پاکستان میں سوشلزم کی جد و جہد کی تاریخ محض عام سیاسی نظریات کی داستان نہیں، بل کہ محنت کشوں کے خوابوں، ادیبوں کی تحریروں، طلبہ کی بغاوتوں اور آمریتوں کے خلاف مزاحمت کی ایک مسلسل جدلیاتی روایت ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں سوشلزم یا اس کی جد و جہد کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، بل کہ ہر ناکامی کے بعد ایک نئے روپ اور نئے ولولے کے ساتھ دوبارہ ابھرتی رہی ہے۔
برصغیر کی آزادی کی تحریک کے اندر ہی طبقاتی شعور کی پہلی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ سامراجی جبر کے خلاف جد و جہد کرتے ہوئے متعدد دانش وروں اور ادیبوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آزادی صرف جھنڈے کی تبدیلی کا نام نہیں، بل کہ معاشی اور سماجی انصاف کے حصول کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اسی فکری بیداری نے ترقی پسند ادب اور مارکسی فکر کو جنم دیا۔ اس سلسلے میں پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کا قیام ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس تحریک نے ادب کو محض جمالیاتی سرگرمی نہیں رہنے دیا، بل کہ اسے طبقاتی شعور اور انقلابی احساس کا ذریعہ بنا دیا۔ سجاد ظہیر اور فیض احمد فیضؔ جیسے اہلِ قلم نے لفظوں کو مزدور کی آہ اور کسان کے دکھ سے جوڑ دیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد سوشلسٹ سیاست کے لیے حالات آسان نہ تھے۔ نئی ریاست سرد جنگ کے عالمی دباو، داخلی عدم استحکام اور نو آبادیاتی ریاستی ڈھانچے کی وارث تھی۔ 1948 عیسوی میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے قیام نے اس بات کی نشان دہی کی کہ ملک کے اندر ایک منظم بائیں بازو کی سیاست موجود ہے، مگر جلد ہی ریاستی جبر نے اسے زیرِ زمین دھکیل دیا۔ راولپنڈی سازش کیس نے اس تحریک کو شدید دھچکا پہنچایا اور سوشلسٹ کارکنان کے لیے سیاسی میدان مزید تنگ ہوتا چلا گیا۔ اس دور میں سوشلزم نظریاتی سطح پر زندہ رہا مگر عملی سیاست میں اس کی گنجایش کم کر دی گئی۔
1960 عیسوی کی دہائی میں جب ایوب خان کے دور کی نام نہاد ترقی نے دولت کے ارتکاز اور طبقاتی تفاوت کو بڑھایا، تو مزدوروں اور طلبہ میں بے چینی پھیلنے لگی۔ کراچی کی فیکٹریوں، لاہور کے تعلیمی اداروں اور ڈھاکہ کی گلیوں میں احتجاج کی لہر اٹھی۔ 1968 عیسوی اور 1969 عیسوی کی عوامی تحریک دراصل ایک طبقاتی بغاوت تھی، جس نے واضح کر دیا کہ آمریت کے خلاف جد و جہد جمہوریت کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف کی جد و جہد بھی ہے۔ اگرچہ یہ تحریک ایک منظم سوشلسٹ انقلاب میں تبدیل نہ ہوسکی، مگر اس نے پاکستانی سیاست کی سمت ضرور بدل دی۔
اسی سیاسی ہلچل کے نتیجے میں 1970 عیسوی کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو ابھر کر سامنے آئے۔ انھوں نے ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگایا اور پاکستان پیپلز پارٹی کو عوامی طاقت کا پلیٹ فارم بنایا۔ صنعتوں کی نیشنلائزیشن، مزدوروں کے حقوق اور زرعی اصلاحات جیسے اقدامات نے یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید پاکستان ایک سوشلسٹ راستے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مگر ریاستی بیوروکریسی، جاگیردارانہ ڈھانچے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے دباؤ نے ان اصلاحات کو محدود کر دیا۔ یوں سوشلزم ایک نعرہ تو بن گیا، مگر ایک مکمل نظام میں ڈھل نہ سکا۔
1977 عیسوی کے مارشل لا نے اس پورے منظرنامے کو بدل دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بائیں بازو کی سیاست کو نہ صرف سیاسی, بل کہ نظریاتی سطح پر بھی نشانہ بنایا گیا۔ طلبہ یونینز پر پابندی، مزدور تحریکوں کا کچلاو اور مذہبی بیانیے کا ریاستی فروغ دراصل طبقاتی سیاست کو کم زور کرنے کی منظم کوشش تھی۔ اس جبر کے نتیجے میں سوشلسٹ کارکنان جَلا وطنی، قید و بند اور خاموشی پر مجبور ہوئے، مگر نظریات زیرِ زمین زندہ رہے۔
1990 عیسوی کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام نے عالمی سطح پر سوشلزم کے بیانیے کو کم زور کیا، جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کو واحد راستہ قرار دیا گیا اور نج کاری، لبرلائزیشن اور مارکیٹ اکانومی کے نام پر عوامی وسائل کی نئی تقسیم شروع ہوئی۔ تاہم اسی دور میں بعض مارکسی دانش وروں اور کارکنان نے نظریاتی سطح پر جد و جہد جاری رکھی، جن میں لال خان، جام ساقی، امام علی نازش اور عبداللہ ملک جیسے نام شامل ہیں۔ ان کا استدلال تھا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ محض سیاسی نہیں، بل کہ معاشی ڈھانچے کا بحران ہے۔
نئی صدی میں جب مہنگائی، بے روزگاری، نج کاری اور طبقاتی عدم مساوات نے شدت اختیار کی، تو سوشلزم کا سوال ایک بار پھر ابھرنے لگا۔ طلبہ یونین کی بہ حالی کی تحریکیں، کسان مارچ، مزدور احتجاج اور سوشل میڈیا پر مارکسی مباحث اس بات کا ثبوت ہیں کہ تاریخ کا یہ دھارا خشک نہیں ہوا۔ آج کا نوجوان جب نجی یونیورسٹیوں کی فیسوں، کنٹریکٹ جابز اور بڑھتی ہوئی معاشی ناانصافی کا سامنا کرتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر اسی سوال کی طرف لوٹتا ہے، جو قیامِ پاکستان کے بعد اٹھایا گیا تھا: کیا سیاسی آزادی معاشی برابری کے بغیر مکمل ہوسکتی ہے؟
پاکستان میں سوشلزم کی جد و جہد کی تاریخ دراصل امید اور ناکامی کے درمیان مسلسل کش مہ کش کی تاریخ ہے۔ یہاں ہر آمریت نے اسے دبانے کی کوشش کی، ہر بحران نے اسے دوبارہ زندہ کیا اور ہر نئی نسل نے اسے اپنے عہد کے مطابق نئے سوالات کے ساتھ اپنایا۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب تک طبقاتی تضادات موجود ہیں، سوشلزم کی فکر بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے گی۔ کیوں کہ یہ محض ایک نظریہ نہیں، بل کہ اس معاشرے کے اُن کروڑوں محنت کشوں کی اجتماعی خواہش ہے، جو ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں، جہاں ترقی کا مطلب چند خاندانوں کی دولت نہیں، بل کہ سب کی خوش حالی ہو۔
ایک منظم نیٹ ورک یا سیاسی جماعت کی عدم موجودگی یقیناً ایک المیہ ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ نوجوان جو موجودہ نظام سے مایوس ہیں، اکثر ’’انصاف‘‘، ’’ریاستِ مدینہ‘‘ جیسے سرمایہ دارانہ نعروں، نسلی نفرت یا جعلی قومی تحریکوں کا ایندھن بن کر ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سوالات اٹھائے جاتے رہیں، تاکہ عام آدمی کو یہ احساس ہو کہ سرمایہ دارانہ نظام دراصل اس کے مفادات کے خلاف ہے اور انسانیت کی حقیقی بھلائی ایک منصفانہ معاشی نظام میں پوشیدہ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔پاکستان میں سوشلزم کی جدوجہد کی تاریخ










