ایران، نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

Blogger Lawangin Yousafzai

 ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کی امریکی-اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھیں گے، جنھوں نے کئی دہائیوں تک ایران کی سیاست کی سمت متعین کی۔
اپنے والد کے برعکس مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے تک عوامی منظرنامے سے دور رہے ہیں۔ انھوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، عوامی تقاریر یا انٹرویوز نہیں دیے… اور ان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بہت کم منظرِعام پر آئی ہیں۔ تاہم اس خاموش اور کم نمایاں کردار کے باوجود طویل عرصے سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ ایران کے سیاسی نظام میں پسِ پردہ خاصا اثر ورسوخ رکھتے تھے۔
سن 2000 عیسوی کی دہائی کے آخر میں وکی لیکس کے ذریعے منظرِ عام پر آنے والی امریکی سفارتی کیبلز میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مذہبی قیادت کے پسِ پردہ ایک بااثر اور طاقت ور شخصیت قرار دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان دستاویزات میں انھیں ملک کے حکومتی ڈھانچے میں ایک باصلاحیت، مؤثر اور مضبوط کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم ان کا سپریم لیڈر منتخب ہونا متنازع بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران 1979 عیسوی کے انقلاب کے بعد قائم ہوا تھا، جب بادشاہت کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔ اس نظام کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ سپریم لیڈر کا انتخاب اس کی مذہبی حیثیت اور قیادت کی صلاحیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ خاندانی وراثت کی بنیاد پر۔ اسی وجہ سے باپ سے بیٹے کو اقتدار کی منتقلی پر ناقدین کو خدشہ ہے کہ نظام کہیں موروثی حکم رانی کی شکل اختیار نہ کرلے۔
اپنے دورِ اقتدار میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ کے مستقبل کے قائد کے بارے میں عمومی نوعیت کی باتیں ہی کی تھیں۔ دو سال قبل ایران کی مجلس خبرگان کے ایک رکن، جو سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتی ہے، نے کہا تھا کہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو اس عہدے کا امیدوار بنانے کے حق میں نہیں تھے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے عوامی سطح پر کبھی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 عیسوی کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ علی خامنہ ای کی چھے اولادوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انھوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے معروف مذہبی ادارے علوی اسکول سے حاصل کی۔ 17 برس کی عمر میں مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران-عراق جنگ کے دوران میں مختلف ادوار میں فوجی خدمات انجام دیں۔ آٹھ سال جاری رہنے والی اس خوں ریز جنگ نے ایران کے حکم ران نظام کی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور امریکہ اور مغربی ممالک کے بارے میں اس کی بداعتمادی کو مزید بڑھا دیا۔ کیوں کہ اس جنگ میں مغربی ممالک نے عراق کی حمایت کی تھی۔
سنہ 1999 عیسوی میں مجتبیٰ خامنہ ای نے شیعہ مذہبی تعلیم کے اہم مرکز ’’قم‘‘ کا رُخ کیا، تاکہ اپنی دینی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انھوں نے اسی عرصے میں پہلی بار باقاعدہ طور پر علما کا لباس اختیار کیا۔ مبصرین کے مطابق 30 سال کی عمر میں حوزۂ علمیہ میں داخلہ لینا غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ عموماً مذہبی تعلیم کا آغاز اس سے کہیں پہلے کیا جاتا ہے۔
فی الوقت مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانی درجے کے عالمِ دین سمجھے جاتے ہیں، جو بعض مبصرین کے مطابق ان کی بہ طور سپریم لیڈر قبولیت کے لیے ایک رکاوٹ بن سکتا ہے۔ تاہم ان کے انتخاب سے قبل ایران کے بعض میڈیا اداروں اور طاقت کے مراکز سے وابستہ شخصیات نے انھیں ’’آیت اللہ‘‘ کے لقب سے پکارنا شروع کر دیا تھا۔ کئی مبصرین کے نزدیک اس تبدیلی کا مقصد ان کی مذہبی حیثیت کو بلند دکھانا اور انھیں قیادت کے لیے موزوں امیدوار کے طور پر پیش کرنا تھا۔
ایران کے حوزوی نظام میں آیت اللہ کا درجہ حاصل کرنا اور اعلا درجے کی مذہبی تدریس کرنا کسی عالم کی علمی قابلیت اور مذہبی مقام کی علامت سمجھا جاتا ہے… اور یہی خصوصیات سپریم لیڈر کے لیے اہم شرائط میں شمار ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک مثال خود ان کے والد کی بھی موجود ہے۔ 1989 عیسوی میں جب علی خامنہ ای ایران کے دوسرے سپریم لیڈر بنے، تو اُس وقت انھیں بھی جلد ہی آیت اللہ کے درجے پر فائز کر دیا گیا تھا۔ حالاں کہ اس سے پہلے وہ بھی ایک درمیانی درجے کے عالم سمجھے جاتے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا نام پہلی مرتبہ 2005 عیسوی کے صدارتی انتخابات کے دوران میں نمایاں طور پر سامنے آیا، جب سخت گیرعوامی راہ نما محمود احمدی نژاد نے کام یابی حاصل کی۔ اصلاح پسند امیدوار مہدی کروبی نے اس وقت علی خامنہ ای کے نام ایک کھلا خط لکھ کر الزام لگایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے پاس دارانِ انقلاب گارڈ اور بسیج ملیشیا کے بعض عناصر کے ذریعے انتخابات میں مداخلت کی۔ اُن کے مطابق مذہبی گروہوں میں رقم تقسیم کرکے احمدی نژاد کی کام یابی کو یقینی بنایا گیا۔
اسی نوعیت کے الزامات 2009 عیسوی کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد دوبارہ سامنے آئے۔ احمدی نژاد کی دوبارہ کام یابی کے اعلان کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگئے، جنھیں بعد ازاں ’’گرین موومنٹ‘‘ کے نام سے جانا گیا۔ ان مظاہروں کے دوران میں بعض مظاہرین نے مجتبیٰ خامنہ ای کے ممکنہ طور پر اپنے والد کے جانشین بننے کے خلاف بھی نعرے لگائے۔
اُس وقت کے نائب وزیرِ داخلہ مصطفیٰ تاج زادہ نے انتخابی نتائج کو ’’انتخابی بغاوت‘‘ قرار دیا تھا۔ بعد میں انھیں سات سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سزا مجتبیٰ خامنہ ای کی خواہش پر دی گئی۔ اسی دوران میں اصلاح پسند راہ نماؤں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کو 2009 عیسوی کے انتخابات کے بعد نظر بند کر دیا گیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق فروری 2012 عیسوی میں مجتبیٰ خامنہ ای نے موسوی سے ملاقات کرکے انھیں احتجاجی تحریک ختم کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
اب ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں اپنے والد، والدہ اور اہلیہ کی ہلاکت کے بعد ان کا مؤقف مغربی ممالک کے خلاف مزید سخت ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھیں ایک ایسے ملک کی قیادت سنبھالنے کا چیلنج درپیش ہے، جو سیاسی کشیدگی، معاشی مشکلات اور بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کی قیادت کا عملی تجربہ محدود ہے اور بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر اقتدار موروثی انداز میں منتقل ہوتا رہا، تو اس سے عوامی بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار سنبھالتے ہی خطے کی کشیدہ صورتِ حال بھی نمایاں ہوگئی ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ علی خامنہ ای کے بعد جو بھی ایران کا سپریم لیڈر بنے گا، وہ ’’واضح طور پر نشانہ بنائے جانے والا ہدف‘‘ ہوگا، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ایران کے نئے راہ نما کو ایک نہایت حساس اور خطرناک عالمی ماحول میں ذمے داری سنبھالنی پڑی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے