پاکستان میں تحقیق اور علمی مہارت کی کمی نہیں، مگر بدقسمتی سے پالیسی سازی میں اس علمی سرمایہ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں ملک میں جامعات، تھنک ٹینکس اور تحقیقی مراکز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر قائم یہ ادارے باقاعدگی سے ایسے موضوعات پر تحقیق پیش کرتے ہیں، جو بہ راہِ راست عوامی زندگی سے متعلق ہیں، جیسے ترقیاتی منصوبہ بندی، حکم رانی میں اصلاحات، تعلیم، صحتِ عامہ، ماحولیاتی خطرات اور سماجی تحفظ۔
اُصولی طور پر دیکھا جائے تو تحقیق کے اس بڑھتے ہوئے ذخیرے کو پالیسی سازی سے مضبوط بنانا چاہیے۔ کیوں کہ تحقیق، فیصلہ سازوں کو قابلِ اعتماد شواہد، مقامی حالات سے ہم آہنگ تجزیہ اور آزمودہ پالیسی متبادلات فراہم کرتی ہے… مگر عملی طور پر یہ علمی سرمایہ اکثر فیصلہ سازی کے عمل سے کٹا ہوا رہتا ہے۔ بہت سی پالیسیوں کی تشکیل بیوروکریٹک روایات، سیاسی مصلحتوں اور بین الاقوامی ڈونرز کی ترجیحات کے زیرِ اثر ہوتی ہے، جب کہ مقامی تحقیق سے حاصل ہونے والے شواہد کو منظم انداز میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً قیمتی تحقیق اکثر علمی حلقوں تک محدود رہتی ہے اور حقیقی پالیسی فیصلوں پر اس کا اثر کم ہی پڑتا ہے۔
یہ خلا صرف نظری یا علمی مسئلہ نہیں، بل کہ اس کے گہرے عملی اثرات ہیں۔ پاکستان کو اس وقت کئی پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے مسائل کا سامنا ہے، جن میں مالیاتی دباو، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، علاقائی عدم مساوات، کم زور طرزِ حکم رانی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات شامل ہیں۔ سیلاب اور شدید گرمی کی لہریں اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ایسے حالات میں پالیسی کی غلطیاں صرف تکنیکی نوعیت کی نہیں ہوتیں، بل کہ ان کے نتیجے میں عوامی وسائل کا ضیاع، غیر موثر پروگرام اور کم زور عوامی خدمات سامنے آتی ہیں، جن کا سب سے زیادہ بوجھ معاشرے کے کم زور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے تحقیق اور پالیسی کے درمیان فاصلے کو محض علمی مسئلہ نہیں، بل کہ حکم رانی کے ایک سنجیدہ چیلنج کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
اہم بات یہ ہے کہ مسئلہ علمی صلاحیت کا نہیں، بل کہ ادارہ جاتی ڈھانچے کا ہے۔ پاکستان کی جامعات اور پالیسی ادارے بڑی مقدار میں معیاری تحقیق پیدا کر رہے ہیں، مگر اکثر تحقیقی مطالعات، علمی قارئین کے لیے لکھے جاتے ہیں، جن میں تکنیکی زبان اور طویل اندازِ تحریر استعمال ہوتا ہے۔ مصروف پالیسی سازوں کے لیے ایسے مواد سے فوری استفادہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ تحقیق کی تیاری میں عموماً وقت لگتا ہے، جب کہ حکومتی فیصلوں کے لیے اکثر فوری اور قابلِ عمل معلومات درکار ہوتی ہیں۔
دوسری جانب حکومتی ادارے بھی اپنے ڈھانچے کی بعض کم زوریوں کے باعث تحقیق سے مؤثر فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ بیش تر وزارتوں اور محکموں میں ایسا کوئی منظم نظام موجود نہیں، جو تحقیق کو کمیشن کرے، شواہد کو یک جا کرے یا پالیسی سازی میں انھیں باقاعدہ شامل کرے۔ سول سروس میں بار بار تبادلوں کی وجہ سے ادارہ جاتی یادداشت کم زور پڑجاتی ہے، جب کہ مختصر سیاسی ادوار اکثر طویل المدتی منصوبہ بندی کے بہ جائے فوری نتائج حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تحقیق اور پالیسی سازی دو الگ راستوں پر چلتی رہتی ہیں اور ان کا باہمی تعلق شاذ و نادر ہی قائم ہو پاتا ہے۔
اس خلا کے اثرات مختلف شعبوں میں واضح نظر آتے ہیں۔ بہت سے عوامی پروگرام مضبوط بنیادی اعداد و شمار، جامع ضروریات کے جائزے یا سابقہ منصوبوں کی منظم جانچ کے بغیر شروع کر دیے جاتے ہیں۔ جب قابلِ اعتماد شواہد دست یاب نہ ہوں، تو پالیسی سازوں کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سے مسائل سب سے زیادہ فوری ہیں، کون سی آبادی سب سے زیادہ متاثر ہے اور کون سی مداخلتیں واقعی مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔
وسائل کی کمی والے ماحول میں اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فنڈز اکثر ایسے منصوبوں کی طرف چلے جاتے ہیں، جو سیاسی طور پر زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، جیسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، جب کہ ایسے اقدامات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو سماجی سطح پر زیادہ مُثبت اور قابلِ پیمایش اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قیادت کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیوں کو بار بار تبدیل، نیا نام دے کر دوبارہ پیش یا مکمل طور پر ترک کر دیا جاتا ہے… اکثر اس کے بغیر کہ ماضی کے تجربات سے کوئی سبق حاصل کیا جائے۔ وقت کے ساتھ یہ عمل وسائل کے ضیاع، ادارہ جاتی ساکھ کی کم زوری اور علاقائی، صنفی اور معاشی عدم مساوات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
اس صورتِ حال میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی ایک مؤثر راستہ فراہم کرسکتی ہے۔ جب پالیسیوں کی بنیاد قابلِ اعتماد تحقیق اور درست اعداد و شمار پر رکھی جاتی ہے، تو حکومتیں زیادہ بہتر انداز میں ترجیحات کا تعین کرسکتی ہیں، وسائل کو مؤثر طور پر تقسیم کرسکتی ہیں اور ایسے پروگرام تشکیل دے سکتی ہیں، جو دیرپا نتائج پیدا کریں۔ شواہد کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے پالیسی سازوں کو ماضی کے تجربات سے سیکھنے، غلطیوں کو دہرانے سے بچنے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق پالیسیوں کو ڈھالنے میں مدد دیتے ہیں۔
مزید برآں، شواہد پر مبنی فیصلہ سازی عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ جب پالیسیوں میں شفافیت ہو اور وہ اعداد و شمار اور تحقیق پر مبنی ہوں، تو شہری انھیں زیادہ منصفانہ اور قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ محققین اور پالیسی سازوں کے درمیان مضبوط تعاون حکومتوں کو زیادہ لچک دار اور حالات کے مطابق ردِعمل دینے کے قابل بھی بناتا ہے، خصوصاً ایسے چیلنجز کے مقابلے میں جیسے موسمیاتی تبدیلی، معاشی غیر یقینی صورتِ حال اور آبادیاتی تبدیلیاں۔
تحقیق اور پالیسی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے لیے لازمی نہیں کہ بڑے اور پیچیدہ اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں۔ چھوٹے مگر عملی اقدامات بھی اہم فرق پیدا کرسکتے ہیں۔ جامعات، تھنک ٹینکس اور سرکاری محکموں کے درمیان باقاعدہ مکالمہ، تحقیق کے موضوعات کو حکومتی ترجیحات سے ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ اسی طرح محققین اپنی تفصیلی تحقیق کو مختصر پالیسی بریفز اور جامع خلاصوں کی شکل میں پیش کریں، تو فیصلہ سازوں کے لیے انھیں سمجھنا اور استعمال کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
جامعات اپنی ترغیبی پالیسیوں میں بھی تبدیلی لاسکتی ہیں، تاکہ علمی جرائد میں اشاعت کے ساتھ ساتھ عملی تحقیق اور پالیسی سازی میں شمولیت کو بھی اہمیت دی جائے۔ سرکاری اداروں اور محققین کے درمیان بہتر ڈیٹا شیئرنگ مشترکہ تجزیے اور زیادہ مؤثر پالیسی بصیرت کو ممکن بناسکتی ہے۔ اسی طرح وزارتوں کے اندر چھوٹے پیمانے پر شواہد یا پالیسی تجزیہ یونٹس قائم کیے جائیں، تو تحقیق کے استعمال کو روزمرہ حکومتی فیصلوں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
پاکستان کی جامعات، تحقیقی اداروں اور پالیسی تنظیموں میں پہلے ہی قابلِ قدر علمی صلاحیت موجود ہے۔ اصل ضرورت اس صلاحیت کو پالیسی سازی کے عمل سے مؤثر طور پر جوڑنے کی ہے۔ اگر یہ رابطہ مضبوط ہوجائے تو تحقیق محض علمی سرگرمی نہیں رہے گی، بل کہ عملی حل میں تبدیل ہوکر بہتر حکم رانی، مؤثر عوامی خدمات اور شہریوں کے لیے زیادہ منصفانہ پالیسیوں کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بالآخر جب تحقیق فیصلوں کی بنیاد بنے، تو علم صرف تعلیمی مشق نہیں رہتا، بل کہ قومی ترقی میں بہ راہِ راست حصہ ڈالنے والا ایک قیمتی عوامی وسیلہ بن جاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










