بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ اور تزویراتی تقاضوں نے دورِ حاضر میں مسلم امہ کے روایتی تصور اور جدید ریاست کے مفادات کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا مسلمان دنیا بھر میں ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ایک ایسی قوم ہیں، جس کا درد مشترک ہے، یا پھر اکیسویں صدی کے تقاضے ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ جذباتی وابستگیوں سے بڑھ کر زمینی حقائق اور ’’قومی ریاست‘‘ کا تحفظ مقدم ہے۔ اس بحث نے گذشتہ دو دہائیوں میں ہونے والے عالمی تغیرات کے تناظر میں ایک نئی شدت اختیار کرلی ہے، جہاں نظریات کی پرشور لہریں تلخ حقائق کی چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
تاریخی طور پر مسلم فکر میں ’’امت‘‘ کا تصور ایک ایسی بنیاد رہا ہے، جو جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرنے کی دعوت دیتا ہے، لیکن عملی سیاست کے میدان میں اب یہ تصور ایک خوابیدہ آرزو سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا۔ گذشتہ 20 سالوں کے واقعات پر نظر دوڑائی جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مسلم ممالک کی پالیسیاں اب ’’امت‘‘ کے بہ جائے ’’مفاد‘‘ کے گرد گھومتی ہیں۔ عراق پر امریکی حملے کے وقت پڑوسی مسلم ممالک کا طرزِ عمل اس کی پہلی بڑی مثال تھا۔ اس نازک موڑ پر برادرانہ تعلقات اور مذہبی ہم آہنگی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور تزویراتی ضرورتوں نے ان ممالک کو امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔
یہی صورتِ حال افغانستان کے معاملے میں بھی دیکھی گئی، جہاں پاکستان جیسے ملک کو اپنی جغرافیائی سالمیت اور بقا کی خاطر وہ فیصلے کرنے پڑے، جو بہ ظاہر مذہبی یک جہتی کے بیانیے سے میل نہیں کھاتے تھے۔
آج کے حالات میں بھی یہ تضاد اپنی پوری سنگینی کے ساتھ موجود ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے بادلوں نے خطے کے مسلم ممالک کو ایک بار پھر اسی دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مسلم ممالک اپنی سرزمین، فوجی اڈے اور تزویراتی تعاون کسی ’’امت‘‘ کے تصور کے تحت نہیں، بل کہ اپنے قومی دفاع اور علاقائی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے فراہم کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس نظریے کو تقویت دیتا ہے کہ آج کے دور میں بقا کا واحد راستہ ’’سب سے پہلے اپنا ملک‘‘ کی پالیسی میں پنہاں ہے۔ جب ریاستیں کم زور ہوں اور اُن کی اپنی معیشت اور دفاع دوسروں کے مرہونِ منت ہو، تو وہ کسی بڑے عالمی ایجنڈے کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتیں۔
اس حقیقت پسندی کو بعض حلقے بے حسی یا اخلاقی زوال سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک قوم کے طور پر بالغ نظری کا تقاضا ہے۔ اپنی ترجیحات میں اپنے ملک اور اپنی قوم کو اولیت دینا کسی دوسرے کی مخالفت نہیں، بل کہ خود کو مضبوط کرنے کا ایک عمل ہے۔ ایک کم زور اور داخلی خلفشار کا شکار ملک کسی دوسرے کی مدد تو کیا کرے گا، وہ خود دوسروں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر مسلم قوم پہلے اپنے دفاعی حصار کو ناقابلِ تسخیر بنائے، اپنی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرے اور سماجی طور پر استحکام حاصل کرے۔ جب تک کوئی ملک خود اس پوزیشن میں نہیں آتا کہ وہ عالمی سطح پر اپنی بات منواسکے، اُس وقت تک اُس کی جذباتی پکار محض صدا بہ صحرا ثابت ہوگی۔
مادرِ وطن کی محبت اور اس کے مفادات کا تحفظ کرنا دراصل وہ بنیاد ہے، جس پر کسی بھی قسم کے تعاون کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔ دوسروں کی مدد کا جذبہ اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، لیکن مدد کماحقہ تبھی ہوسکتی ہے، جب بازوؤں میں اپنی سکت ہو۔ جذباتی نعروں سے وقتی طور پر لہو تو گرمایا جاسکتا ہے، مگر بین الاقوامی سیاست کی بساط پر وہی مہرے قائم رہتے ہیں، جو زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ لہٰذا، آج کے دور کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد، معاشی خود کفالت اور قومی مفاد کو مقدم رکھ کر ہی ہم نہ صرف اپنا تحفظ کرسکتے ہیں، بل کہ مستقبل میں دوسروں کے لیے بھی ایک سہارا بن سکتے ہیں۔
حقیقت پسندی کا یہ راستہ کٹھن ضرور ہے، لیکن یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں خوابوں کی دنیا سے نکال کر اس مقام پر لا کھڑا کرے گا، جہاں ہماری آواز میں وزن اور ہمارے فیصلوں میں خود مختاری ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










