وادئی سوات اپنی تاریخی اہمیت کے باعث پورے ملک میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ خاص طور پر مینگورہ شہر کو سوات کا تجارتی اور معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں روزانہ ہزاروں افراد کاروبار، خرید و فروخت اور دیگر ضروریات کے لیے آتے ہیں… لیکن بدقسمتی سے گذشتہ چند برسوں میں مینگورہ شہر میں ٹریفک کا مسئلہ اس قدر سنگین صورت اختیار کرچکا ہے کہ شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی ایک عذاب بنتی جا رہی ہے۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ مینگورہ کے ایک چوک سے دوسرے چوک تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ جو سفر چند منٹوں میں طے ہونا چاہیے، وہ طویل انتظار اور ذہنی کوفت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ٹریفک کی اس بدنظمی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں غیر قانونی رکشوں کی بھرمار، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی آمد، تجاوزات، سڑکوں پر بے ہنگم پارکنگ اور کم عمر موٹر سائیکل سوار شامل ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو ایک قانونی استثنا حاصل ہے۔ تاریخی اور انتظامی وجوہات کی بنیاد پر اس خطے کے عوام کو یہ سہولت دی گئی تھی تاکہ مقامی لوگوں کی آمد و رفت آسان ہو اور علاقائی ضروریات پوری ہوسکیں۔ اس سہولت کی اپنی اہمیت ہے اور اس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ بھی حقیقت پسندانہ نہیں… لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پرسیکڑوں کی تعداد میں نئی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی آمد جاری رہے اور اس حوالے سے کوئی نگرانی نہ ہو۔
اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو آنے والے وقت میں صورتِ حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ پہلے ہی سوات اور خصوصاً مینگورہ کی سڑکیں محدود ہیں، جب کہ گاڑیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر روزانہ کی بنیاد پر مزید گاڑیاں اور رکشے شہر میں داخل ہوتے رہے، تو وہ وقت دور نہیں جب مینگورہ میں گاڑی تو درکنار، پیدل چلنا بھی مشکل ہو جائے گا۔
رکشوں کی بے تحاشا آمد بھی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق دیگر اضلاع سے رجسٹرڈ رکشے بھی بڑی تعداد میں سوات کا رُخ کر رہے ہیں۔ اگر مختلف شہروں سے رکشوں کی یہ آمد اسی طرح جاری رہی، تو مینگورہ کی سڑکیں چند سال نہیں، بل کہ چند مہینوں ہی میں شدید دباو کا شکار ہوجائیں گی۔
مینگورہ شہر میں تجاوزات بھی ٹریفک کے مسائل کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سڑکوں کے کنارے قائم دکانوں کے باہر سامان سجایا جاتا ہے، جب کہ ہتھ ریڑھیوں پر بنی عارضی دکانیں بھی جگہ گھیر لیتی ہیں۔ اس کے علاوہاکثر دکان دار اپنی دکانوں کے سامنے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک کر دیتے ہیں، جس سے سڑکوں کی چوڑائی مزید کم ہو جاتی ہے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
موٹر سائیکلوں کی بے ہنگم اور بے ترتیب بڑھتی تعداد بھی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔ ہزاروں غیر قانونی اور بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلیں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں۔ ان میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہوتی ہے جو بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلاتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک موٹر سائیکل پر تین تین افراد سوار ہوتے ہیں اور وہ تنگ گلیوں اور مصروف سڑکوں پر انتہائی خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے، بل کہ عام شہریوں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
ان تمام مسائل کے باوجود عوام کو سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اکثر اوقات اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بلاشبہ ضلعی انتظامیہ نے وقتاً فوقتاً اقدامات کیے ہیں، مگر یہ اقدامات مستقل اور مؤثر ثابت نہیں ہوسکے۔ سیاسی دباو اور وقتی مصلحتیں اکثر قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
اسی سلسلے میں قامی تڑون جرگہ بابوزئی سوات نے بھی ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے متعدد مرتبہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں غیر قانونی گاڑیوں اور رکشوں کے خلاف ایک مؤثر آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس کارروائی سے عوام کو وقتی طور پر بہت بڑا ریلیف ملا اور شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے خراجِ تحسین پیش کیا۔ تاہم بدقسمتی سے یہ آپریشن زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ رکشہ ڈرائیوروں کے احتجاج اور ایک مقامی ایم پی اے کی مداخلت کے بعد اس کارروائی کو ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ نتیجتاً وہی پرانی صورتِ حال دوبارہ پیدا ہوگئی اور شہری ایک مرتبہ پھر شدید ٹریفک مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہوگئے۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے… اگر ملک میں قانون موجود ہے، تو پھر اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ قانون کی بالادستی اُسی وقت ممکن ہے، جب اس کا اطلاق بلا امتیاز اور بغیر کسی دباؤ کے کیا جائے۔ اگر ہر بار سیاسی مداخلت کے باعث انتظامی فیصلے تبدیل ہوتے رہیں، تو پھر مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے مل کر ایک جامع اور مستقل حکمت عملی اختیار کریں۔ غیر قانونی رکشوں اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف واضح پالیسی بنائی جائے، بیرونی اضلاع سے آنے والے رکشوں کی آمد کا عمل منظم کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور سڑکوں پر پارکنگ کے لیے باقاعدہ نظام بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھکم عمر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف بھی سخت کارروائی ضروری ہے، تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
عوام بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی، غیر قانونی گاڑیوں کے استعمال سے گریز اور ذمے دارانہ شہری رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مینگورہ شہر سوات کی پہچان ہے۔ اگر اس شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر ہوجائے، تو نہ صرف مقامی شہریوں کو سکون ملے گا، بل کہ سیاحت اور تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ اگر آج ہی سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے چند برسوں میں یہ مسئلہ ایک بڑے شہری بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ قانون کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے اور شہر کو بے ہنگم ٹریفک کے اس عذاب سے نجات دلائی جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










