عوامی مقامات اور تفریحی مراکز کسی بھی مہذب معاشرے کا مشترکہ اثاثہ ہوتے ہیں، جہاں ہر شہری کو سکون اور اطمینان کے ساتھ وقت گزارنے کا برابر حق حاصل ہوتا ہے… لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی کے تصور کو اکثر غلط رنگ دے دیا جاتا ہے اور یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ پبلک جگہوں پر ہم جو چاہیں، کریں… وہ ہمارا ذاتی حق ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیوں کہ کسی بھی عوامی مقام پر فرد کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے، جہاں سے دوسرے شخص کی حدود اور حقوق کا آغاز ہوتا ہے۔ جتنا حق آپ کا اُس جگہ پر موجود ہونے کا ہے، بالکل اتنا ہی حق وہاں موجود دیگر سیکڑوں لوگوں کا بھی ہے کہ وہ آپ کی حرکات و سکنات سے پریشان نہ ہوں اور نہ اُن کے سکون میں کوئی خلل ہی واقع ہو۔
آج کل سیاحتی مقامات، پارکوں اور شاہ راہوں کے کناروں پر جو مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، وہ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ جا بہ جا سڑکوں کے بیچ گاڑی کھڑی کرکے عجیب و غریب حرکتیں کرنا، بلند آواز میں موسیقی چلا کر شور و غل کرنا اور ہلڑ بازی کو اپنی خوشی کا اظہار سمجھنا دراصل ایک بیمار ذہنی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اسے جدید طرزِ زندگی یا سیاحت کا نام دیتے ہیں، حال آں کہ سیاحت کا اصل مقصد فطرت سے ہم آہنگ ہونا اور ذہنی سکون حاصل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ دوسروں کے سکون کو غارت کرنا۔ جب ہم کسی عوامی شاہ راہ یا تفریحی مقام پر دوسروں کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے اودھم مچاتے ہیں، تو یہ کسی صورت بھی خوشی منانا نہیں کہلاسکتا، بل کہ یہ سراسر بد اخلاقی اور تہذیب سے دوری کی واضح علامت ہے۔
معاشرتی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی انفرادی خوشیوں کو دوسروں کے لیے اجتماعی اذیت میں تبدیل نہ کریں۔ تیز موسیقی اور بے ہنگم شور سے جہاں بزرگوں، بیماروں اور چھوٹے بچوں کو شدید تکلیف پہنچتی ہے، وہیں یہ عمل ایک مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا بھی ثابت ہوتا ہے۔ سیاحت اور تفریح کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اخلاقی حدود کو پھلانگ جائیں اور جاہلانہ رویوں کو اپنا وطیرہ بنالیں۔ ہمیں یہ بنیادی نکتہ سمجھنا ہوگا کہ پبلک مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھنا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ہی اصل میں وہ پیمانہ ہے، جس سے کسی قوم کے شعور اور اس کی تربیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم اپنی نام نہاد آزادی کو دوسروں کی تکلیف کا سبب بناتے رہیں گے، تو معاشرے میں بگاڑ، انتشار اور بے راہ روی مزید جڑیں پکڑ لے گی۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں کے ٹولے تفریح کے نام پر سڑکوں پر نکلتے ہیں اور ٹریفک کے بہاو میں رکاوٹ بننے کے ساتھ ساتھ راہ گیروں کے لیے بھی تماشا بن جاتے ہیں۔ یہ رویہ محض وقتی جوش و خروش نہیں، بل کہ تربیت کی اس کمی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کہ گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہی ہمارے کاندھوں پر کچھ سماجی ذمے داریاں بھی عائد ہو جاتی ہیں۔ سڑک پر گاڑی کھڑی کرکے رقص کرنا یا اونچی آواز میں موسیقی کے عمل سے دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا دراصل احساسِ کم تری کی ایک شکل ہے، جسے ہم نے غلطی سے ’’خود اعتمادی‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ ایک ذمے دار شہری ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ اس کا کوئی بھی عمل معاشرے کے کسی دوسرے فرد کی پریشانی کا باعث نہ بنے۔
تعلیم کا مقصد محض ڈگریاں حاصل کرنا نہیں، بل کہ انسان کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے اور دوسروں کے حقوق میں تمیز کرسکے۔ جب ہم پبلک مقامات پر بدتمیزی اور ہلڑ بازی کو بہ طور فخر پیش کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہت غلط پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔ سیاحتی مقامات پر گندگی پھیلانا، شور مچانا اور مقامی لوگوں کی پرائیویسی کا خیال نہ رکھنا وہ منفی عوامل ہیں، جو ہمارے ملک کی سیاحت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ کوئی بھی غیر ملکی یا باشعور سیاح ایسے مقامات پر جانا پسند نہیں کرے گا، جہاں اُسے ذہنی سکون کے بہ جائے بد تمیزی اور شور و غل کا سامنا کرنا پڑے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم سیاحت کے آداب کو سمجھیں اور اُن پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم خوشی منانے کے آداب سیکھیں اور یہ جان لیں کہ تہذیب یافتہ انسان وہی ہے، جو اپنی ذات سے کسی دوسرے کو دکھ یا تکلیف نہ پہنچائے۔ یہ بد اخلاقی اور ہلڑ بازی نہ تو ہماری روایات کا حصہ ہے اور نہ اسے کسی صورت میں جائز ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ والدین اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نئی نسل کی اس نہج پر تربیت کریں کہ وہ عوامی مقامات کے تقدس کو پہچانیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سختی سے نمٹیں، جو عوامی مقامات پر امن و امان کی صورتِ حال خراب کرتے ہیں، یا دوسروں کی آزادی میں مخل ہوتے ہیں۔ آزادی کا مطلب مادر پدر آزاد ہونا نہیں، بل کہ یہ ایک ذمے داری ہے، جسے نبھانا ہم سب کا فرض ہے۔
آخر میں ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایک بہتر اور پُرامن معاشرہ تب ہی تشکیل پاسکتا ہے، جب ہم اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے بارے میں سوچنا شروع کریں گے۔ جب تک ہم اپنی خوشی کو دوسروں کی تکلیف پر ترجیح دیتے رہیں گے، ہم ایک مہذب قوم نہیں بن سکتے۔ سڑکوں پر شور مچانے، تیز موسیقی سننے اور غیر اخلاقی حرکات کرنے سے ہم اپنی شخصیت کا وہ پہلو نمایاں کرتے ہیں، جو ہمیں انسانیت کے درجے سے نیچے گرا دیتا ہے۔
آئیے، عہد کریں کہ ہم ایک ذمے دار شہری بن کر جئیں گے اور پبلک مقامات پر دوسروں کے حقوق کا ویسا ہی احترام کریں گے، جیسا ہم اپنے لیے دوسروں سے توقع رکھتے ہیں۔ یہی حقیقی خوشی ہے اور یہی اصل سیاحت کا جوہر ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










