خلیج میں دفاعی معاہدے اور اسلامی نظریہ

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

مشرقِ وسطیٰ بالخصوص خلیجی خطہ ایک طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی سیاسی و عسکری حکمتِ عملی کا مرکز رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے اپنی سلامتی کے پیشِ نظر بڑی عالمی طاقتوں، خصوصاً ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے، جن کے نتیجے میں مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈے قائم ہوئے۔ ان معاہدوں کا مقصد یہ بتایا گیا کہ بیرونی خطرات کی صورت میں ان ممالک کا دفاع کیا جائے گا اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جائے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دفاعی معاہدے کسی قوم کی بقا اور تحفظ کی مکمل ضمانت ہو سکتے ہیں؟ حالیہ کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکہ کے مابین تنازع، اور بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے اس سوال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اگر وہ اڈے خود حملوں کی زد میں آجائیں، جو دفاع کی علامت سمجھے جاتے تھے، تو پھر تحفظ کا اصل مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟
اسلامی نظریۂ حیات اس مسئلے کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھتا، بل کہ اسے عقیدے، خود مختاری اور توکل کے تناظر میں پرکھتا ہے۔ اسلام دشمنی یا جنگ کی تعلیم نہیں دیتا، بل کہ امن، عدل اور ذمے دارانہ حکمتِ عملی کا داعی ہے۔ قرآن مجید میں واضح ہدایت موجود ہے کہ اپنی قوت کو اس حد تک مضبوط رکھو کہ دشمن تم پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہ کرے۔ اس اصول کے تحت دفاعی تیاری ایک جائز اور ضروری امر ہے۔
تاہم اسلامی فکر یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اصل بھروسا اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے، نہ کہ محض بیرونی طاقتوں پر۔ اگر کوئی قوم اپنی سلامتی کا مکمل انحصار غیر مسلم یا غیر ملکی قوتوں پر کر دے اور اپنی داخلی قوت، اتحاد اور ایمانی بنیادوں کو نظر انداز کر دے، تو وہ بہ تدریج انحصار اور کم زوری کا شکار ہوسکتی ہے۔ اسلام خود اعتمادی، خود انحصاری اور اجتماعی وحدت پر زور دیتا ہے۔
خلیجی ممالک کے دفاعی معاہدوں کو اگر اسلامی اُصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے، تو چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں:
اوّل:۔ دفاعی تعاون بہ ذاتِ خود ناجائز نہیں، بہ شرط یہ کہ وہ قومی خودمختاری اور اسلامی اقدار سے متصادم نہ ہو۔
دوم:۔ کسی بھی معاہدے میں اصل طاقت اپنی داخلی استحکام، عوامی اتحاد اور اخلاقی قوت ہوتی ہے۔
سوم:۔ خوف کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے دیرپا نہیں ہوتے؛ فیصلے حکمت، بصیرت اور اعتماد پر مبنی ہونے چاہییں۔
موجودہ حالات نے یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ فوجی اڈے اور معاہدے ایک حد تک تحفظ فراہم کرسکتے ہیں، مگر وہ مطلق ضمانت نہیں۔ جب علاقائی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں، تو معاہدات خود تنازع کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان اُسی سرزمین کو ہوتا ہے، جو بڑی طاقتوں کی کش مہ کش کا میدان بن جائے۔
اسلامی نظریہ یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی عزت اور تحفظ کا سرچشمہ ایمان، عدل اور اتحاد میں ہے۔ اگر معاشرے کے اندر عدل قائم ہو، قیادت دیانت دار ہو، اور عوام اپنے رب پر توکل رکھتے ہوں، تو بیرونی خطرات بھی کم زور پڑ جاتے ہیں… لیکن اگر اندرونی انتشار، سیاسی مفادات اور روحانی کم زوری غالب آ جائے, تو جدید ترین اسلحہ بھی بے سود ہو جاتا ہے۔
آج خلیج کے تناظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی عالمی طاقت زیادہ مضبوط ہے…؟ بل کہ یہ ہے کہ مسلم دنیا اپنی داخلی قوت کو کتنا مضبوط کرتی ہے۔ کیا وہ دفاعی معاہدوں کے ساتھ ساتھ فکری، معاشی اور عسکری خود کفالت کی طرف بڑھ رہی ہے, کیا وہ خوف کی نفسیات سے نکل کر اعتماد کی فضا قائم کر رہی ہے…؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے رب کے سامنے جھکنا سیکھ لیتی ہیں، تو دنیا کی طاقتیں بھی ان کا لحاظ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں… لیکن جب خوفِ خدا کی جگہ خوفِ انسان لے لے، تو معاہدے بھی بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خلیجی ریاستیں اور پوری مسلم دنیا دفاعی حکمتِ عملی کو صرف عسکری معاہدوں تک محدود نہ رکھیں، بل کہ اسے ایمانی بیداری، داخلی اتحاد اور خود انحصاری کے ساتھ جوڑیں۔ کیوں کہ اصل تحفظ بیرونی دیواروں سے نہیں، بل کہ مضبوط دلوں اور باوقار کردار سے پیدا ہوتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے