فلسفہ عید اور نظام جبر

Blogger Noor Muhammad Kanju

عید الفطر کا تہوار ہماری سماجی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اس کے حقیقی فلسفے کو محض رسم و رواج کی تہوں میں دبا دیا ہے۔ عام طور پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ دن صرف ایک ماہ کی مشقت اور ضبطِ نفس کی تکمیل پر اللہ کی طرف سے ملنے والی ایک ضیافت کا نام ہے۔
بلاشبہ شکر گزاری انسانیت کا خاصہ ہے، لیکن عید الفطر کی تاریخی اور انقلابی بنیادیں اس سے کہیں زیادہ گہری اور فکر انگیز ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ تہذیبِ انسانی میں اس دن کی بنیاد ایک عظیم معرکے اور فتح سے جڑی ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں تھا، بل کہ اس کے پیچھے یہ پیغام پوشیدہ تھا کہ تزکیۂ نفس کی تربیت دراصل ایک عظیم تر جد و جہد کی تیاری ہے۔ عید الفطر اس فتح کی خوشی کا عنوان ہے، جو حق نے باطل کے خلاف، مظلوم نے ظالم کے خلاف اور عدل و انصاف نے استحصالی نظام کے خلاف حاصل کی تھی۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی اصل خوشی صرف مادی آسایش یا نیا لباس زیبِ تن کرنے میں نہیں، بل کہ اس نظامِ جبر کو پاش پاش کرنے میں ہے، جو انسان کو انسان کا غلام بناتا ہے۔
تاریخ کا وہ عظیم معرکہ جس کی فتح کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے، محض دو گروہوں کا ٹکراو نہیں تھا، بل کہ یہ دو متضاد نظاموں کا آمنا سامنا تھا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے، جو دولت اور طاقت کے نشے میں چور انسانی حقوق کو پامال کر رہے تھے، اور دوسری طرف وہ گروہ تھا جو انسانی وقار اور معاشی و سماجی برابری کا علم بردار تھا۔ آج کے دور میں جب ہم اپنے گرد و پیش پر نظر دوڑاتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ استحصالی نظام نے صرف اپنی شکلیں بدلی ہیں، اس کی روح آج بھی وہی قدیم اور جاہلانہ ہے۔ دنیا کے وسائل پر چند غاصب قوتیں قابض ہوچکی ہیں اور اپنے مفادات کی خاطر کم زوروں پر جنگیں مسلط کرنا ان کا وتیرہ بن چکا ہے۔ معاشی پابندیوں سے لے کر مسلح جارحیت تک، ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس سے انسانیت کی تذلیل ہو اور وسائل کی لوٹ مار جاری رہے۔ ایسے مخدوش حالات میں عید کا وہ روایتی تصور جو صرف انفرادی خوشی تک محدود ہو، اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک دنیا کے کسی بھی کونے میں معصوم انسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے اور جب تک کسی بھی قوم کی آزادی سلب ہے، تب تک حقیقی عید کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
آج کے نوجوان کی شعوری تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ عید کا دن دراصل ایک عہد کی تجدید کا دن ہے، ایک ایسی جد و جہد کے آغاز کا دن ہے، جس کا مقصد انسانیت کو غاصبانہ نظاموں سے نجات دلانا ہے۔ نوجوانوں کو یہ ادراک دلانا ضروری ہے کہ وہ صرف تماشائی نہیں، بل کہ اس بدلتی ہوئی دنیا کے اہم کردار ہیں۔ انھیں یہ سمجھنا ہوگا کہ علم اور ہنر کا اصل مقصد صرف ذاتی مفادات کا حصول نہیں، بل کہ اس نظام کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہے، جو کم زوروں کو کچلتا ہے۔ جب تک ہمارا نوجوان علمی اور شعوری طور پر اتنا توانا نہیں ہوگا کہ وہ عالمی استعمار کی چالوں کو سمجھ سکے، تب تک ہم غلامی کی ان زنجیروں کو نہیں توڑ سکیں گے جو انسانیت کو جکڑے ہوئے ہیں۔ حقیقی آزادی کا راستہ اسی شعوری بیداری سے ہو کر گزرتا ہے جو ہمیں تاریخ کے بڑے معرکوں سے ملی تھی۔
حقیقی عید اس دن ہوگی جب دنیا کا کوئی بھی انسان بھوکا نہیں سوئے گا، جب کسی کم زور گروہ کی سرحدیں محض لوٹ مار کے لیے پامال نہیں کی جائیں گی اور جب دنیا کے وسائل پر تمام انسانوں کا مساوی حق تسلیم کر لیا جائے گا۔ بلا امتیازِ رنگ و نسل اور مذہب، مظلوم اور محکوم کی آزادی ہی وہ اصل منزل ہے، جس کی طرف یہ فلسفہ ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔ ہمیں اس سطحی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا کہ عید صرف ایک تیوہار ہے؛ یہ دراصل ایک انسانی انقلاب کی پکار ہے، جو ہر دور کے غاصبوں کے خلاف بلند ہوتی رہے گی۔ ہمیں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ ہماری خوشی اُس وقت تک ادھوری ہے، جب تک دنیا کے کسی بھی خطے میں انسانیت سسک رہی ہے اور اسے جینے کا حق نہیں مل رہا۔
اس دن (عید) کا اصل سبق یہ ہے کہ حق کی قوت تعداد پر نہیں، بل کہ مقصد کی سچائی پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر ہم آج بھی اسی جذبے کو بیدار کرلیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم عصرِ حاضر کے استحصالی بتوں کو پاش پاش نہ کرسکیں۔
جب تک ہم اس دن کو غاصبانہ نظام کے خلاف احتجاج اور ایک برابری کی سطح پر مبنی معاشرے کے قیام کے طور پر نہیں منائیں گے، ہم اپنی حقیقی شناخت بہ حال نہیں کر پائیں گے۔ حقیقی عید کا سورج اُسی دن پوری آب و تاب سے طلوع ہوگا، جب انسانیت لوٹ مار کے اندھیروں سے نکل کر عدل و انصاف کی روشنی میں سانس لے گی۔ آئیے، اس موقع پر یہ عزم کریں کہ ہم اپنے عمل اور اپنی فکر سے اس عالمی جد و جہد کا حصہ بنیں گے، جس کا مقصد ہر مظلوم کی دادرسی اور انسانیت کی مجموعی فلاح ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے