امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے چند ہی دنوں میں ایران کے دفاعی نظام کو تباہ کر دیا جائے گا اور وہاں اسرائیلی و امریکی حامی، اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔
ٹرمپ کا یہ بھی گمان تھا کہ ایران میں موجود حکومت کے مخالفین سڑکوں پر نکل آئیں گے اور وہی کچھ ہوگا، جو امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں… لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا اور صورتِ حال جوں کی توں برقرار رہی۔
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایران میں رجیم چینج کی کوئی بڑی تحریک اُٹھ نہ سکی۔ امریکہ کی 18 خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق، چاہے جتنی بھی بمباری کرلی جائے یا جدید اسلحہ استعمال کیا جائے، ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن نظر نہیں آ رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے ایک ایسا جوا کھیلا ہے، جس میں اُن کی شکست کے آثار نمایاں ہیں۔
بعض ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دراصل جیفری ایبسٹین فائلز سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ اداروں کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں، جن کے باعث ٹرمپ دباو کا شکار ہیں۔ اسی دباو کے تحت اسرائیلی وزیرِ اعظم کے کہنے پر ایران پر حملہ کیا گیا، تاکہ ممکنہ اسکینڈلز سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ تاہم، جب ایران میں رجیم چینج نہ ہوسکا، تو ٹرمپ نے مذہبی کارڈ کھیلنا شروع کر دیا۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ٹرمپ امریکہ کے پہلے صدر نہیں، جو اسرائیل کی حمایت کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہیں۔ امریکہ کئی برسوں سے ایک ایسی جنگ کی تیاری کر رہا ہے، جسے ’’آرمگیڈون‘‘ (Armageddon) یا ’’ہرمجدون‘‘ کہا جاتا ہے۔ مسیحی عقیدے کے مطابق، یہ ایک مقدس جنگ ہوگی، جس کی قیادت خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔
اس نظریے کے مطابق، اس جنگ میں اربوں افراد ہلاک ہوں گے اور یہ جنگ خیر و شر کے درمیان فلسطین کے علاقے میں لڑی جائے گی۔ بعض مسیحی مبلغین مسلمانوں کو بھی اس تناظر میں دیکھتے ہیں، جو ایک تشویش ناک امر ہے۔
دوسری جانب یہودیوں میں بھی اس حوالے سے مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ کچھ یہودی، اسرائیل کی موجودہ ریاست کو تسلیم نہیں کرتے، جب کہ دیگر اسے ایک الوہی منصوبے کا حصہ سمجھتے ہیں۔
کچھ نظریات کے مطابق، 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر اور ریاست کی حدود کو دریائے نیل سے فرات تک پھیلانے کا تصور موجود ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک شامل کیے جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ہرمجدون کے میدان میں ماضی میں بھی متعدد جنگیں لڑی جاچکی ہیں اور اسے ایک اہم اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے۔ لفظ ’’ہرمجدون‘‘ عبرانی زبان کے دو الفاظ ’’ہر‘‘ (پہاڑ) اور ’’مجدّو‘‘ (ایک مقام) سے مل کر بنا ہے، جو فلسطین میں واقع ہے۔
اسی تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ہرمجدون قرار دے کر دنیا، خصوصاً مذہبی حلقوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، ممکنہ ناکامی کے خدشے کے پیشِ نظر وائٹ ہاؤس میں مذہبی راہ نماؤں کے ساتھ اجتماعی دعا کا بھی اہتمام کیا گیا، جس کی تصاویر عالمی میڈیا پر نشر ہوئیں۔ تاہم، یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ جنگی نتائج ہمیشہ پیش گوئیوں کے مطابق نہیں ہوتے۔ 1990ء کی خلیجی جنگ کے دوران میں بھی ’’ہرمجدون‘‘ کا بیانیہ سامنے آیا تھا، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہ ہوسکا۔
ایک طرف امریکہ میں مذہبی بنیاد پرستی کو کسی حد تک تقویت دی جاتی ہے، جب کہ دوسری طرف مسلم دنیا میں اسی بنیاد پرستی کو سختی سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلم ممالک کا باہمی اختلاف اور تقسیم اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، جو مستقبل میں مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










