جمعہ کے دن جب مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں، تو بہ ظاہر حالات پُرسکون اور معمولاتِ زندگی بہ حال ہیں۔ سرحدی علاقوں میں دونوں جانب پہرہ دار چوکس کھڑے ہیں۔ سرحد کے اُس پار کابل میں بھی دن کا آغاز نسبتاً پُرسکون انداز میں ہوا ہے، اگرچہ رات بھر وہاں پاکستانی طیاروں کی بمباری کی اطلاعات گردش کرتی رہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ آیندہ بھی حالات پُرامن رہیں گے۔
طرفین کی جانب سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے سے متعلق متضاد اور غیر مستند دعوے عالمی و مقامی میڈیا میں زیرِ گردش ہیں۔ یہ معاملہ نہ تو اَن ہونی ہے اور نہ پہلی بار ہی پیش آیا ہے، اس لیے اس کی طویل تاریخ دہرانا محض لفظوں کا اسراف ہوگا۔
بلاشبہ اس وقت افغانستان عسکری اعتبار سے کم زور دکھائی دیتا ہے، کیوں کہ پاکستان کی فضائیہ ہر حوالے سے ایک منظم اور مؤثر قوت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم ماضی میں جب افغانستان خود کو برتر سمجھتا تھا، تو باجوڑ پر ’’اسکاڈ میزائل‘‘ باقاعدہ بارش کی طرح برسائے گئے تھے۔ اس پس منظر کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ باہمی بداعتمادی نہ آج کی پیداوار ہے اور نہ نفرتوں کی آب یاری ہی حالیہ برسوں میں ہوئی ہے۔ دونوں جانب ایسے طبقات موجود ہیں، جو جنگی فضا سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان میں عسکریت پسند، حریت پسند، توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے عناصر، مذہبی جنونیت کے حامل گروہ اور کرائے کے کارندے شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان خوں خوار مفادات کے حامل طبقات کے حق میں ہرگز یہ نہیں کہ خطے، بالخصوص دو اسلامی ہمسایہ ممالک میں امن اور خوش حالی کا دور دورہ ہو۔
دونوں طرف سے شکایات کے انبار لگائے جا رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک جانب عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور منظم فوج موجود ہے، اس لیے اس فریق کی شکایات کو عالمی فورمز پر سنا جاتا ہے اور سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں افغانستان میں بعض عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کا ذکر کیا جاتا ہے، جسے پاکستان کے مؤقف کی تائید سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایک ایسا اقتدار ہے، جسے عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا، اور جس کی اندرونِ ملک عوامی تائید بھی محلِ نظر ہے۔ متحد، مستند اور مؤثر فضائی قوت کی عدم موجودگی بھی اس فریق کی کم زوری تصور کی جاتی ہے۔
تاہم دونوں ممالک میں ایک قدرِ مشترک ضرور پائی جاتی ہے: عقیدہ، رسم و رواج اور مذہبی وابستگی میں نمایاں مماثلت۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں جب دونوں فریق ایک دوسرے پر گولہ باری کر رہے تھے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدائیں دونوں اطراف بلند ہو رہی تھیں۔ دونوں جانب عسکری کارروائیوں کو مذہبی اصطلاحات کے ساتھ جوڑ کر خود کو برحق اور مخالف کو باطل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی… لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہوئی؛ البتہ اس نے مزید مسائل کے لیے وسائل ضرور فراہم کیے ہیں۔ جدید جنگوں میں مکمل فتح اور قطعی شکست کے پیمانے بھی بدل چکے ہیں۔ اب نقصان ہر فریق کو ہوتا ہے، فرق صرف کم یا زیادہ کا رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ عسکری لحاظ سے کم زور فریق کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اس تناظر میں حالات سب پر عیاں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر جنگ حل نہیں، تو پھر کیا ممکن ہے؟ بنیادی نکتہ یہی ہے کہ مسئلے کی جڑ کو تسلیم کیا جائے۔ افغان قیادت اور وہاں برسرِ اقتدار گروہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب پاکستان سمیت عالمی ادارے یہ کَہ رہے ہیں کہ افغان سرزمین پر بعض عسکریت پسند گروہ منظم ہو رہے ہیں، جو خطے اور دیگر ممالک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، تو ان خدشات کو محض ضد یا ردِعمل کے خانے میں ڈال دینا دانش مندی نہیں۔
اگر ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی، تو عالمی برادری کو مداخلت کا جواز مل سکتا ہے… اور یہ مداخلت کیا صورت اختیار کرے گی؟ اس کا تلخ تجربہ عام افغان عوام پہلے ہی کرچکے ہیں بمباری، جانوں کے ضیاع، غربت اور ہجرت کی شکل میں۔ کیا ایک بار پھر وہی منظر دہرایا جانا چاہیے؟
دوسری طرف پاکستان کو بھی ہر اقدام اور ردِعمل سے پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں وسیع تر عالمی کھیل کے تناظر میں اس کے گرد انتشار کی فضا تو پیدا نہیں کی جا رہی، ایسے کسی تصادم کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے؟ ہمسایوں سے مستقل کشیدگی معمول کی زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔
کیا نارمل اور پُرامن زندگی کے لیے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ تلاش نہیں کیا جاسکتا؟ اصل ضرورت یہی ہے کہ جذباتی ردِعمل کے بہ جائے تدبر، سفارت کاری اور سنجیدہ مکالمے کو موقع دیا جائے، تاکہ خطہ ایک اور تباہ کن دور سے محفوظ رہ سکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










