افغانستان کی تاریخ میں کچھ مناظر ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلے نہیں ہوتے، بل کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اور زیادہ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔
27 ستمبر 1996 عیسوی کی صبح بھی ایسا ہی ایک منظر لے کر آئی تھی۔ کابل کی ایک سڑک پر ایک سابق بہادر صدر کی لاش لٹک رہی تھی، جس کے ساتھ افغانستان کی ایک پوری سیاسی داستان بھی لٹکی ہوئی تھی۔ یہ لاش کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ کی تھی، وہ شخص جو کبھی افغانستان کا طاقت ور ترین حکم ران تھا اور جو آخرِکار افغانستان کی تاریخ کے سب سے الم ناک انجام کا شکار ہوا۔
کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ کی زندگی کو سمجھنا دراصل افغانستان کے گذشتہ پچاس برسوں کو سمجھنے کے مترادف ہے۔ وہ 1947 عیسوی میں کابل میں پیدا ہوئے۔ ایک تعلیم یافتہ پشتون خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ نوجوانی میں کابل یونیورسٹی سے طب (میڈیکل) کی تعلیم حاصل کی… لیکن ڈاکٹر بننے کے باوجود شعبۂ طب کی جگہ سیاست، وطن کی خدمت اور عوام کی حالتِ زار بدلنے کی خاطر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔
سوویت یونین کے پڑوس میں 1960 اور 1970 عیسوی کی دہائیوں سے افغانستان ایک خاموش تبدیلی کے دور سے گزر رہا تھا۔ کابل کی یونیورسٹیوں میں نظریاتی بحثیں چلتی تھیں، نوجوان جدیدیت، قوم پرستی اور سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہو رہے تھے۔ اسی ماحول میں کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ نے بائیں بازو کے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ یہ وہ وقت تھا جب افغانستان ابھی تک ایک نسبتاً پُرامن ملک تھا۔ کابل کو وسطی ایشیا کا ایک کھلا اور جدید شہر سمجھا جاتا تھا۔ یہاں سینما گھر تھے، یونیورسٹیاں آباد تھیں اور مختلف نظریات رکھنے والے لوگ ایک ہی شہر میں زندگی گزار رہے تھے… مگر یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
1978 عیسوی میں انقلابِ ثور نے افغانستان کی سیاست کا رُخ بدل دیا۔ ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی، جس نے معاشرتی اور اقتصادی اصلاحات کا اعلان کیا۔ سود کا خاتمہ، جاگیرداری نظام کا خاتمہ، زمینوں کی تقسیم، تعلیم کی توسیع اور عورتوں کے حقوق پر کام کرنے کا آغاز ہوا… لیکن یہ اصلاحات ایک ایسے معاشرے میں نافذ کی جا رہی تھیں، جو صدیوں پرانی روایات سے بندھا ہوا تھا۔ ردِعمل شدید تھا۔ نتیجتاً دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں بغاوتیں شروع ہوگئیں۔ مذہبی اور قبائلی قوتوں نے بیرونی روابط قائم کیے اور ان کی شہ پر مزاحمت کا آغاز ہوا۔ یوں افغانستان آہستہ آہستہ خانہ جنگی کی طرف بڑھنے لگا۔
1979 عیسوی میں سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوگئیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب افغانستان عالمی سیاست کے سب سے بڑے میدان میں تبدیل ہوگیا۔ ایک طرف سوویت یونین اور اس کی حمایت یافتہ حکومت تھی، جب کہ دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لیے پریشان ممالک جیسے امریکہ، پاکستان، برطانیہ اور عرب بادشاہتیں تھیں۔ ان ممالک کے حمایت یافتہ مجاہدین اس جنگ کو اسلام اور کفر کی لڑائی بنا کر پیش کر رہے تھے۔
یہ جنگ صرف میدانوں میں نہیں لڑی جا رہی تھی، بل کہ یہ نظریات کی جنگ بھی تھی۔ سرد جنگ کی اشتراکی اور سرمایہ دارانہ نظام کی عالمی سیاست نے افغانستان کو ایک ایسی آگ میں دھکیل دیا، جس کے شعلے دہائیوں تک بجھ نہ سکے۔ اُسی ہنگامہ خیز دور میں کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ طاقت کے مرکز تک پہنچے۔ وہ ایک منظم شخصیت کے حامل انسان ہونے کے ساتھ ساتھ، مضبوط ارادے اور اُصولوں کی پکی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ اُنھوں نے خفیہ ادارے کی قیادت بھی کی جہاں اُنھوں نے ریاستی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔
1986 عیسوی میں کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ کو افغانستان کا صدر بنایا گیا۔ اُس وقت ملک جنگ سے تھک چکا تھا۔ لاکھوں لوگ مہاجر بن چکے تھے، دیہات تباہ ہوچکے تھے اور ریاست مسلسل دباو میں تھی۔ اُنھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ’’قومی مفاہمت‘‘ کی پالیسی کا اعلان کیا۔ دراصل اُن کا خیال تھا کہ افغانستان کی جنگ بندوقوں سے نہیں، بل کہ سیاسی سمجھوتے سے ختم ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے مجاہدین کو مذاکرات کی دعوت دی، سیاسی جماعتوں کے لیے دروازے کھولے اور ایک نیا آئین بھی متعارف کرایا۔ یہ دراصل ایک بڑی نظریاتی تبدیلی تھی۔ ایک ایسی حکومت جو خود کو سوشلسٹ کہتی تھی، اب اسلامی اقدار اور کثیر الجماعتی سیاست کو تسلیم کر رہی تھی… لیکن افغانستان کے زخم بہت گہرے ہوچکے تھے۔ بیرونی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے ساتھ اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتی تھیں۔
1989 عیسوی میں سوویت فوجیں جینیوا معاہدے کے تحت افغانستان سے نکل گئیں۔ دنیا بھر میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ نجیب اللہ کی حکومت فوراً گر جائے گی، مگر حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہوا۔ ان کی حکومت مزید تین سال تک قائم رہی۔ کابل اب بھی ایک منظم شہر تھا، مگر دیہاتوں میں جنگ کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
1991 عیسوی میں سوویت یونین تحلیل ہوگیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب نجیب حکومت کی آخری بنیاد بھی کم زور ہوگئی۔ اقتصادی اور فوجی امداد رُک گئی۔ ریاست کا توازن بگڑنے لگا۔
1992 عیسوی میں مجاہدین کابل میں داخل ہوگئے اور حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ کامریڈ نجیب نے ملک چھوڑنے کی کوشش کی، مگر اقوامِ متحدہ کے دفتر میں محصور ہوگئے۔ چار برس تک وہ اُسی عمارت میں محدود رہے، جب کہ باہر کابل تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا۔
1996 عیسوی میں طالبان نے اقوامِ متحدہ کے دفتر سے کامریڈ نجیب کو نکالا، اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کر دیا۔ بعد میں اُن کی لاش کو کابل کے ایک چوراہے میں لٹکا دیا گیا۔ یہ ایک شخصیت کی نہیں، بل کہ افغانستان کے ایک پورے عہد کی موت تھی۔
آج جب افغانستان کی تاریخ کو دیکھا جاتا ہے، تو کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ کی شخصیت ایک پیچیدہ علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ کچھ لوگ اُنھیں آمر کہتے ہیں، کچھ اُنھیں محبِ وطن راہ نما سمجھتے ہیں… مگر اصل سوال یہ ہے کہ افغانستان کو اس انجام تک کس نے پہنچایا؟ بیرونی طاقتوں کی مداخلت، داخلی تقسیم، نظریاتی جنگیں اور اقتدار کی کش مہ کش نے اس المیے کو جنم دیا۔
کابل کے اس چوراہے پر لٹکی ہوئی لاش دراصل ایک یاد دہانی تھی کہ جنگ کبھی صرف میدان میں نہیں جیتی یا ہاری جاتی۔ اس کی قیمت پورے معاشرے کو چکانی پڑتی ہے۔ آج بھی جب افغانستان امن کی تلاش میں ہے تو کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ کی کہانی ایک سوال کی طرح سامنے کھڑی ہے: کیا یہ سرزمین کبھی اس طویل جنگ کے سایے سے نکل سکے گی؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










