ہیروشیما سے غزہ تک (مختصر جائزہ)

Blogger Fazal Manan Bazda

دنیا میں ہر طاقت ور ملک، یا کسی طاقت ور ملک کا بادشاہ، صدر اور وزیرِ اعظم، کم زوروں کے لیے کسی عذابِ خداوندی سے کم نہیں ہوتا… لیکن اس دورِ جدید میں بھی بعض طاقت ور ممالک دوسروں کو جینے کا حق دینے پر آمادہ نہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں امریکہ نے 6 اور 9 اگست 1945ء کو جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے دو تا تین لاکھ کے درمیان لوگ لقمۂ اجل بن گئے… اور 15 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے۔ امریکہ کے اس اقدام نے انسانیت کی در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ مذکورہ دن انسانی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
امریکہ آج بھی یہ دعوا کرتا ہے کہ وہ انسانیت کا سب سے بڑا علم بردار ہے، حالاں کہ 1945ء میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی اسی کے ہاتھوں ہوئی۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے اور انسانی جانیں بچانے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔
شمالی ویت نام کے خلاف امریکہ کی جنگ نومبر 1955ء سے 1975ء تک جاری رہی۔ اس جنگ میں شمالی ویت نام، چین اور روس ایک طرف جب کہ امریکہ، جنوبی ویت نام، آسٹریلیا، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور نیوزی لینڈ دوسری طرف شامل تھے۔ اس جنگ میں شمالی ویت نام کے تقریباً 11 لاکھ افراد ہلاک اور 6 لاکھ زخمی ہوئے۔ جنوبی ویت نام کے 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد ہلاک اور تقریباً 11 لاکھ 70 ہزار زخمی ہوئے۔ امریکہ کے 58 ہزار 159، جنوبی کوریا کے 4 ہزار 960، لاؤس کے 30 ہزار، آسٹریلیا کے 520، تھائی لینڈ کے 1531 اور نیوزی لینڈ کے 37 فوجی ہلاک ہوئے۔ اتحادی افواج کا مجموعی جانی نقصان 3 لاکھ 15 ہزار 831 رہا، جب کہ زخمیوں کی تعداد تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار تھی۔ اس جنگ میں جنوبی ویت نام کے 15 لاکھ 81 ہزار، کمبوڈیا کے 7 لاکھ، شمالی ویت نام کے 20 لاکھ اور لاؤس کے 50 ہزار شہری مارے گئے۔
لیبیا کے صدر معمر قذافی نے 1987ء میں ایک فوجی افسر خلیفہ حفتر کو چاڈ کے خلاف فوجی کارروائی کی ذمے داری سونپی، مگر وہ شکست کھا کر گرفتار ہوگئے۔ بعد ازاں وہ امریکہ چلے گئے اور بیس سال تک قذافی حکومت کے خلاف سرگرم رہے، جب کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ان کی سرپرستی کرتی رہی۔ امریکہ کی پشت پناہی سے لیبیا میں خونی انقلاب برپا ہوا اور قذافی کو ان کے آبائی شہر سرت کے قریب گرفتار کرکے 20 اکتوبر 2011ء کو قتل کر دیا گیا۔
امریکی مصنف ایس آوان نے اپنے مضمون "The Libya Conspiracy” میں لکھا کہ قذافی کو منظر سے ہٹانے کا مقصد لیبیا کے تیل، پانی اور سونے کے وسائل پر قبضہ تھا۔ قذافی کا ایک ’’جرم‘‘ یہ بھی تھا کہ انھوں نے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے سے انکار کیا تھا۔
امریکہ نے 2003ء میں عراق پر حملہ کیا۔ بش انتظامیہ، خلیجی جنگ (1990-91ء) کے بعد سے عراق کو ایک ’’بدمعاش ریاس‘‘ قرار دیتی رہی۔ امریکہ کا دعوا تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں، تاہم یہ دعوا بعد میں بے بنیاد ثابت ہوا۔ اکتوبر 2002ء میں کانگریس نے صدر کو عراق پر حملے کی اجازت دی، اور 20 مارچ 2003ء کو حملہ کر دیا گیا۔ عراقی صدر صدام حسین کو ’’آپریشن ریڈ ڈان‘‘ کے دوران میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں انھیں پھانسی دے دی گئی۔ اس جنگ میں لاکھوں افراد مارے گئے۔
11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہوئے، جن کا ذمے دار القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو قرار دیا گیا۔ طالبان حکومت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا، لیکن انکار کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں داخل ہوئے اور 20 سال تک جنگ جاری رہی، جس میں لاکھوں افغان شہری مارے گئے۔
حال ہی میں امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات شدید تناو کا شکار رہے، جب کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔
تاریخی اوراق کے مطابق پہلی عالمی جنگ تک فلسطینی علاقے سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھے۔ 1922ء میں لیگ آف نیشنز نے یہ علاقہ برطانیہ کے سپرد کیا، جسے فلسطینی مینڈیٹ کہا گیا۔ 1947ء میں اقوامِ متحدہ نے تقسیمِ فلسطین کی منظوری دی، اور 15 مئی 1948ء کو اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد 1948ء، 1949ء اور 1967ء میں عرب اسرائیل جنگیں ہوئیں، جن میں عرب ممالک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اب تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل پر حملہ کیا گیا، تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت بھی دہرائی۔
ہندوستان نے 1947ء سے کشمیر میں بھاری فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کشمیر کے مسئلے پر تین جنگیں لڑچکے ہیں۔ ہندوستان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے سری لنکا میں ’’تامل ٹائیگرز‘‘ کی حمایت کی۔ گریٹر اسرائیل کے تصور کی طرح بعض حلقوں میں ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا نظریہ بھی زیرِ بحث آتا ہے، جس میں ہمسایہ خطوں کو شامل کرنے کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔
موجودہ عالمی منظرنامے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیاں عالمی سیاست میں شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ عالمی طاقت کی اس جنگ میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے