’’مَیں بوٹ اس لیے نہیں پہنتا، کیوں کہ میرا پشتون دست کار اسے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ (باچا خان)
پشتون معاشرت میں خودداری اور مقامی ثقافت سے وابستگی محض ایک طرزِ زندگی نہیں، بل کہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کی جڑیں غیرت اور معاشی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔ بزرگوں کے اقوال محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، بل کہ ان میں صدیوں کی حکمت اور اپنے خطے سے محبت کا نچوڑ چھپا ہوتا ہے۔ باچا خان بابا کا یہ فرمان کہ وہ غیر ملکی یا غیر مقامی بوٹ اس لیے نہیں پہنتے، کیوں کہ اُن کا اپنا پشتون کاریگر اسے نہیں بناسکتا، دراصل ایک بہت بڑے معاشی انقلاب اور ثقافتی تحفظ کا پیغام ہے۔ یہ جملہ بہ ظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی تہوں کو کریدا جائے، تو اس میں وطن پرستی اور اپنے لوگوں کے لیے تڑپ کا ایک سمندر موج زن نظر آتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں جب ہم کسی غیر ملکی برانڈ یا مصنوعات کی طرف راغب ہوتے ہیں، تو ہم لاشعوری طور پر اپنے ان ہنرمندوں کا گلا گھونٹ رہے ہوتے ہیں، جو نسل در نسل ایک فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ باچا خان بابا کی چپل محض ایک پہناوا نہیں، بل کہ اس کاریگر کے پسینے کی خوش بو ہے، جو تپتی دھوپ میں بیٹھ کر چمڑے کو شکل دیتا ہے، تاکہ اس کے بچوں کا چولھا جل سکے۔
پشتون ولی کے ضابطوں میں اپنے بھائی کی دست گیری اور اس کے ہنر کی قدر کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ جب ایک شخص اپنے مقامی کاریگر کی تیار کردہ چپل پہنتا ہے، تو وہ صرف جوتا نہیں خرید رہا ہوتا، بل کہ وہ اس ہنر کو مرنے سے بچا رہا ہوتا ہے، جو شاید مشینوں کے اس دور میں دم توڑ رہا ہو۔ سادگی اور قناعت کا یہ عالم کہ آرام دہ اور پُرتعیش بوٹوں کے مقابلے میں اس کھردری چپل کو ترجیح دی جائے، جو اپنی مٹی کے بیٹے نے بنائی ہو۔ یہی وہ اصل جذبہ ہے، جو قوموں کو معاشی طور پر مستحکم کرتا ہے۔ آج کے دور میں جب عالم گیریت کے نام پر ہماری مقامی صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں، باچا خان بابا جیسے بزرگوں کی یہ سوچ ایک مشعلِ راہ ہے۔ ہم اکثر بڑی بڑی معاشی پالیسیوں اور درآمدات و برآمدات کے گورکھ دھندوں میں الجھ جاتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل معیشت تو اس گلی کوچے کے موچی، جولاہے اور کمہار سے شروع ہوتی ہے، جو اپنی محنت سے اس دھرتی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے ہنر اور اپنے کاریگروں کی پشت پناہی کی، وہی دنیا میں اپنا لوہا منوانے میں کام یاب ہوئیں۔ جاپان اور جرمنی جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنھوں نے تباہی کے بعد صرف اس لیے ترقی کی کہ ان کے عوام نے اپنی مصنوعات کو سینے سے لگایا۔
باچا خان بابا کا یہ فلسفہ کہ ’’میری چپل میرے مقامی کاریگر کا ذریعۂ معاش ہے‘‘، ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ خیرات اور صدقے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں کے ہنر کی قیمت ادا کریں۔ جب ہم اپنے مقامی بازاروں سے خریداری کرتے ہیں، تو وہ پیسا اسی معاشرے میں گردش کرتا ہے اور خوش حالی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہم غیر ملکی اشیا کے پیچھے بھاگتے ہیں، تو ہم اپنا سرمایہ باہر بھیج کر اپنے ہی لوگوں کو بے روزگاری کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔
پشتون ثقافت میں دست کاری کا ایک خاص مقام ہے۔ چمڑے کا کام ہو، مٹی کے برتن ہوں یا کھڈی پر تیار کردہ کپڑا… یہ سب ہماری پہچان ہیں۔ اگر آج ہم ان چیزوں کو حقارت کی نظر سے دیکھیں گے، یا انھیں قدیم کَہ کر مسترد کر دیں گے، تو کل ہماری آنے والی نسلیں اپنی پہچان کھو بیٹھیں گی۔ باچا خان بابا کی یہ دور اندیشی قابلِ ستایش ہے کہ انھوں نے جوتے جیسے معمولی انتخاب کو بھی ایک قومی فریضہ بنا دیا۔ ان کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ حب الوطنی صرف نعروں کا نام نہیں، بل کہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں چھپی ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جب ہم کوئی چیز خریدتے ہیں، تو اس کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ کیا وہ فائدہ کسی دور دراز بیٹھے سرمایہ دار کو ہو رہا ہے، یا اس غریب کاریگر کو جو ہمارے پڑوس میں رہتا ہے؟
اجتماعی طور پر ہمیں اس شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنی چیزوں پر فخر کرنا سیکھیں۔ جب تک ہم خود اپنے ہنر کو عزت نہیں دیں گے، دنیا ہماری قدر نہیں کرے گی۔ باچا خان بابا کا وہ پرانا جوتا یا وہ سادہ سی چپل اس بات کی علامت ہے کہ ہمیں کسی بیرونی بیساکھی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس ہنر مند ہاتھ بھی ہیں اور وسیع دماغ بھی…! ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم ان کے کام کو سراہیں، تاکہ ہمارا معاشرہ خود کفالت کی منزل پاسکے۔ سادگی میں جو حسن اور اپنے بھائی کی مدد میں جو سکون ہے، وہ کسی مہنگے بوٹ یا پُرتعیش طرزِ زندگی میں نہیں مل سکتا۔ ہمیں اپنی جڑوں کی طرف لوٹنا ہوگا اور اپنے مقامی ہنر کو وہ مقام دینا ہوگا جس کا وہ حق دار ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










