ڈینڈیلین، گلِ قاصدی، کاسنی، یا ہن کا ساگ

Blogger Hilal Danish

ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے بے شمار پودوں میں کچھ ایسے بھی ہیں، جنھیں ہم محض ’’جنگلی گھاس‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالاں کہ وہ اپنے اندر بے پناہ غذائی اور طبی خصوصیات سموئے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک پودا ’’ڈینڈیلین‘‘ (Dandelion) ہے، جسے اُردو میں گلِ قاصدی، ککروندہ اور بعض اوقات گلِ کاسنی سے مشابہ پودا کہا جاتا ہے۔
علاقائی (پشتو) نام:۔
ہمارے علاقے (سوات) میں اسے پشتو زبان میں ’’دہ ہن سابہ‘‘ (ہن کا ساگ) بھی کہا جاتا ہے، جو اس کے بہ طور غذا استعمال ہونے کی واضح دلیل ہے۔
سائنٹفک نام اور پہچان:۔
سائنسی دنیا میں اس پودے کو "Taraxacum officinale” کے نام سے جانا جاتا ہے، جب کہ انگریزی میں اسے "Dandelion” کہا جاتا ہے۔ یہ پودا عموماً کھیتوں، باغات اور کھلی زمینوں میں خود رو اگتا ہے۔ اس کا پھول شوخ پیلے رنگ کا ہوتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ سفید روئی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور ہلکی سی ہوا کے ساتھ بکھر جاتا ہے۔ اس کے پتے لمبے اور کناروں سے آری نما کٹاو رکھتے ہیں، جو اس کی پہچان کو آسان بنا دیتے ہیں۔
جڑی بوٹی یا مکمل غذا؟
اگر اس کے استعمال کی بات کی جائے، تو یہ پودا محض ایک جڑی بوٹی ہی نہیں، بل کہ مکمل غذا ہے۔ دیہی علاقوں میں اس کے پتے بہ طور ساگ پکائے جاتے ہیں اور بعض لوگ اسے سلاد کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کا ذائقہ قدرے کڑوا ہوتا ہے، مگر یہی کڑواہٹ اس کی اصل اِفادیت کی علامت ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی اور کے (Vitamin A, C & K) وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو جسم کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ خون کی صفائی اور ہاضمے کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خاص بات:۔
ڈینڈیلین کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا ہر حصہ مفید ہے۔ اس کے پھول، پتے اور جڑ تینوں الگ الگ خصوصیات کے حامل ہیں۔
اس بوٹی کے پھول ’’اینٹی آکسیڈنٹ‘‘ (Antioxidant) خصوصیات رکھتے ہیں اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انھی پھولوں سے تیار کی جانے والی چائے کو "Dandelion Tea” کہا جاتا ہے، جو دنیا بھر میں ’’ہربل ڈرنک‘‘ کے طور پر مقبول ہے اور جسم کی صفائی، ہاضمے اور گردوں کے افعال کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔
اس طرح اس بوٹی کے پتے خون کو صاف کرتے ہیں، پیشاب آور ہیں اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں، جب کہ اس کی جڑ جگر کے لیے نہایت مفید سمجھی جاتی ہے، یہ جگر کی صفائی کرتی ہے، صفرا کی پیداوار کو بڑھاتی ہے اور قبض جیسے مسائل کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔
طبی فوائد:۔
طبی لحاظ سے دیکھا جائے، تو یہ پودا کئی بیماریوں میں مفید ثابت ہوتا ہے:
یہ خون کو صاف کرتا ہے.
لڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے.
کولیسٹرول اور شوگر لیول کو متوازن رکھتا ہے۔
اس طرح جگر کی بیماریوں میں اس کا استعمال صدیوں سے کیا جا رہا ہے اور دل کی صحت، ہڈیوں کی مضبوطی اور وزن میں کمی کے لیے بھی یہ مفید سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ سوزش کو کم کرتا ہے، قبض دور کرتا ہے اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔
اس کے علاوہ اس میں موجود ’’اینٹی آکسیڈنٹس‘‘ جسم کو اندرونی نقصان سے بچاتے ہیں۔
استعمال:۔
استعمال کے حوالے سے بھی یہ پودا نہایت آسان ہے۔ اس کے پتے اور جڑ کو بہ طور ساگ پکا کر کھایا جاتا ہے۔ تازہ پتے سلاد میں شامل کیے جاتے ہیں، جب کہ اس کے پھول اور جڑ کو خشک کرکے قہوہ یا چائے بنائی جاتی ہے، جو جگر، گردوں اور ہاضمے کے لیے نہایت مفید ہوتی ہے۔
تاریخی و طبی نکتہ:۔
یہاں ایک اہم تاریخی اور طبی نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ ’’ہیپاٹائٹس سی‘‘ (Hepatitis C) کو باقاعدہ طور پر 1990 کے قریب دریافت کیا گیا، مگر اس سے کئی دہائیاں قبل طبِ قدیم کی کتابوں میں ’’کالا یرقان‘‘ کے نام سے اس جیسی بیماری کا ذکر موجود تھا اور اس کے علاج بھی بیان کیے گئے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان علاجوں میں کاسنی اور اس سے ملتے جلتے پودوں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، جو جگر کی صفائی اور بہتری میں مدد دیتے تھے۔
ذاتی مشاہدہ:۔
اگر ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بات کی جائے، تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن افراد کا "SGPT” یا "ALT” لیول بڑھ جاتا ہے، ان میں کاسنی (یا اسی خاندان کے پودوں) کے استعمال سے یہ لیول کافی حد تک اور نسبتاً جلد معمول پر آ جاتا ہے۔ البتہ یہ بات بہ طور عمومی مشاہدہ ہے، اور ہر مریض کے لیے باقاعدہ طبی مشورہ ضروری ہوتا ہے۔
جدید سائنسی تحقیق بھی اس پودے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈینڈیلین ایک اہم غذائی و طبی پودا ہے، جس میں ’’فلیونوئیڈز‘‘، ’’فینولک ایسڈز‘‘ (جیسے Chicoric اور Caffeic Acid)، اور دیگر قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا جگر کو مضبوط کرتے ہیں، جسم سے فاضل مادوں کے اخراج میں مدد دیتے ہیں اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ’’اینٹی آکسیڈنٹ‘‘ اور ’’اینٹی انفلامیٹری‘‘ خصوصیات کا حامل ہے، جو جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ مزید برآں یہ شوگر اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہمارے خطے خصوصاً کشمیر، پونچھ اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں اس پودے کو صدیوں سے بہ طور غذا اور دوا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ روایتی علم اور جدید سائنس ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ قدرت نے انسان کے لیے شفا انھی سادہ چیزوں میں رکھی ہے، جو اس کے اردگرد موجود ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زمین سے جڑے اس قیمتی ورثے کو پہچانیں۔ ڈینڈیلین جیسے پودے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ صحت صرف مہنگی ادویہ میں نہیں، بل کہ قدرتی غذا اور سادہ طرزِ زندگی میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر ہم ان نعمتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں، تو نہ صرف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، بل کہ ایک صحت مند معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے