مسلم دنیا، شخصی حکومتیں اور سیاسی بے بسی

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

مسلم دنیا کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جن ممالک میں شخصی یا خاندانی آمریت قائم ہو جاتی ہے، وہاں قومی خودمختاری کا تصور کم زور پڑ جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں عنانِ اقتدار چند افراد یا ایک خاندان کے ہاتھ میں آجاتی ہے اور ریاستی پالیسیوں کا اصل مقصد عوامی مفاد کے بہ جائے اقتدار کے تسلسل کو یقینی بنانا بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے حکم ران اکثر بیرونی طاقتوں کی وفاداری سے باہر نکلنے کا حوصلہ نہیں کر پاتے۔
سیاسیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جس اقتدار کی بنیاد عوامی تائید پر نہ ہو، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی بیرونی سہارا تلاش کرتا ہے۔ مسلم دنیا کے کئی ممالک میں یہی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ حکم ران طبقات کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں کی حمایت ختم ہوگئی، تو ان کا اقتدار بھی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گا۔ چناں چہ وہ اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی ترجیحات کو اس انداز میں ترتیب دیتے ہیں کہ طاقت ور عالمی حلقوں کی خوش نودی برقرار رہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ایسے نظاموں میں ریاستی ادارے بہ تدریج کم زور ہو جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور آزاد میڈیا جیسے ادارے اگر طاقت ور نہ ہوں، تو حکم رانی کا پورا ڈھانچا ایک محدود حلقے کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ نتیجتاً قومی فیصلے عوامی خواہشات یا طویل مدتی قومی مفاد کے بہ جائے حکم رانوں کے فوری سیاسی مفادات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں قومی خودمختاری بھی متاثر ہوتی ہے اور ریاستی وقار بھی۔
مسلم دنیا کے کئی خطوں میں عوام کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے حکم ران عالمی طاقتوں کے ساتھ ایسے تعلقات رکھتے ہیں، جو بسا اوقات قومی مفاد سے متصادم نظر آتے ہیں۔ یہی احساس وقت کے ساتھ سیاسی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ جب عوام اور حکم رانوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کم زور ہو جائے، تو معاشرہ اندرونی تقسیم کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہی تقسیم بیرونی دباو کو مزید مؤثر بنا دیتی ہے۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت اس کے عوام اور مضبوط اداروں میں ہوتی ہے۔ جب حکم رانی کا نظام شفافیت، جواب دہی اور قانون کی بالادستی پر قائم ہو، تو ریاست زیادہ خود مختار فیصلے کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ ایسے معاشروں میں حکم ران بیرونی طاقتوں کے دباو کو نسبتاً زیادہ اعتماد کے ساتھ برداشت کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے عوامی حمایت موجود ہے۔
اس کے برعکس شخصی یا خاندانی اقتدار میں سب سے بڑا خوف اقتدار کے خاتمے کا ہوتا ہے۔ یہی خوف حکم رانوں کو محتاط بل کہ بعض اوقات حد سے زیادہ محتاج بنا دیتا ہے۔ وہ داخلی اصلاحات سے بھی گریز کرتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں سیاسی آزادی یا عوامی شرکت ان کے اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ یوں ایک ایسا دائرہ قائم ہو جاتا ہے، جس میں حقیقی جمہوریت جنم لیتی ہے اور نہ مکمل خودمختاری۔
مسلم دنیا کے مستقبل کا سوال بھی اسی نکتے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ان معاشروں میں مضبوط ادارے، آزاد میڈیا اور فعال عوامی نمایندگی کو فروغ ملے، تو ریاستی پالیسی زیادہ متوازن اور خودمختار ہوسکتی ہے۔ اس کے بغیر ہر بحران میں حکم ران طبقہ بیرونی سہاروں کی تلاش میں رہے گا اور قومی مفاد پس منظر میں چلا جائے گا۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی بھی قوم کی عزت اور خودمختاری مضبوط ریاستی ڈھانچے، باخبر عوام اور جواب دہ حکم رانی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک مسلم دنیا کے کئی ممالک میں اقتدار کا ڈھانچا محدود ہاتھوں میں مرتکز رہے گا، تب تک حقیقی آزادیِ فیصلہ اور مکمل خود مختاری ایک مشکل ہدف ہی رہے گی۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم معاشرے اپنی سیاسی ساخت کو زیادہ شفاف، جواب دہ اور عوامی شرکت پر مبنی بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انھیں بیرونی دباو سے نسبتاً آزاد اور اپنے فیصلوں میں زیادہ خودمختار بناسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے