امریکی اسلحہ ساز صنعت… عالمی بدامنی کی جڑ

Blogger Ikram Ullah Arif

سوال ہے کہ کیا ایران کے میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں؟
جواب ہے: ’’نہیں…!‘‘
کیا عراق کی فضائیہ امریکہ یا اسرائیل پر بمباری کرکتی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی ہی میں ہے۔
اور کیا افغانستان فوجی لحاظ سے امریکہ پر حملہ آور ہوسکتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب بھی نفی میں ملتا ہے۔
نائیجیریا اور صومالیہ جیسے ممالک تو کسی شمار قطار میں نہیں۔ اب چلیے، عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ’’پاکستان‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ کیا پاکستان اور امریکہ کے درمیان کبھی ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پاکستان مجبور ہوکر امریکہ پر حملہ کرے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی ہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نہ تو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کبھی اس حد تک خراب ہوئے اور نہ پاکستان کے پاس ایسی طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل صلاحیت موجود ہی ہے، جو بہ راہِ راست امریکہ تک پہنچ سکے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ امریکہ ہی اکثر دوسرے ممالک پر حملہ آور ہوتا ہے؟ جدید دنیا میں سب سے زیادہ جنگیں یا دوسرے ممالک پر فوجی کارروائیاں غالباً امریکہ ہی نے کی ہیں۔ یقیناً اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ وجوہات ضرور ہوں گی۔ اس سوال پر گفت گو سے پہلے موجودہ عالمی حالات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔
اِس وقت ایران پر امریکی اور اسرائیلی دباو بڑھتا جا رہا ہے اور یورپ کے بیش تر ممالک، سپین کے سوا، اس دباو میں کسی نہ کسی حد تک شریک نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف ایران بہ ظاہر تنہا کھڑا ہے، حملے سہہ بھی رہا ہے اور اپنی بساط کے مطابق جواب بھی دے رہا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ تقریباً 40 کے قریب اعلا سول اور فوجی قیادت کے افراد شہید ہوچکے ہیں، مگر اس کے باوجود نہ تو ایران میں رجیم چینج ممکن ہوسکا اور نہ ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعروں میں کوئی تبدیلی ہی آئی۔ کیا ایرانیوں کے لیے یہ کم فتح ہے کہ اتنی قربانیوں کے باوجود وہ بہ دستور ڈٹے ہوئے ہیں؟
اگر ایران کے اندر تہہ در تہہ صیہونی جاسوس موجود نہ ہوتے، تو شاید ایرانی قومی عصبیت، غرور اور تاریخی فخر اتنا کم زور نہ ہوتا کہ ایک اور جنگ کا سامنا نہ کرسکے۔
دوسری طرف نظر ڈالیں، تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بہ دستور جاری نظر آتی ہے۔ بہ ظاہر اب دونوں ممالک کو اپنے مسائل خود ہی حل کرنا ہوں گے، کیوں کہ جو خلیجی یا دیگر ممالک ثالثی کا کردار ادا کرسکتے تھے، وہ بھی اس وقت اپنے اپنے مسائل میں اُلجھے ہوئے ہیں۔
خلیجی ممالک، ایرانی میزائلوں اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث اقتصادی دباو کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس طرح دنیا کے دیگر ممالک کو بھی تیل کی دست یابی اور اس کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات لاحق ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی نے اس کشیدگی کے اثرات کو عالمی سطح تک پھیلا دیا ہے۔
پاکستان عسکری اعتبار سے شاید ایرانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو، مگر آبنائے ہرمز کی بندش نے اسے معاشی طور پر ضرور متاثر کیا ہے۔ گذشتہ جمعہ ہی کو ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں پچاس روپے سے زائد اضافہ کیا گیا۔ اس طرح اگر یہ کشیدگی برقرار رہتی ہے، تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ، حتیٰ کہ ان کی قلت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کوئی حیران کن بات نہیں ہوگی۔ یوں پاکستان اگر عسکری حملوں سے محفوظ بھی ہے، تو معاشی دباو کا مکمل نشانہ بن رہا ہے۔ اس جنگ میں خون تو نہیں بہہ رہا، مگر ملکی معیشت کی رگوں میں دوڑتا ہوا کم زور معاشی خون خشک ہونے کے قریب ہے۔ جب معاشی زندگی اجیرن ہوجائے، تو سماجی زندگی بھی ناسور بننے لگتی ہے۔
اب ہم واپس اس بنیادی سوال کی طرف آتے ہیں کہ امریکہ اکثر اُن ممالک پر حملہ آور کیوں ہوتا ہے، جو اس کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے؟ اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے پہلے الجزیرہ کے جاری کردہ کچھ اعداد و شمار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ الجزیرہ کے مطابق 11 ستمبر 2001 عیسوی کے بعد امریکہ نے کم از کم دس ممالک پر حملے کیے ہیں، جن میں سے 9 ممالک مسلم دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکورہ ممالک میں افغانستان، عراق، یمن، پاکستان، صومالیہ، لیبیا، شام، نائیجیریا، ایران اور وینزویلا شامل ہیں۔
کچھ امریکی صحافیوں کے مطابق ایران کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف کیوبا ہوسکتا ہے۔ یہاں پھر سوال سر اٹھاتا ہے کہ ’’کیوں؟‘‘ تو اس کا جواب دراصل عالمی معیشت کے ایک بڑے مگر کم زیرِ بحث شعبے میں چھپا ہوا ہے… اور وہ ہے اسلحہ ساز صنعت۔
امریکہ اور یورپ میں اسلحے کی صنعت کھربوں ڈالر کی معیشت بن چکی ہے۔ اگر دنیا میں جنگیں نہ ہوں تو یہ صنعت خود بہ خود سکڑنے لگے گی۔ اسی لیے اس صنعت سے وابستہ طاقت ور حلقے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے کم زور اور غریب ممالک میں کشیدگی اور جنگی ماحول پیدا کرتے ہیں، تاکہ جنگوں کا تسلسل برقرار رہے اور اسلحے کی فروخت جاری رہے۔
یوں عالمی سیاست کے پردے کے پیچھے دراصل ایک ایسی معاشی حقیقت موجود ہے، جو جنگ کو صرف سیاسی نہیں، بل کہ کاروباری ضرورت بھی بنا دیتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے