تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جس قوم نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا، وہ دنیا کے ہر میدان میں آگے بڑھی… اور جس نے اسے نظر انداز کیا، وہ زوال، جہالت، پس ماندگی اور غربت میں ڈوب گئی۔ افسوس کہ آزادی کے 78 برس بعد بھی ہم ایک متفقہ، مضبوط اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام نہیں بناسکے۔ کبھی نصاب کی تبدیلی پر بحث، کبھی زبان کے مسئلے پر تنازع، کبھی مدارس اور اسکول کے فرق پر تنقید اور کبھی پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج، یہ سب مل کر ایک ایسا انتشار پیدا کرتے ہیں، جس کا خمیازہ نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام اکثر غیر واضح سوچ اور غیر سنجیدہ منصوبہ بندی کا شکار رہا ہے۔ نصاب سازی میں کوئی واضح حکمت عملی نہیں اور کئی مضامین ایسے ہیں، جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں کسی کام نہیں آتے۔ نتیجہ یہ کہ بچوں پر غیر ضروری مضامین کا بوجھ بڑھتا ہے، والدین پر مالی دباو پڑتا ہے اور حاصل ہونے والی تعلیم عملی زندگی میں فائدہ نہیں دیتی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بنیادی سطح پر قرآن و حدیث کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے، ناظرہ اور ترجمہ ہر اسکول میں پڑھایا جائے، اور جو بچے مزید دینی تعلیم حاصل کرنا چاہیں، وہ مدارس کا رخ کریں۔ اسی طرح جنسی تعلیم بھی ضروری ہے، تاکہ نوجوان بڑے ہونے پر مختلف معاشرتی اور جسمانی مسائل سے باشعور طریقے سے نمٹ سکیں۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن کو بھی بنیادی سطح سے نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ لڑکیوں کو گھریلو اور عملی مہارتیں جیسے کھانا پکانا، کپڑے تیار کرنا وغیرہ، اور لڑکوں کو بنیادی فنی، کمپیوٹر اور جدید ٹیکنیکل تعلیم کے ساتھ ساتھ کاروباری تربیت بھی دی جائے، تاکہ وہ عملی میدان میں خود کفیل بن سکیں۔ ۔ ہر بچے کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ دنیا میں ڈاکٹر بننے کے علاوہ بھی کئی باعزت اور کام یاب پیشے موجود ہیں۔ بدقسمتی سے میٹرک کے بعد زیادہ تر طلبہ اس الجھن میں رہتے ہیں کہ کس سمت جائیں؟ کیوں کہ بچپن سے انھیں اپنے ہدف کے تعین کی تربیت نہیں دی جاتی۔
سرکاری اسکولوں میں سہولیات کا فقدان، اساتذہ کی تربیت میں کمی اور وسائل کی قلت ایک کھلا راز ہے۔ اکثر اسکولوں میں صاف پانی، بجلی، بیت الخلا، لائبریری یا لیبارٹری تک میسر نہیں۔ دوسری طرف اکثر پرائیویٹ ادارے جدید سہولیات سے آراستہ ہیں مگر ان کی فیسیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، یوں تعلیم ایک بنیادی حق ہونے کے باوجود مخصوص طبقے تک محدود ہو گئی ہے۔
نصابِ تعلیم بھی ایک مستقل الجھن ہے۔ کہیں انگریزی کو ترقی کی کنجی سمجھا جاتا ہے تو کہیں اردو کو واحد ذریعہ تعلیم قرار دیا جاتا ہے۔ سائنسی مضامین میں پرانا مواد، تحقیق اور تنقیدی سوچ کی کمی، اور عملی تربیت کا فقدان طلبہ کو محض رٹہ کلچر کا عادی بنا دیتا ہے۔ ڈگریاں تو ہاتھ میں آ جاتی ہیں، مگر عملی میدان میں مہارت نہیں ہوتی۔ مدارس بھی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں، مگر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث طلبہ دنیاوی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ دینی تعلیم کو جدید علوم کے ساتھ جوڑا جائے، تاکہ ایک ایسا طبقہ تیار ہو جو دین کا بھی علم رکھتا ہو اور دنیاوی تقاضوں سے بھی باخبر ہو۔
دنیا میں کئی کام یاب تعلیمی ماڈلز موجود ہیں، جن سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔ جاپان میں اخلاقیات کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے، جہاں بچوں کو سچ بولنے، دوسروں کا احترام کرنے، صفائی اور وقت کی پابندی جیسے اصول عملی سرگرمیوں کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔ طلبہ خود اسکول کی صفائی کرتے ہیں، تاکہ محنت اور ذمے داری کا سبق عملی طور پر سیکھیں۔
جرمنی میں "Dual Education System” کے تحت اسکول کے ساتھ ساتھ عملی تربیت دی جاتی ہے۔ کم عمری ہی سے مکینیکل، الیکٹریکل اور دیگر فنی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں، اور ہائی اسکول کے بعد نوجوان صنعتوں میں اپرنٹس شپ کرتے ہیں، تاکہ وہ ڈگری کے ساتھ عملی تجربہ بھی حاصل کریں۔
فن لینڈ کا تعلیمی نظام دنیا میں سب سے متوازن مانا جاتا ہے، جہاں امتحانات کا دباو کم اور سیکھنے کا ماحول مثبت رکھا جاتا ہے۔ اساتذہ کو اعلا تربیت دی جاتی ہے، تعلیم مکمل طور پر مفت ہے اور نصاب بچوں کی انفرادی صلاحیت کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔
اسی طرح ترقی یافتہ ممالک جیسے سوئیڈن اور ناروے میں بچوں کو چھوٹی عمر سے اپنی حفاظت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ انھیں آسان زبان میں سمجھایا جاتا ہے کہ کون سا لمس درست ہے اور کون سا نہیں… اور کسی بھی خطرناک صورتِ حال میں کیسے ردِعمل دینا ہے؟ اس کے برعکس ہمارے ہاں نہ اسکولوں میں اس پر توجہ دی جاتی ہے اور نہ والدین ہی زیادہ تر اس بارے میں بچوں کو آگاہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنسی استحصال کے کئی واقعات سامنے آتے ہیں اور زیادہ تر دب جاتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنے تعلیمی نظام کو بدلنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے یک ساں نصاب نافذ کرنا ہوگا، جو عالمی معیار کے ساتھ ہماری قومی و دینی شناخت کی بھی عکاسی کرے۔ اساتذہ کی بھرتی صرف میرٹ پر ہو اور انھیں جدید تربیت دی جائے۔ ہر اسکول میں بجلی، پانی، بیت الخلا، لائبریری، لیبارٹری اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات لازمی ہوں۔ نصاب میں فنی اور عملی تعلیم کو شامل کیا جائے، تاکہ نوجوان صرف ڈگری یافتہ نہ ہوں، بل کہ ہنر مند بھی ہوں۔ تحقیق، پراجیکٹ ورک، اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیا جائے، اور تعلیم پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کے ساتھ فنڈز کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ والدین اور کمیونٹی کو اسکول مینجمنٹ میں شامل کیا جائے، تاکہ تعلیم پورے معاشرے کا مشترکہ مشن بن سکے۔
تعلیم خیرات نہیں، بل کہ سرمایہ کاری ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے تعلیمی نظام کو درست نہ کیا، تو کل کی نسل ہمارے ہی فیصلوں کا نوحہ لکھے گی۔ یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ ہم تعلیم کو محض کتابی علم نہیں، بل کہ کردار سازی، ہنر اور شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بنائیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










