔
مقامی لوگوں اور جنگلی جانوروں کو ہلاک کرنے کے لیے وہاں آنے والے سفید فام افراد نے ایک ہی ظالمانہ اور جابرانہ طریقہ اختیار کیا۔ امریکیوں نے مقامی لوگوں (ریڈ انڈینز) سے 100 سے زیادہ معاہدے کیے، لیکن ہر بار سفید فاموں نے ان معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انھیں توڑ دیا۔
’’ریکسونا ڈنبر اورٹیز‘‘ (Roxanne Dunbar-Ortiz)، جن کا تعلق امریکی ریاست اوکلاہوما سے ہے، جب کہ اُن کی والدہ کا تعلق ریڈ انڈینز خاندان سے تھا، نے اپنی کتاب "An Indigenous Peoples’ History of the United States” میں ریڈ انڈینز کے حوالے سے ایسے حقائق سامنے لائے، جو اب تک پوشیدہ تھے۔ ریکسونا نے اپنی کتاب کا آغاز امریکی مورخ ’’جوڈی بائرڈ‘‘ کے اس اہم جملے سے کیا: ’’امریکہ ایک بڑی طاقت یا سامراجی ملک بننے میں ان معاشی، معدنی اور زمینی وسائل کا بڑا حصہ ہے، جو اس نے ریڈ انڈینز یا مقامی باشندوں کے استحصال سے حاصل کیا۔‘‘
ریکسونا کی کتاب کے مطابق امریکہ میں 500 سے زیادہ ریڈ انڈین اقوام کی صورت میں 30 لاکھ سے زائد افراد موجود تھے، جو ایک طویل عرصے سے امریکی سرزمین پر آباد تھے۔ جب 1829ء میں ’’اینڈریو جیکسن‘‘ امریکی صدر منتخب ہوئے، تو ریڈ انڈینز کو نسلی طور پر ختم کرنے کی امریکی پالیسی میں تیزی آگئی۔ اُس وقت کے جنرل ’’تھامس ایس جیسپ‘‘ نے امریکی حکومت کو مشورہ دیا کہ ریڈ انڈینز سے نمٹنے کا واحد طریقہ ان کی نسل کا مکمل خاتمہ ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے بھی 1873ء میں ریڈ انڈینز کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ان کی نسل کشی جائز ہے، اور یہ کہ انھیں ہلاک کرنا غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 2003ء میں بھی امریکی سپریم کورٹ نے 1873ء کے فیصلے کو نظیر کے طور پر پیش کرتے ہوئے گوانتاناموبے میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کو یہ کَہ کر جائز قرار دیا کہ وہاں جنیوا کنونشنز سمیت انسانی حقوق کے قوانین لاگو نہیں ہوتے۔
ریکسونا نے یہ دعوا بھی کیا کہ امریکی سامراجی پالیسی، ریڈ انڈینز کے وسائل کی لوٹ مار اور نسل کشی کے بعد دنیا کے دیگر حصوں کی لوٹ مار کی جانب بڑھ گئی۔ گذشتہ پون صدی میں ویت نام، کوریا، فلپائن، کمبوڈیا، عراق، لیبیا، افغانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ حالیہ مشرقِِ وسطیٰ کی جنگوں کے پیچھے بھی امریکہ کی وہی ذہنیت کارفرما نظر آتی ہے۔
امریکی حکم رانوں کو جھوٹ بولنے اور اسے پھیلانے میں خاص مہارت حاصل ہے۔ ’’نائن الیون‘‘ (9/11) کا ڈراما رچا کر افغانستان کو ملیامیٹ کیا گیا۔ اسی طرح عراق پر خطرناک ہتھ یاروں کا الزام لگاکر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ اب ایران پر خطرناک میزائل اور ایٹم بم کا الزام لگاکر آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔
مذکورہ بالا ممالک اور اقوام کی خودمختاری اور سالمیت کو جس بے دردی سے پامال کیا گیا، کیا وہ انسانی حقوق کے زمرے میں نہیں آتا… اور آخر اس کا جواز کیا ہے؟
امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دوستی میں کیا کچھ نہیں کیا… 1965ء کی ہندوستان-پاکستان جنگ میں پاکستان کے جنگی طیارہ F-104 کے پرزہ جات بند کر دیے۔ 1971ء کی جنگ میں ہندوستان کا ساتھ دیا۔ امریکہ مختلف بہانے بنا کر پاکستان پر پابندیاں عائد کرتا رہا۔ معاہدے کے باوجود F-16 جنگی طیاروں کی قیمت ادا کرنے کے باوجود پاکستان کو یہ طیارے دینے سے انکار کیا گیا۔ نواز شریف کے دور میں F-16 کے بدلے دی جانے والی گندم بھی ناقص اور پسو زدہ تھی۔
اس طرح پانچ دہائیوں تک افغان جنگ میں ساتھ دینے کے بعد بھی پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا اور اس پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ دنیا کے اکثر ممالک، خصوصاً یورپ اور برطانیہ، ماضی میں امریکہ کی جنگوں میں اس کی حمایت کرتے رہے، لیکن موجودہ اسرائیل-امریکہ اور ایران کی کشیدگی میں دنیا کے اکثر ممالک غیر جانب دار نظر آتے ہیں اور امریکہ سے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
امریکہ کے پہلے اتحادی اب بھی اس کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں اور کسی نہ کسی طرح اس کے ضامن بننا چاہتے ہیں، جب کہ مصر، ترکی اور پاکستان جیسے ممالک، جنھیں امریکہ اکثر نظر انداز کرتا رہا… اب اسرائیل-امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے کے لیے میدان میں آچکے ہیں۔
امریکی وعدہ خلافیوں اور دھوکا دہی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ملک ضمانت دینے کو تیار نہیں، تو ایسے میں مصر، ترکی اور پاکستان کو آخر کون سی اُمید کی کرن نظر آئی ہے کہ امریکہ ان کی تجاویز مان لے گا؟ اگرچہ بہ ظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔
ایک طرف پاکستان، امریکہ کا ضامن بننے جا رہا ہے، جب کہ دوسری طرف امریکہ نے پاکستان پر دور مار میزائل بنانے کا الزام لگایا ہے اور یہ دعوا کیا ہے کہ پاکستانی میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔ کسی بھی ملک پر حملہ کرنے سے پہلے امریکہ اس قسم کے الزامات لگاتا ہے۔
اللہ نہ کرے کہ پاکستان کے ساتھ بھی وہی ہو، جو امریکہ نے دیگر ممالک کے ساتھ کیا اور جس کا ذکر اوپر کی سطور میں کیا گیا ہے۔ (ختم شد!)
زیرِ نظر تحریر میں پیچیدہ اصطلاحات جو پہلے سے نمایاں کی گئی ہیں، ان کے مفاہیم کی وضاحت ذیل میں ملاحظہ ہو:
1) ’’کرسٹوفر کولمبس‘‘ (Christopher Columbus):۔ کرسٹوفر کولمبس ایک اطالوی ملاح اور مہم جو تھا، جس نے اسپین کے جھنڈے تلے چار سمندری سفر کیے (1492–1502) اور یورپ کو پہلی بار کیریبین، وسطی اور جنوبی امریکہ سے جوڑا۔ وہ ایشیا تک سمندری راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا، مگر اس کے بہ جائے امریکہ دریافت کر بیٹھا۔
2) ’’سفید فارم افراد‘‘ (White People):۔ سفید فارم افراد سے مراد وہ لوگ ہیں، جو یورپی نژاد یا مغربی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور جنھیں عمومی طور پر "White People” یا "Caucasian” کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح زیادہ تر سماجی، نسلی اور تاریخی مباحث میں استعمال ہوتی ہے۔
3) ’’ریڈ انڈینز‘‘ (Red Indians):۔ ریڈ انڈینز دراصل مقامی امریکی اقوام کے لیے ایک پرانی نوآبادیاتی اصطلاح ہے، جو آج غیر مناسب اور تعصب پر مبنی سمجھی جاتی ہے۔ ان کے لیے احترام پر مبنی الفاظ جیسے "Indigenous Peoples” یا "Native Americans” استعمال کیے جاتے ہیں۔
4) ’’ریکسونا ڈنبر اورٹیز‘‘ (Roxanne Dunbar-Ortiz):۔ ریکسونا ایک معروف امریکی مؤرخ، مصنفہ اور سماجی کارکن ہیں، جو خاص طور پر مقامی امریکیوں (Indigenous Peoples) کی تاریخ، حقوق اور خودمختاری کے حوالے سے اپنی تحریروں اور سرگرمیوں کے لیے مشہور ہیں۔
5) ’’اینڈریو جیکسن‘‘ (Andrew Jackson):۔ اینڈریو جیکسن ایک طاقت ور اور عوامی صدر تھے، جنھوں نے امریکی سیاست میں عوامی جمہوریت کو وسعت دی، مگر ان کی پالیسیوں نے مقامی امریکیوں کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کیے۔
6) ’’تھامس جیسپ‘‘ (Thomas Jesup):۔ تھامس ایس جیسپ ایک طویل فوجی کیریئر رکھنے والے جنرل تھے، جنھوں نے امریکی فوج کے لاجسٹکس نظام کو جدید بنایا، مگر مقامی امریکیوں کے خلاف سخت اور دھوکا دہ پالیسیوں کی وجہ سے ان کی میراث متنازع رہی۔
7) ’’گوانتاناموبے‘‘ (Guantanamo Bay detention camp):۔ گوانتاناموبے ایک فوجی جیل ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قائم کی گئی، مگر آج یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عالمی سیاست میں امریکی طاقت کے متنازع استعمال کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ امریکی حکومت نے اسے سمندر پار رکھا، تاکہ امریکی آئین اور عدالتوں کے دائرۂ اختیار سے بچا جاسکے۔
8) ’’جنیوا کنونشنز‘‘ (The Geneva Conventions):۔ جنیوا کنونشنز جنگ کے دوران میں انسانیت کے اُصولوں کو قائم رکھنے کے لیے بنیادی عالمی معاہدے ہیں، جو زخمیوں، قیدیوں اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ کنونشنز اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جنگ میں بھی انسانی وقار کا احترام کیا جائے۔
9) ’’مشرقِ وسطیٰ‘‘ (Middle East):۔ مشرقِ وسطیٰ، مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے حصوں پر مشتمل ایک خطہ ہے، جو دنیا کے سب سے اہم جغرافیائی اور سیاسی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ توانائی کے ذخائر، مذہبی اہمیت اور عالمی سیاست میں مرکزی کردار کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس خطے کے اہم ممالک سعودی عرب، ایران، عراق، شام، ترکی، اسرائیل، اردن، لبنان، مصر، یمن، عمان، قطر، بحرین، کویت اور فلسطین ہیں۔
10) ’’نائن الیون‘‘ (9/11):۔ یہ امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کا دن ہے، جب 11 ستمبر 2001ء کو القاعدہ کے دہشت گردوں نے چار مسافر طیارے ہائی جیک کرکے نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی میں بڑے حملے کیے۔ اس واقعے میں تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے اور یہ جدید تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے۔ (نائن الیون کو دنیا کا بیش تر حصہ امریکہ کا رچایا گیا ڈراما مانتا ہے۔)
11) ’’دور مار میزائل‘‘ (Long-range missile):۔ دور مار میزائل وہ جدید ہتھ یار ہیں، جو طویل فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہ کسی بھی ملک کی دفاعی و اسٹریٹیجک طاقت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
اصطلاحات کے مفاہیم میں ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ سے پھرپور طریقے سے مدد لی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے