نوجوان ناکام ہے یا سرمایہ دارانہ نظام؟

Blogger Comrade Sajid Aman

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پھر یہ قدرتی بات بن جاتی ہے کہ آج سب سے زیادہ اگر کوئی طبقہ بے یقینی، اضطراب اور خاموش غصے کا شکار ہے، تو وہ یہی طبقہ (نوجوان) ہیں۔ یونیورسٹی کی ڈگری ہاتھ میں ہے، مگر نوکری نہیں۔ ہنر موجود ہے، مگر منڈی نہیں۔ خواہش ہے، مگر مستقبل دھندلا ہے۔ ریاست اس صورتِ حال کو کبھی ’’آبادی کے دباو‘‘ کا نام دیتی ہے، کبھی ’’نوجوانوں کی مہارت کی کمی‘‘ کا… مگر مارکسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو بے روزگاری نوجوانوں کی ناکامی نہیں، بل کہ سرمایہ دارانہ نظام کی ساختی ناکامی ہے۔
مارکس کے مطابق سرمایہ داری میں مزدور (جیسے جدید دور میں تعلیم یافتہ نوجوان مزدور ہے) مزدور کو اُس وقت تک زندہ رکھا جاتا ہے، جب تک وہ منافع پیدا کرے۔ جیسے ہی وہ ’’فالتو‘‘ ہو جائے، نظام اُسے بوجھ قرار دے دیتا ہے۔ مارکس نے اس عمل کو "Reserve Army of Labour” کہا تھا، یعنی بے روزگاروں کی وہ فوج جو سرمایہ دار کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ اجرت کم رکھے، شرائط سخت کرے اور محنت کش کو مسلسل خوف میں مبتلا رکھے۔ آج کا پاکستانی نوجوان اسی فالتو فوج کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام پر قائم ریاست اور کارپوریٹ میڈیا مسلسل نوجوان کو یہ باور کراتے ہیں کہ مسئلہ اس کی ذات میں ہے، ’’آپ کے پاس سکلز نہیں ہیں‘‘، ’’آپ زیادہ تنخواہ مانگتے ہیں‘‘، ’’آپ محنت نہیں کرتے‘‘ و علی ہذاالقیاس…!
یہ بیانیہ دراصل طبقاتی حقیقت پر پردہ ڈالنے کا ہتھیار ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوان کے پاس ہنر کیوں نہیں…؟ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی معیشت کیوں قائم کی گئی ہے، جو لاکھوں نوجوانوں کو جذب ہی نہیں کرسکتی؟ آج پاکستان میں نوکری کا مطلب مستقل روزگار نہیں رہا۔ ’’کنٹریکٹ‘‘، ’’انٹرن شپ‘‘، ’’فری لانسنگ‘‘ اور ’’گیگ اکانومی‘‘۔
سرِ دست گیگ اکانومی کی تعریف بھی ہو جائے: اس (Gig Economy) سے مراد ایک ایسا لیبر مارکیٹ سسٹم ہے، جہاں مستقل ملازمتوں کے بہ جائے عارضی، کنٹریکٹ، یا فری لانس (freelance) کاموں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس میں کارکن کسی کمپنی کا مستقل ملازم نہیں ہوتا، بل کہ پروجیکٹ کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ یہ سب سرمایہ داری کی وہ شکلیں ہیں، جو نوجوان کو وقتی کام تو دیتی ہیں، مگر سماجی تحفظ، یونین اور استحکام سے محروم رکھتی ہیں۔
مارکس کے مطابق یہ استحصال کی جدید صورتیں ہیں، جہاں مزدور کو آزاد دکھا کر دراصل مزید غیر محفوظ بنایا جاتا ہے۔ نوجوان کو کہا جاتا ہے کہ ’’تم خود اپنا برانڈ ہو‘‘، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اکیلا ہے، بے اختیار ہے اور کسی اجتماعی طاقت سے کٹا ہوا ہے۔
تعلیم بھی اب نجات کا ذریعہ نہیں رہی، بل کہ ایک سرمایہ کاری بن چکی ہے۔ نجی جامعات، مہنگی فیسیں، قرض لے کر پڑھنا اور پھر بے روزگاری۔ مارکس کے الفاظ میں یہ اجنبیت (Alienation) کی انتہا ہے۔ نوجوان اپنی محنت، اپنی تعلیم اور حتیٰ کہ اپنے خوابوں سے بھی کٹ جاتا ہے۔ وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ ناکام ’’نظام‘‘ ہے۔
ریاست اس بحران کا جواب روزگار پیدا کرنے سے نہیں، بل کہ ہجرت کے خواب بیچ کر دیتی ہے۔ ’’باہر چلے جاو‘‘، ’’ریمیٹینس بھیجو‘‘، ’’زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھاؤ‘‘، ’’ملک کو خوش حال بناو‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہ دراصل اعتراف ہے کہ یہ نظام اپنے نوجوانوں کو روزگار دینے سے قاصر ہے۔ مارکسی زاویے سے یہ ایک سنگین لمحہ ہے، کیوں کہ جب ایک سماج کا سب سے متحرک طبقہ باہر نکلنے کو ہی نجات سمجھے، تو اندر نظام کی کھوکھلاہٹ عیاں ہو جاتی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں سوشلزم کو آج بھی بدنام کرنا اس لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ سوشلزم نوجوان سے ایک خطرناک سوال پوچھنے کو کہتا ہے… ’’جب مَیں محنت کرتا ہوں، پڑھتا ہوں اور پیدا کرتا ہوں، تو فائدہ کسی اور کو کیوں ہوتا ہے؟‘‘ اور یہی سوال اگر اجتماعی شعور بن جائے، تو پھر انفرادی موٹیویشنل لیکچرز، اسکل ورکشاپس اور وقتی اسکیمیں ناکافی ثابت ہو جائیں گی۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ نوجوان خود جانے بغیر مارکسی سوالات پوچھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر عدم مساوات، کرونی کیپیٹلزم، اشرافیہ کی عیاشی اور عام آدمی کی محرومی پر غصہ اسی شعور کی ابتدائی شکل ہے۔ مگر چوں کہ منظم بائیں بازو کی سیاست اور طلبہ یونینز کو دانستہ ختم کیا جاچکا ہے، اس لیے یہ غصہ اکثر مایوسی، نفرت یا بے سمتی میں بدل جاتا ہے۔
مارکس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بے روزگاری محض روزگار کی کمی نہیں، بل کہ طاقت کے توازن کا سوال ہے۔ جب نوجوان منظم نہیں، جب اُس کے پاس اجتماعی آواز نہیں، تو ریاست اور سرمایہ دونوں بے خوف ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی طلبہ سیاست، یونین سازی اور طبقاتی گفت گو کو خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ نوجوان مایوس کیوں ہے… بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ اُسے مایوس کیوں رکھا جا رہا ہے…؟ کیوں کہ ایک مایوس نوجوان سوال نہیں کرتا، منظم نہیں ہوتا اور نظام کے لیے خطرہ نہیں بنتا… مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جب نوجوان کو مسلسل دیوار سے لگایا جائے، تو وہ یا تو ٹوٹتا ہے یا بدلاو کی قوت بن جاتا ہے۔
پاکستان بھی آج اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ اگر نوجوانوں کو محض لیبر مارکیٹ کا ایندھن سمجھا جاتا رہا، تو بحران گہرا ہوگا… مگر نوجوان نے اگر مارکس کے اس سادہ مگر انقلابی سوال کو سنجیدگی سے لیا کہ کون پیدا کرتا ہے اور کون ہڑپتا ہے…؟ تو سوشلزم کی بدنامی کے باوجود، اس کی روح نئی شکل میں لوٹ آئے گی۔ کیوں کہ تاریخ میں سب سے خطرناک چیز وہ نوجوان ہوتا ہے، جو یہ سمجھ لے کہ اس کی بے روزگاری ذاتی ناکامی نہیں، بل کہ نظام کی شکست ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے